Screenshot_2025_0709_042642

جامعہ کراچی میں جاری مالی بحران، اساتذہ و ملازمین کی احتجاجی تحریک اور انتظامی بے یقینی نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک خودمختار جامعہ، جو حکومتی گرانٹس بھی حاصل کرتی ہے، آخر ایسی صورتحال تک کیسے پہنچی جہاں اضافی مراعات اور الاؤنسز کے مطالبات کو ادارے کی مالی بقا کے لیے خطرہ قرار دیا جارہا ہے؟

تحقیقات ڈاٹ کام کی جانب سے گزشتہ دس برس کے مالی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور آڈٹ اعتراضات کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ بحران کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں سے جاری مالی بے احتیاطیوں، متنازع مراعاتی اسکیموں، کمزور مالی منصوبہ بندی اور انتظامی ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔جو اچھے ٹیچرز اور برے ٹیچرز ،اچھے افسران و برے افسران اور اچھے ملازمین اور برے ملازمین کی واضح نشانی بیان کر رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں ایک سابق وائس چانسلر کی موجودہ وائس چانسلر اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ سرد جنگ کا بھی شاخسانہ ہے۔

تحقیقات ڈاٹ کام نے حالیہ دنوں میں جامعہ کراچی کے اساتذہ ،افسران و ملازمین کی احتجاجی تحریک کے دوران امتحانات کے بائیکاٹ پر اعتراضات سامنے آئے اور خود جامعہ کراچی میں ڈین منیجمنٹ ،ڈین سائنسسز اور ڈین سوشل سائنسز نے امتحانات بائیکاٹ کے فیصلے کو مسترد کیا اور طلبہ و طالبات کے امتحانات کا انعقاد کیا جب کہ ڈین فارمیسی ،اسلامک اسٹڈیز سمیت دیگر میں امتحانات ملتوی رہے جس سے جامعہ کراچی میں واضح تقسیم کے اشارے ملتے ہیں ۔

تحقیقات ڈاٹ کام کو جامعہ کراچی میں شعبہ ٹرانسپورٹ کے اعداد وشمار موصول ہوئے ہیں جس میں پیٹرولیم مصنوعات میں دس برس کے دوران کیا کیا اخراجات ہوئے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ انجمن اساتذہ کے سابق رہنما شاہ علی القدر آج سے دس برس قبل ٹرانسپورٹ کے انچارج تھے تو ان کی سربراہی میں جب جامعہ کراچی میں سسمٹر امتحانات کی چھٹیاں ہوتی تھیں اس زمانے میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کا بل کم نہیں ہوتا تھا پھر ایسسویٹ پروفیسر ضامن ٹرانسپورٹ انچارج بنے ،جامعہ کراچی کے جاری اعداد وشمار کے دستاویزات کے مطابق 2019 میں پیٹرولیم مصنوعات کے اخراجات میں کمی شروع ہوگئی تاہم وائس چانسلر اور ان کی انتظامی نااہلی کے باعث یہ کمی زیادہ عرصہ چل نہیں سکی۔

اس تمام معاملے کا سب سے اہم پہلو 28 جون 2022 کا وہ خط ہے جو ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ کے دفتر نے جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو ارسال کیا تھا۔ اس خط میں ٹائم اسکیل، اعلیٰ تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر ترقی اور ریٹائرمنٹ سے قبل اگلے گریڈ میں ترقی جیسی اسکیموں پر نہایت سخت اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔

آڈٹ حکام نے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ جامعہ کراچی حکومت سندھ کے بنیادی پے اسکیل سسٹم کا حصہ ہے، اس لیے وہ اپنی مرضی سے ایسے مالی فوائد اور ترقیاتی ڈھانچے متعارف نہیں کراسکتی جو حکومتی قواعد سے متصادم ہوں۔ مزید یہ کہ ان اسکیموں کے مالی اثرات، فنڈنگ ذرائع اور قانونی جواز بھی واضح نہیں کیے گئے تھے۔

خط میں غیر معمولی طور پر یہ بھی کہا گیا تھا کہ خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ ادارے کے منتظمین اور ملازمین اپنے لیے اضافی مراعات اور مالی فوائد کے راستے کھول لیں۔ آڈٹ حکام نے اسے مفادات کے ٹکراؤ کی سنگین مثال قرار دیا تھا۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آڈٹ حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ اگر ایسی اسکیموں کی اجازت دی گئی تو ملک کی دیگر جامعات اور خودمختار ادارے بھی انہی مراعات کا مطالبہ کریں گے، جس سے قومی خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب جامعہ کراچی میں جاری احتجاجی تحریک نے ادارے کے اندر موجود تقسیم کو بھی نمایاں کردیا ہے۔ امتحانات کے بائیکاٹ کے معاملے پر مختلف فیکلٹیز کے ڈینز کے متضاد فیصلوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ انتظامیہ اور تدریسی قیادت ایک ہی صفحے پر موجود نہیں۔

مالی بحران کے اس پورے منظرنامے میں ایک اور اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا جامعہ کراچی کے اہم فیصلے واقعی جامعہ کے اندر ہورہے ہیں یا پھر بعض بااثر سابق عہدیدار اور مفاداتی گروہ اب بھی پس پردہ پالیسی سازی پر اثرانداز ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو حالیہ بحران کے دوران ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے کردار اور اختیارات پر بھی نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔

دستیاب ریکارڈ، آڈٹ اعتراضات اور موجودہ حالات کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ جامعہ کراچی کا بحران صرف فنڈز کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ گورننس، احتساب، مالی نظم و ضبط اور پالیسی سازی کی ناکامیوں کی ایک طویل داستان ہے، جس کے اثرات آج پورا ادارہ بھگت رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے