اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) سندھ نے اسٹیٹ انٹرپرائزز آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ (SEOCHS) کے معاملات کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ تحقیقات سے واقف سرکاری ذرائع اور تفتیشی دستاویزات کے مطابق انکوائری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، کمرشل پلاٹس کے متنازع تصفیوں، انتظامی و گورننس معاملات اور بڑے ترقیاتی منصوبوں میں مالی لین دین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیقات کا مرکزی محور جون 2022 میں سوسائٹی کی جانب سے 18 کمرشل پلاٹس کی نیلامی ہے، جس میں تقریباً 49 کروڑ 18 لاکھ روپے کی بولیاں موصول ہوئی تھیں۔ تفتیشی ریکارڈ کے مطابق کامیاب بولی دہندگان کو مقررہ مدت میں مکمل ادائیگی کرنا تھی جبکہ تاخیر کی صورت میں 6 فیصد سرچارج لاگو ہونا تھا۔دستاویزات کے مطابق اگست 2023 تک صرف تقریباً 6 کروڑ روپے وصول کیے جا سکے، جبکہ 41 کروڑ روپے سے زائد واجبات بقایا رہے۔
تحقیقات میں یہ الزامات بھی زیر غور ہیں کہ نیلامی کی شرائط کے مطابق ڈیفالٹرز کے پلاٹس منسوخ کرنے کے بجائے اُس وقت کی مینجمنٹ کمیٹی نے انہیں مزید چھ ماہ کی مہلت دی اور بعد ازاں بقایاجات کی وصولی کے لیے تصفیہ (سیٹلمنٹ) کے انتظامات کیے۔
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق 29 اکتوبر 2023 کو ہونے والے خصوصی جنرل باڈی اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی تھی کہ ڈیفالٹ شدہ تمام کمرشل پلاٹس منسوخ کرکے دوبارہ نیلام کیے جائیں۔
تحقیقاتی حکام اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا بعد میں کیے گئے تصفیے جنرل باڈی کی نئی منظوری کے بغیر کیے گئے اور آیا سیٹلمنٹ کمیٹی کی تشکیل بھی قانونی تقاضوں کے مطابق تھی یا نہیں۔رائٹ آف وے (ROW) منصوبے میں کروڑوں کی ادائیگیاں بھی چھان بین کی زد میں تحقیقات کا دائرہ سوسائٹی کے رائٹ آف وے (ROW) منصوبے تک بھی پھیل گیا ہے۔
تفتیشی دستاویزات کے مطابق سوسائٹی کے سیکریٹری نے 15 جولائی کو جاری وضاحتی خط میں تسلیم کیا کہ ایک ٹھیکیدار کو روڈ پرمٹ کے حصول کے لیے تقریباً 85 لاکھ روپے جبکہ روڈ کٹنگ پرمٹ کے لیے مزید تقریباً 93 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
شکایت کنندگان کا مؤقف ہے کہ یہ ادائیگیاں سوسائٹی کے سالانہ مالیاتی گوشواروں میں درج نہیں، جس پر تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقات میں ایک اور مالی لین دین بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق جنوری 2023 میں سوسائٹی کے فنڈز سے ایک نجی شخص کو تقریباً 10 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔شکایت کے مطابق بعد میں ایک ٹھیکیدار نے اس رقم کو سوسائٹی کی جانب سے دیا گیا ذاتی قرض قرار دیا، تاہم شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ اس قرض کی منظوری، ادائیگی یا واپسی کا کوئی ریکارڈ آڈٹ شدہ مالیاتی بیانات میں موجود نہیں۔
مزید یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 2020 اور سوسائٹی کے بائی لاز ایسی کسی مالی معاونت کی اجازت نہیں دیتے۔حکومتی انکوائری اور عدالتی حکمِ امتناع بھی زیر بحث تحقیقات ایسے وقت میں جاری ہیں جب سوسائٹی کے انتظامی معاملات پر پہلے ہی تنازع موجود ہے۔
متاثرہ اراکین کے مطابق حکومت سندھ نے سندھ کوآپریٹو ہاؤسنگ اتھارٹی آرڈیننس 1984 کی دفعہ 6(1) کے تحت سوسائٹی کے معاملات کی انکوائری کا حکم دیا تھا، تاہم سوسائٹی کی انتظامیہ نے خصوصی کوآپریٹو کورٹ کراچی ویسٹ سے عبوری حکمِ امتناع حاصل کر لیا، جس کے بعد کارروائی روک دی گئی۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق کے الیکٹرک نے سوسائٹی کو آگاہ کیا ہے کہ تقریباً 22 کروڑ روپے کے بجلی فراہمی (Energisation) منصوبے کو مسلسل تاخیر اور مطلوبہ رائٹ آف وے اجازت ناموں کی عدم دستیابی کے باعث منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کی جانب سے تقریباً 88 لاکھ روپے واجبات کی ادائیگی کے لیے یاددہانی نوٹس جاری کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، جس سے پانی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
تحقیقات کے دوران مالی سال 2024-25 کے مالیاتی ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بیرونی و اندرونی ترقیاتی کاموں، واٹر انفراسٹرکچر، الیکٹریکل سب اسٹیشن اور دیگر منصوبوں پر ہونے والے اخراجات کا ریکارڈ کھنگالا جا رہا ہے، جبکہ شکایت کنندگان نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا ان منصوبوں سے قبل سندھ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 2020 کے تحت لازمی قانونی منظوری حاصل کی گئی تھی یا نہیں۔
تحقیقات سے واقف حکام کے مطابق شکایت کنندگان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جبکہ مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاسوں کی کارروائیاں، جنرل باڈی کی قراردادیں، مالیاتی ریکارڈ، بینک دستاویزات، ادائیگیوں کے واؤچرز، معاہدے اور متعلقہ خط و کتابت کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کی درخواست دینے والے اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ سوسائٹی کے مالی معاملات کا فارنزک آڈٹ کرایا جائے، مبینہ طور پر خرد برد ہونے والی رقم کی وصولی یقینی بنائی جائے، شفاف انتخابات کے ذریعے جمہوری نظام بحال کیا جائے اور جن افراد پر مالی بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ثابت ہو، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ نے تاحال اس معاملے میں کوئی حتمی نتیجہ یا فیصلہ جاری نہیں کیا۔ تحقیقات بدستور جاری ہیں اور ابھی تک کسی بھی فرد کے خلاف فوجداری یا دیوانی ذمہ داری کا تعین نہیں کیا گیا۔ جن افراد کے خلاف الزامات زیرِ غور ہیں، انہیں قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، اور کسی مجاز عدالت کی جانب سے ذمہ داری ثابت ہونے تک وہ قانوناً بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔