Screenshot_2026_0722_231807

کسٹمز ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ کی خصوصی عدالت نے دینار انڈسٹریز کے مالک آصف دینار شیخ اور دیگر ڈائریکٹرز کو 5 برس کی سزا اور 4 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے ۔

عدالت نے دو علیحدہ علیحدہ مقدمات میں اپنا فیصلہ سنایا ہے ایک مقدمے میں آصف رزاق دینار کو عدم شواہد کی بناء پر بری کیا گیا جبکہ دوسرے مقدمے میں انہیں سزا سنائی گئی ہے ۔

ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (EFS) کے تحت ڈیوٹی اور ٹیکس سے مستثنیٰ درآمدی خام مال کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق پوسٹ کلیئرنس آڈٹ (PCA) کی تحقیقات پر خصوصی عدالت کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ-II کراچی نے دو اہم مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے دو کمپنیوں کے تین ڈائریکٹرز کو مختلف دفعات کے تحت پانچ، پانچ سال قید بامشقت اور مجموعی طور پر چار کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی، جبکہ ایک مقدمے میں تین شریک ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔

Screenshot 2026 0722 232251
Screenshot 2026 0722 232232
Screenshot 2026 0722 232213
Screenshot 2026 0722 232155

کسٹم اینڈ ٹیکسیشن کی خصوصی عدالت کی جج ڈاکٹر شبانہ وحید نے 22 جولائی 2026 کو کیس نمبر 72 آف 2025 (FIR No. 05/2025-PCA) اور کیس نمبر 182 آف 2025 (FIR No. 20/2024-PCA) کے تفصیلی فیصلے جاری کیے۔

عدالت نے ایم/ایس ایم ڈی انڈسٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے مالک و ڈائریکٹر عبدالقادر میمن کو قصوروار قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ انہوں نے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمد کیے گئے تقریباً 1,419 میٹرک ٹن ڈیوٹی فری خام مال کا ریکارڈ اور حساب پیش نہیں کیا۔

پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی تحقیقات کے مطابق اس مبینہ بے ضابطگی سے قومی خزانے کو تقریباً 33 کروڑ 30 لاکھ روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس کا نقصان پہنچا۔

عدالت نے عبدالقادر میمن کو مختلف دفعات کے تحت پانچ سال قید بامشقت، دو کروڑ روپے جرمانہ اور دیگر سزائیں سنائیں، جبکہ شریک ملزمان سلمان علی ستار، آصف رزاق دینار اور محمد علی لطیف کو شواہد ناکافی ہونے پر بری کر دیا۔

دینار انڈسٹریز کیس میں حب فیکٹری سے درآمدی خام مال غائب، مقامی بیٹری اسکریپ استعمال ہونے کا انکشاف
دوسرے مقدمے میں عدالت نے ایم/ایس دینار انڈسٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز آصف رزاق دینار اور محمد علی لطیف کو مجرم قرار دیا۔

دستاویزات کے مطابق کمپنی نے SRO 957(I)/2021 اور ای ایف ایس کے تحت سیمی فنشڈ لیڈ اِنگٹس ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیے بغیر درآمد کیے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق 18 دسمبر 2024 کو حب، ضلع لسبیلہ میں قائم فیکٹری میں پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کے دوران درآمد شدہ ڈیوٹی فری خام مال موجود نہیں تھا، جبکہ فیکٹری میں مقامی طور پر حاصل کردہ بیٹری اسکریپ بطور خام مال استعمال کیا جا رہا تھا۔ ملزمان درآمدی خام مال کا کوئی تسلی بخش حساب یا قانونی ریکارڈ پیش نہ کر سکے۔

عدالت نے دونوں ڈائریکٹرز کو مختلف دفعات کے تحت پانچ، پانچ سال قید بامشقت اور ایک، ایک کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ۔

دونوں فیصلوں میں عدالت نے قرار دیا کہ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی تحقیقات، انوینٹری رپورٹس، اسٹاک ویری فکیشن، درآمدی ریکارڈ اور دیگر دستاویزی شواہد استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

دینار انڈسٹریز کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ جرم کے مادی عناصر (Actus Reus) اور مجرمانہ نیت (Mens Rea) دونوں ثابت کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ ایم ڈی انڈسٹریز کیس میں عدالت نے درآمدی خام مال کا حساب نہ دینے اور قانونی ریکارڈ محفوظ نہ رکھنے کو کسٹمز قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق ایک ہی روز سنائے گئے یہ دونوں فیصلے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (EFS) کے تحت ڈیوٹی فری درآمدات کی نگرانی اور پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی کارروائیوں کے حوالے سے اہم عدالتی نظائر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فیصلوں سے یہ پیغام بھی سامنے آیا ہے کہ ڈیوٹی فری درآمدی خام مال کا ریکارڈ محفوظ نہ رکھنے، اس کا حساب پیش نہ کرنے اور اسکیم کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر کسٹمز ایکٹ کے تحت سخت فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے