ملکی معاشی حب کی مرکزی شاہراہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع دو عمارتوں پر ایف آئی اے اور قومی احتساب بیورو نیب کراچی کے دفاتر منتقل کرنے کی دلچسپ کہانی کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ نے سمجھنے میں آسان کردیا ،ایف آئی اے کو قبضہ مافیا کیوں کہا جارہا ہے اس کی وضاحت بھی ہوگئی۔



اس کہانی کا آغاز رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سے حاصل ہونے والے دستاویزات کی بنیاد پر کرتے ہیں ۔نیب کراچی نے عمارت کے حصول کے لئے قانونی راستے کا انتخاب کیا کرائے دار کی طرح معاہدہ کیا ابتدائی طور پر تین سالہ معاہدہ کیاگیا جس کے لئے ایڈوانس کرایہ بینکنگ چینل کے زریعے منتقل کیا گواہان بنائے اسٹامپ پیہرز تیار کئے اور معاہدے کے مطابق تزئین و آرائش کی اور نیب کراچی کا پورا اسٹاف منتقل کردیا ۔
ایف آئی اے کے دفتر منتقلی کی کوششیں جاری ہیں جس میں طاقت کے استعمال کے لئے غیر قانونی حربے استعمال کئے گئے کاروباری افراد کو دباو میں لانے کے لئے مقدمہ قائم کیا منی لانڈرنگ کی انکوائریاں شروع کروائیں عدالت نے حکم دیا لیکن عمارت پھر بھی خالی کرنے کو تیار نہیں۔
ملکی معاشی حب کراچی کی مرکزی شاہراہ پر موجود جنرل پوسٹ آفس کی عمارت جس احاطے میں موجود ہے اس کے آدھے حصے پر ایک برس قبل قومی احتساب بیورو نیب کراچی کا دفتر منتقل ہوچکا ہے جہاں ملزمان سے تفتیش بھی ہوتی ہے انکوائریان بھی رجسٹرڈ ہوتی ہیں اور ریفرنسسز بھی تیار ہوتے ہیں
تحقیقات ڈاٹ کوم نے رائٹ تو انفارمیشن ایکٹ کا سہارا لیتے ہوئے قومی احتساب بیورو نیب کے چئیرمین کو درخواست دی تھی کہ جنرل پوسٹ آفس کی عمارت کیسے حاسل کی اور اگر کرائے پر یہ جگہ لی ہے تو اس کا ایگریمنٹ یا معاہدہ کیا ہے کتنے عرصے کے لئے اور کتنے کرائے پر یہ عمارت لی گئی ہے اور اسی طرح کے سوالات ڈائریکٹر جنرل پوسٹ آفس کو بھی ارسال کئے گئے تھے۔
تحقیقات ڈاٹ کوم کے سوالات پر نیب حکام نے جواب دینے سے انکار کردیا تاہم ڈائریکٹر جنرل پوسٹ آفس نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے زریعے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں لیز اینڈ ٹیننسی پالیسی 2020 کی کاپی نیب کراچی کے ساتھ ہونے والے معاہدے اور نیب کراچی کی جانب سے ایڈوانس کی مد میں جمع کرائے جانے والے پے آرڈر کی کاپی بھی ارسال کردی۔
رائٹ تو انفارمیشن ایکٹ کے زریعے پوچھے گئے سوالات پر موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق نیب کراچی نے جنرل پوسٹ آفس کی عمارت کے لئے پہلے بینک سے ای اسٹامپ چالان تیار کیا گیا جس کے مطابق پوسٹ ماسٹر جنرل میٹروپولیٹین سرکل کراچی کو اس عمارت کا مالک قرار دیا گیا جبکہ نیب کراچی کی جانب سے ایڈیشنل ڈائریکتر ایڈمن نیب کراچی کی جانب سے کرائے دار ہوئے اس کے مطابق نیب کراچی اس عمارت کے گراونڈ فلور پر 14168اسکوائر فٹ اور پہلی ،دوسری اور تیسری منزل پر 12530اسکوائر فٹ کا حصہ استعمال کرسکتے ہیں اس طرح یہ مجموعی طور پر 51758اسکوائر فٹ کا حصہ استعمال کرنے کی پابند ہیں ۔نیب کراچی 113 روپے اسکوائر یارڈ کرایہ پوسٹ آفس حکام کو دینے کے پابند ہیں ۔
دستاویزات کے مطابق نیب کراچی ہر ماہ کی 5 تاریخ کو 58 لاک 48 ہزار 654 روپے ماہانہ کرایہ دینے کا پابند ہے اور ایک سال کا ایڈوانس کرایہ 7 کروڑ 18لاکھ 38 ہزار 48 روپے بنتا ہے اور معاہدے کے مطابق اس کا ادھا کرائے کی مد میں جاری کیا جائے گا باقی رقم سے عمارت کی تزئین و آرائش کی گئی ہے اس طرح نیب کراچی پوسٹ آفس کے اکاوئنٹ میں تین کروڑ 45 لاکھ 41 ہزار 360 روپے جمع کرائے تھے اور عمارت پر باقاعدہ معاہدے کے زریعے قبضہ حاصل کیا۔
دستاویزات کے مطابق نیب کراچی اور جنرل پوسٹ آفس کے درمیان یہ کرائے داری کا معاہدہ یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2028 تک ہے ۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان پوسٹ آفس کی جانب سے پوسٹ ماسٹر جنرل میٹروپولیٹین سرکل کراچی اسکوڈن لیڈر ریٹائرڈ مقصود احمد اور نیب کراچی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمن شہزادہ امتیاز احمد کے درمیان ہوا ہے جب کہ گواہان میں ڈپٹی پوسٹ ماسٹر جنرل میٹروپولیٹین سرکل کراچی منظور احمد بنگولزئی ،چیف پوسٹ ماسٹر کراچی جنرل پوسٹ آفس اسرارالحق اسی طرح نیب کراچی کی جانب سے گواہان میں ڈائریکٹر نیب کراچی سید محمد آفاق ڈپٹی ڈائریکٹر نیب کراچی محمد شہزاد شامل ہیں۔
نیب کراچی نے معاہدے کے مطابق 24 جون 2025 کو چیک نمبر 0095672 کے زریعے 3 کروڑ 45 لاکھ 41 ہزار 360 روپے جنرل پوسٹ آفس کے اکاوئنٹ میں منتقل کئے اور 25 جون 2025 کو کراچی جنرل پوسٹ آفس کے کلرک عاصم نور نے نیب کراچی میں گریڈ 16 کے اکاوئنٹنٹ عبد الکریم سومرو کو عمارت حوالے کردی۔
دوسری جانب جنرل پوسٹ آفس سے ٹاور کی جانب جاتے ہوئے آئی آئی چندریگر روڈ پر حبیب بینک پلازہ سے پہلے قریب ایک کلو میٹر کے فاصلے پر کراچی کاٹن ایکسچینج کی تاریخی عمارت موجود ہے جہاں ایف آئی اے کی ٹیم نے 13 دسمبر 2025 مقدمہ درج کرنے کے بعد اسی تاریخی عمارت کو بزور طاقت خالی کروادیا ۔
یہ مقدمہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی شکایت پر درج کیا اور ایف آئی اے کو چائیے تھا کہ اس مقدمے کے اندراج کے بعد یہ عمارت متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کی جاتی تاہم ایف آئی اے کراچی زون نے اپنے دفاتر اس تاریخی عمارت میں منتقل کردئیے۔
اس تاریخی عمارت پر مقدمے کے بعد کراچی کاٹن ایسوسی ایشن ،کراچی میونسپل کارپوریشن سمیت دیگر نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالتی کارروائی میں اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ نے تسلیم کیا کہ مقدمہ غلط درج ہوا ہے اور اس مقدمے کو انکوائری میں تبدیل کردیا تاہم ایف آئی اے نے عمارت خالی نہیں کی اور اس عمارت کے متعدد کمروں کے مبینہ طور پر تالے توڑے گئے اور کمروں پر قبضہ کیا گیا ۔
اس دوران عدالتی کارروائیوں کے بعد 18 جون کو سندھ ہائی کورٹ کی آئینی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں ایف آئی اے کے مقدمے کو ختم کرنے کا حکم دیا ،عدالت نے اپنے حکم میں واضح کہا کہ ایف آئی اے کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور عمارت کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کی ہدایت کی تاہم ایف آئی اے نے عدالتی حکم کو مکمل نظر انداز کیا اور تاحال اس عمارت پر قبضہ کئے ہوئے موجود ہے ۔
یاد رہے کہ عدالت کے اسی فیصلے میں ایف آئی اے سے متعلق تحریر کیا گیا ہے کہ اس عمارت پر قبضے کے لئے طاقت کا بھرپور غیر قانونی استعمال کیا گیا ہے ۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی کی ہدایت پر اس وقت بھی اس تاریخی عمارت کے مرکزی دروازے بند ہیں اور حبیب بینک پلازہ کی گلی میں ایک۔چھوٹے دروازے کے زریعے انتہائی خفیہ طریقے سے ایف آئی اے افسران و اہلکار اس عمارت کا راستہ استعمال کر رہے ہیں جس سے واضح ہے کہ ایف آئی اے عدالتی حکم مکمل نظر انداز کر چکی یے۔