جامعہ کراچی کا شعبہ مالیات سوالات کی زد میں، من پسند کمپنیوں کو ٹھیکے ، ایڈہاک ملازمین کے ذریعے مالی نظام چلایا جانے لگا۔
ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی میں مالی سال 2023-24 کے دوران نئے ڈائریکٹر فنانس کی تقرری کے لیے Institute of Business Administration کے ذریعے ٹیسٹ اور انٹرویوز کرائے گئے۔ اس عمل میں Higher Education Commission اور دیگر قومی اداروں سے تعلق رکھنے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور تجربہ کار امیدواروں نے حصہ لیا۔ موجودہ ڈائریکٹر فنانس سید جہانزیب اس وقت آئی بی اے میں خدمات انجام دے رہے تھے اور اسی شعبے سے وابستہ تھے جسے بھرتی کے عمل کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد انہیں جامعہ کراچی کا ڈائریکٹر فنانس مقرر کر دیا گیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تقرری کے فوری بعد ڈائریکٹر فنانس کو رہائش گاہ الاٹ کی گئی اور اس کی تزئین و آرائش کے لیے خصوصی فنڈز جاری کیے گئے۔ اسی دوران جامعہ کے انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ERP) منصوبے کے نام پر کنٹریکٹ بنیادوں پر متعدد بھرتیاں کی گئیں، جن میں مبینہ طور پر میرٹ اور تعلیمی قابلیت کو پس پشت ڈال دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بعض ملازمین کو 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا، جبکہ چند من پسند افراد کو ایک لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ تک کے معاوضے دیے گئے۔ بعد ازاں انہی افراد کو ERP منصوبے سے نکال کر شعبۂ مالیات اور دیگر کلیدی انتظامی شعبوں میں تعینات کر دیا گیا، جہاں انہیں اہم مالی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔



ذرائع کے مطابق شعبۂ مالیات میں این کے کمپیوٹر، کاشف برادرز، کانٹینینٹل، زیب انٹرپرائز اور عبید انٹرپرائز جیسی چند مخصوص کمپنیوں کے درمیان ہی بیشتر ٹینڈرز گردش کرتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں این کے کمپیوٹر کو غیر معمولی ترجیح دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
الزام ہے کہ کمپیوٹرز، کاغذ اور دیگر دفتری سامان کی خریداری میں پیپرا اور سیپرا قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض معاملات میں ٹینڈر کے باقاعدہ مراحل مکمل ہونے سے قبل ہی ادائیگیاں جاری کر دی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدا میں یہ معاملات محفوظ اور حبیب اللہ کے زیر نگرانی تھے۔ بعد ازاں پرچیز افسر ارشد کو ایل پی آر پر بھیج دیا گیا، جبکہ گزشتہ دو سے تین ماہ سے عبدالصمد کو خریداری کے عمل کی نگرانی سونپی گئی ہے۔اسی طرح ایڈہاک بنیاد پر بھرتی کیے گئے انیس کو معظم کی جگہ اہم ذمہ داری دے دی گئی ہے، جس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
جامعہ کراچی اس وقت شدید مالی بحران، اساتذہ و ملازمین کے احتجاج اور ہڑتالوں کا سامنا کر رہی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈمن بلاک میں من پسند افسران اور ملازمین کو نوازنے اور مخصوص کمپنیوں کو ٹھیکے دلانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تو جامعہ کراچی کے مالی معاملات سے متعلق مزید اہم حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔