Screenshot_2026_0512_020028

ایبٹ آباد کی عدالت نے صحافی حارث ایوب سواتی کو پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے اور دورانِ حراست مبینہ تشدد کے معاملے میں ایک تاریخی حکم جاری کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے افسران کے خلاف مکمل اور غیرجانبدار تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی حلقوں کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں NCCIA کے اہلکاروں کے خلاف باضابطہ انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

ہری پور سے تعلق رکھنے والے صحافی حارث ایوب سواتی کے خلاف 22 اپریل 2026 کو NCCIA ایبٹ آباد نے ضلعی پولیس افسر ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور کی درخواست پر انکوائری شروع کی۔ حارث سواتی نے ایک ایسے شخص کا انٹرویو نشر کیا تھا جس نے پولیس تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم، حیران کن طور پر صحافی کو انکوائری کے سلسلے میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

5 مئی کو NCCIA ایبٹ آباد نے مقدمہ نمبر 44/2026 درج کرنے کے بعد حارث سواتی کو ہری پور سے مبینہ طور پر ایک سیاہ رنگ کی گاڑی میں حراست میں لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران قریبی دکانوں کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی اتار لیے گئے تاکہ گرفتاری کا ریکارڈ محفوظ نہ رہ سکے۔

حارث سواتی کو پہلے ہری پور سٹی تھانے منتقل کیا گیا جہاں مبینہ طور پر سول کپڑوں میں موجود افراد اور پولیس اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں سرائے صالح تھانے سے وابستہ ایک اہلکار نے بھی مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا۔ رات گئے NCCIA ایبٹ آباد کی حوالات میں بھی انہیں جسمانی تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ان کی کمر، پیٹھ اور بائیں کان پر نمایاں زخم آئے۔

6 مئی کو انہیں سینئر سول جج و اسپیشل مجسٹریٹ FIA/NCCIA ایبٹ آباد مجیب الرحمن کے روبرو پیش کیا گیا۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہ ہوا، جبکہ NCCIA نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ عدالت نے ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فوری میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا اور صحافی کو جیل بھیج دیا۔

خصوصی میڈیکل بورڈ نے اپنے معائنے میں جسمانی تشدد کے واضح شواہد کی تصدیق کی۔ 7 مئی کو حارث سواتی نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں دورانِ حراست NCCIA کے افسران نے جسمانی تشدد اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ BBS ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے خصوصی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ درخواست گزار پر واقعی جسمانی تشدد کیا گیا۔ عدالت نے اس درخواست کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 200 کے تحت شکایت قرار دیتے ہوئے تشدد اور حراستی موت (روک تھام و سزا) ایکٹ 2022 کی دفعہ 5 کے تحت FIA کو تحقیقات کا حکم دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ تحقیقات نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی نگرانی میں کی جائیں گی اور مکمل رپورٹ 21 مئی 2026 سے قبل عدالت میں جمع کرانا ہوگی۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد مقدمہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایبٹ آباد کو منتقل کیا جائے گا، جہاں قانون کے مطابق بغیر غیرضروری التوا کے 30 روز کے اندر ٹرائل مکمل کیا جائے گا۔

تحقیقات ڈاٹ کام نے اس معاملے پر NCCIA کے مرکزی ترجمان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نجیب الحسن سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس بارے میں موقف ہیڈکوارٹر سے لیا جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بطور مرکزی ترجمان کیا وہ ادارے کا مؤقف فراہم نہیں کریں گے، تو انہوں نے مزید کوئی جواب نہیں دیا۔

اگر NCCIA یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس حساس اور اہم مقدمے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آیا تو اسے اسی خبر میں شامل کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے