Screenshot_2026_0726_135415

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) مبینہ طور پر دنیا بھر کے اسپتالوں میں استعمال ہونے والے طبی آلات (Refurbished Medical Devices) کی پاکستان میں درآمد کی منظوری دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف طبی ماہرین بلکہ قانونی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق یہ اقدام انسانی جانوں کے تحفظ، انفیکشن کنٹرول اور طبی معیار سے متعلق کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈریپ نے پہلے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی رولز 2017 میں خاموشی سے شق 75 اور شق 76 شامل کیں اور اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت آئینی درخواست نمبر 2449/2026 کو بنیاد بنا کر 27 جولائی 2026 کو ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں استعمال شدہ طبی آلات کی منظوری کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپریل 2022 میں جاری ایک ایس آر او کی بنیاد پر رولز میں دو نئی شقیں شامل کی گئیں، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس ایس آر او کو وفاقی کابینہ، وزارتِ قومی صحت یا مجاز سیکریٹری کی باضابطہ منظوری حاصل تھی؟

قانونی ماہرین کے مطابق اگر قواعد میں اس نوعیت کی ترمیم مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر کی گئی ہو تو اس کی قانونی حیثیت خود ایک اہم سوال بن سکتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق شق 76 ایسے طبی آلات کی درآمد کی اجازت سے متعلق ہے جو بیرون ملک اسپتالوں میں پہلے ہی استعمال ہو چکے ہوں۔ ناقدین کے مطابق اگر اس شق پر عملدرآمد شروع ہو گیا تو مستقبل میں یورپ، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے اسپتالوں میں استعمال ہونے والے آئی سی یو، سی سی یو، آپریشن تھیٹر اور دیگر حساس طبی آلات کم قیمت پر پاکستان منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے آلات کی درآمد سے انفیکشن کنٹرول، جراثیم کی منتقلی، آلات کی کارکردگی اور مریضوں کی حفاظت جیسے معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، اگرچہ ان خدشات کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ درآمد کی صورت میں کن حفاظتی معیارات اور جانچ کے نظام کو لازمی قرار دیا جاتا ہے۔اگر بعد میں کوئی نقص سامنے آیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی آلات میں بعض اوقات کئی برس بعد مینوفیکچرنگ نقص سامنے آتے ہیں۔ ایسے حالات میں اصل کمپنی بیرون ملک اسپتالوں کو تو ری کال نوٹس جاری کر دیتی ہے، لیکن اگر وہی آلات کم قیمت پر پاکستان منتقل ہو چکے ہوں تو ان کی نشاندہی، ٹریسنگ اور واپسی ایک انتہائی مشکل مرحلہ بن سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ناقدین اس پالیسی کو مریضوں کی سلامتی کے حوالے سے ایک حساس معاملہ قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ سرنج اسکینڈل میں بھی او ای ایم (OEM) ماڈل کے تحت ایک ہی مینوفیکچرر کی مصنوعات مختلف کمپنیوں کے نام سے رجسٹر ہونے کے باعث اصل سپلائر کی شناخت اور ٹریسنگ مشکل ہو گئی تھی۔

یہ بھی الزام سامنے آیا کہ بعض مصنوعات کو مطلوبہ بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے بغیر رجسٹر کیا گیا، جس سے بعد ازاں نگرانی اور جوابدہی کا نظام متاثر ہوا۔ اگرچہ ان الزامات پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں ڈریپ استعمال شدہ طبی آلات کی درآمد کی منظوری پر غور کر رہی ہے، وہیں پاکستان کسٹمز کی موجودہ پالیسی کے تحت استعمال شدہ طبی آلات کی کلیئرنس پر پابندی برقرار ہے ۔ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ڈریپ اجازت دے بھی دیتی ہے تو کسٹمز قوانین کے ہوتے ہوئے یہ درآمد کیسے ممکن ہوگی؟ کیا قوانین میں ترمیم کی جائے گی یا مخصوص رعایت دی جائے گی؟

ڈریپ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر غیور احمد کے دستخط سے جاری نوٹس کے مطابق 27 جولائی کو اسلام آباد میں ایک اجلاس منعقد ہوگا، جس میں اسلام آباد، کراچی اور تاشقند سے متعلقہ افسران شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں شق 76 پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے