Screenshot_2025_0709_042642

جامعہ کراچی میں جاری شدید انتظامی بحران کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شیخ الجامعہ پروفیسر خالد عراقی کی چین جانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح پیغام دے دیا ہے کہ جب تک یونیورسٹی میں جاری احتجاج، ہڑتال اور امتحانات میں رکاوٹوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس وقت تک بیرون ملک دورے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے وائس چانسلر کی درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ پہلے اساتذہ اور ملازمین کے تحفظات دور کریں، احتجاج ختم کرائیں اور طلبہ کے تعلیمی عمل کو معمول پر لائیں۔ صورتحال بہتر ہونے کے بعد ہی ان کی چین روانگی کی درخواست پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے جامعہ کراچی میں اساتذہ اور ملازمین ہاؤس سیلنگ، مختلف الاؤنسز اور دیگر مالی مراعات کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج اور ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس احتجاج کے باعث متعدد امتحانات ملتوی ہو چکے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جامعہ کے اندرونی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کے اس فیصلے کو وائس چانسلر کے لیے ایک واضح وارننگ تصور کیا جا رہا ہے کہ انتظامی معاملات کو نظرانداز کر کے غیر ملکی دوروں کو ترجیح دینا قابل قبول نہیں۔

یاد رہے کہ پروفیسر خالد عراقی کی بطور شیخ الجامعہ مدتِ ملازمت رواں سال جولائی کے آخری ہفتے میں مکمل ہو رہی ہے۔

دوسری جانب سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے اشتہار بھی جاری کر چکا ہے۔

سیاسی اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے اس غیر معمولی اقدام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت طلبہ کے تعلیمی مستقبل، امتحانات کے بروقت انعقاد اور جامعہ کراچی کے انتظامی استحکام پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے