Screenshot_2025_1023_221127

سندھ ہائی کورٹ نے مبینہ ٹیکس فراڈ کیس میں درج مقدمے کو کالعدم قرار دینے کے لیے دائر دو آئینی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ درخواست گزاروں کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت موجود قانونی فورم سے رجوع کرنا ضروری تھا اور ہائی کورٹ کا آئینی اختیار غیر معمولی حالات میں ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس محمد عثمان علی ہادی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 25 مئی 2026 کو محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔

درخواست گزار آصف رزاق دینار اور عبدالقادر کا مؤقف تھا کہ ان کے خلاف درج مقدمہ نمبر 01/2025 غیر قانونی ہے کیونکہ کمپنی کے خلاف ٹیکس واجبات کے تعین سے متعلق معاملہ اپیلیٹ ٹریبونل میں زیر سماعت تھا اور ٹریبونل نے ریکوری کے خلاف حکمِ امتناعی بھی جاری کر رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حتمی تعین نہ ہو جائے، فوجداری کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی۔

عدالت کے سامنے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے مقدمہ "تاج انٹرنیشنل” میں طے شدہ اصول کے مطابق کسی شخص کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے سے قبل ٹیکس واجبات کا تعین ضروری ہے، لہٰذا ایف آئی آر قبل از وقت درج کی گئی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت اور محکمہ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن، ان لینڈ ریونیو کے وکیل نے موقف اپنایا کہ تحقیقات کے دوران درخواست گزاروں کے خلاف سنگین ٹیکس فراڈ کے شواہد سامنے آئے، جس کے بعد قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ فنانس ایکٹ 2024 کے بعد قانون میں ایسی ترامیم کی گئی ہیں جن کے تحت صرف ٹیکس چوری ہی نہیں بلکہ ٹیکس چوری کی کوشش بھی قابلِ سزا جرم ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کمپنی کے خلاف پہلے ہی آرڈر اِن اوریجنل جاری ہو چکا تھا جس میں تقریباً 3 ارب 14 کروڑ 51 لاکھ 72 ہزار 773 روپے کی ٹیکس ذمہ داری عائد کی گئی تھی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ایف آئی آر درج ہونے کے وقت کوئی تعین موجود نہیں تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اپیلیٹ ٹریبونل کے حکمِ امتناعی کا تعلق صرف ٹیکس وصولی سے تھا، جبکہ اس حکم کے ذریعے نہ تو آرڈر اِن اوریجنل معطل کیا گیا تھا اور نہ ہی فوجداری کارروائی روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لہٰذا ٹریبونل کا عبوری حکم ایف آئی آر کے اندراج میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے اپنے مؤقف کی بنیاد سپریم کورٹ کے "تاج انٹرنیشنل” فیصلے پر رکھی، تاہم موجودہ مقدمہ اس فیصلے سے مختلف ہے کیونکہ یہاں ایف آئی آر درج ہونے سے پہلے ٹیکس واجبات کا تعین موجود تھا۔

عدالت نے کہا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت ٹیکس جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی قانونی طریقہ کار اور خصوصی عدالت موجود ہے۔ درخواست گزاروں کو چاہیے تھا کہ وہ متعلقہ خصوصی عدالت کے سامنے اپنے اعتراضات اٹھاتے اور قانون کے مطابق دستیاب فورمز سے رجوع کرتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کو ایف آئی آر ختم کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن یہ اختیار صرف غیر معمولی حالات اور واضح ناانصافی کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ مقدمے میں درخواست گزاروں کے پاس متبادل قانونی راستہ موجود تھا، اس لیے آئینی درخواستیں قابلِ قبول نہیں تھیں۔

عدالت نے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے دونوں آئینی درخواستیں خارج کر دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے