Screenshot_2026_0507_153058

ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور انجمن اساتذہ ،افیسرز یونین اور ایمپلائز یونین جامعہ کراچی کے درمیان مزاکرات میں عملی طور پر وائس چانسلر خالد عراقی غیر فعال ہوگئے ،

ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں مزاکرات کے دوران وائس چانسلر اور ڈائریکٹر فنانس جامعہ کراچی بھی اسی عمارت میں موجود تھے تاہم انہیں مزاکرات سے دور رکھا گیا ۔

انجمن اساتذہ نے جامعہ کراچی میں مالی بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا مطالبہ کیا جبکہ اس مزاکرات کے دوران وائس چانسلر خالد عراقی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی جو قبول نہیں ہوئی ۔

عید قربان کے بعد اساتزہ ملازمین اور آفیسرز کے احتجاج بھی شدت اختیار کرگیا ہے اس دوران جامعہ کراچی میں والدین کے نام سے جاری ایک خط نے بھی صورتحال کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔

منگل کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن کے زریعے جامعہ کراچی میں جاری احتجاجی تحریک اور اس کے زریعے مالی مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔اس کمیٹی کے اراکین میں چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن بطور کنوینر شامل ہوں گے جبکہ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ، سیکریٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن، صدر کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی غفران عالم ، صدر ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن زاہد بلوچ ، آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر فیصل ہاشمی اراکین میں شامل تھے۔کمیٹی بنائے گئے ٹرم آف ریفرنسز کے تحت جامعہ کراچی کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور شکایات کا جائزہ لے گی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ فریقین سے مشاورت کی جائے گی۔ کمیٹی 40 دن کے اندر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔

اس ضمن میں تحقیقات ڈاٹ کام نے انجمن اساتذہ کے صدر غفران عالم سے رابطہ کیا اور مزاکرات کے بعد کی صورتحال پر گفتگو کی تو انہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملات حل ہوں گے تاہم ہماری باڈی نے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ موجودہ وائس چانسلر کے روئیے سے واضح ہے کہ وہ معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں اور یہ ہی مسائل میں اضافہ بھی کررہے ہیں ۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں مزاکرات کے دوران وائس چانسلر خالد عراقی کی موجودگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ دوسرے کمرے میں تھے لیکن ان کی موجودگی میں مزاکرات نہیں ہوسکتے تھے اس لئے انہیں دور رکھا گیا ہے ۔

غفران عالم نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ہمارا پہلے دن سے مطالبہ ہے کہ خالد عراقی جب سے تعینات ہیں اس وقت سے مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کہ۔جائیں ۔

تحقیقات ڈاٹ کام نے غفران عالم سے سوال کیا کہ ان مزاکرات کے دوران وائس چانسلر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ؟تو انہوں نے کہا کہ ان مزاکرات میں یہ بات بھی آئی تھی کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے تاہم یہ مطالبہ منظور نہیں ہوا ہے ۔

دوسری جانب عید قربان کے بعد جامعہ کراچی میں اساتذہ ،آفیسرز اور ملازمین کے احتجاج میں سوشل میڈیا پر ایک لیٹر گردش کرنے لگا جس میں اس احتجاجی تحریک پر کافی تنقید اور اعداد و شمار پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور سندھ حکومت سے مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔

خط کے متن کے مطابق جامعہ کراچی میں جاری ہڑتال اور سمسٹر امتحانات کے بائیکاٹ کو روکنے کے لیے سرکاری کردار ادا کرنے کی درخواست، جو طلبہ کے مستقبل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور والدین کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بن رہا ہے۔

والدین کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں جامعہ کراچی میں اساتذہ اور ملازمین کی طویل ہڑتال اور سمسٹر امتحانات کے بائیکاٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ طلبہ سے سمسٹر فیس اور امتحانی فیس وصول کی جا چکی ہے جبکہ اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہیں باقاعدگی سے مل رہی ہیں، اس لیے امتحانات کے انعقاد سے انکار کی کوئی قانونی یا اخلاقی بنیاد موجود نہیں۔

والدین نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران طلبہ پہلے ہی تعلیمی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے۔ جب طلبہ نے امتحانات کی تیاری مکمل کی تو اساتذہ اور ملازمین نے ہڑتال اور امتحانی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا، جس سے طلبہ اور ان کے اہل خانہ شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہو گئے۔

خط میں دعویٰ کیا گیا کہ احتجاج کی بنیادی وجہ ہاؤس سیلنگ میں اضافے اور چھ ماہ کے بقایاجات کے ساتھ لیو انکیشمنٹ کی ادائیگی کا مطالبہ ہے۔ والدین کے مطابق وفاقی حکومت نے نومبر 2025 میں ہاؤس سیلنگ میں 85 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن تو جاری کیا، تاہم اس کے لیے مطلوبہ فنڈز جامعہ کراچی کو فراہم نہیں کیے گئے اور سندھ حکومت نے بھی اس اضافے کو تاحال منظور نہیں کیا۔

خط میں کہا گیا کہ لیو انکیشمنٹ بھی ایسا مالی فائدہ ہے جو بجٹ میں شامل نہیں، لہٰذا حکومتی منظوری کے بغیر اس کی ادائیگی قانونی طور پر ممکن نہیں۔ والدین نے موجودہ وائس چانسلر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی اور کورونا وبا کے دوران طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

والدین نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو جامعہ کراچی اس امید کے ساتھ بھیجا تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ایک ذمہ دار شہری بنیں گے، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہڑتالوں، کلاسوں اور امتحانات کے بائیکاٹ نے ان توقعات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

خط میں دعویٰ کیا گیا کہ سندھ اور پاکستان کی دیگر جامعات معمول کے مطابق امتحانات منعقد کر رہی ہیں جبکہ جامعہ کراچی واحد ادارہ ہے جہاں ہاؤس سیلنگ اور لیو انکیشمنٹ کے معاملات پر امتحانات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ تدریسی اور غیر تدریسی تنظیمیں اپنے آئین اور قانونی دائرہ اختیار کے تحت یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں مداخلت یا ہڑتال، احتجاج، جلوس اور بائیکاٹ کی مجاز نہیں ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ سرکاری ملازمین کے لیے نافذ قواعد کے تحت سیاسی، مذہبی یا سماجی گروہوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور ادارے پر دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاجی مہم چلانا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ والدین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض سرگرمیاں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت قابلِ گرفت بھی ہو سکتی ہیں۔

خط میں الزام عائد کیا گیا کہ چانسلر سیکریٹریٹ، چیف سیکریٹری سندھ، محکمہ جامعات و بورڈز، وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ ادارے ان مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود خاموش تماشائی بنے رہے اور مؤثر کارروائی نہیں کی۔

والدین نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تقریباً 20 برس سے لیو انکیشمنٹ بغیر مناسب قانونی اور مالی منظوری کے ادا کی جاتی رہی۔
اس عمل سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
بعض تدریسی تقرریاں ماضی کی تاریخوں سے ظاہر کرکے مالی فوائد دیے گئے۔تدریسی عملے کی حاضری کے لیے بائیومیٹرک نظام نافذ نہیں کیا گیا۔بعض معاملات آڈٹ قواعد اور مالی ضوابط سے متصادم ہیں۔

والدین نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔احتجاج اور امتحانی بائیکاٹ میں شریک ملازمین اور اساتذہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔

سرکاری اوقات میں احتجاج کرنے والوں کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے۔ماضی میں دیے گئے غیر قانونی بقایاجات اور مالی فوائد کی وصولی کی جائے۔لیو انکیشمنٹ کی مبینہ غیر قانونی ادائیگیوں کا جائزہ لے کر ریکوری کی جائے۔شام کے پروگراموں میں تدریس کے لیے بے روزگار اور اہل افراد کو مواقع فراہم کیے جائیں۔
تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے لیے بائیومیٹرک حاضری لازمی قرار دی جائے۔

خط کے آخر میں والدین نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ سندھ ان کے مطالبات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جن سے طلبہ کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

خط پر "جامعہ کراچی کے متاثرہ طلبہ کے والدین اور اہل خانہ” کے نام درج ہیں، جبکہ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وہ اپنے نام اور رابطے ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے بچوں کو ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جامعہ کراچی کے مختلف حلقوں میں گردش کرنے والے اس خط کے مندرجات اشارہ کر رہے ہیں کہ جامعہ کراچی کی اس صورتحال میں ایک تیسری قوت بھی متحرک ہے جو اس احتجاجی تحریک اور وائس چانسلر کے روئیے کے برخلاف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے