جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی تلاش حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ،سندھ حکومت نے اسکروٹنی کے بجائے امیدواران کے براہ راست انٹرویو شروع کرنے ہیں تاکہ اسکروٹنی مراحل میں رہ جانے والے امیدوار عدالت سے رجوع نہیں کریں ۔مجموعی طور پر 46 امیدوار دوڑ میں شامل ہیں ان امیدواران میں اصل مقابلہ دو بیوروکریٹ،دو پروفیسرز جو جامعہ کراچی سے باہر کے ہیں درمیان سخت مقابلہ ہے ،جامعہ کراچی کے بیشتر پروفیسروں سے متعلق منفی رپورٹس پہلے ہی سے پہنچ چکی ہیں ،موجودہ وائس چانسلر کے لئے سابق کنٹرولر سطح کا افسر امید ژندہ رکھے ہوئے ہے ۔
جامعہ کراچی میں شیخ الجامعہ کا انتخاب سندھ حکومت کے لئے امتحان بنتا جارہا ہے کیونکہ اس کے امیدواران کے ساتھ صوبائی اور وفاقی اعلی بیوروکریسی،سیاسی مداخلت بھی بڑھ گئی ہے ۔
اس وقت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے لئے امیدوار کی بھاگ دوڑ میں شامل بیووکریسی کے افسران میں شامل ایک کو سابق وائس چانسلر اور وزیراعلی ہاوس کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے جبکہ ایک بیوروکریٹ کو سندھ کے مضبوط سیکرٹری اور خود صوبے کے سربراہ کا آشیر باد ہے اور بیوروکریسی کے ان امیدواران کی وزیر اعلی سندھ سے ملاقات بھی ہوتی رہی ہے۔
جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کے عہدے پر تعیناتی کے امیدواران میں جامعہ کراچی کے مرد و خواتین پرو فیسرز کی بھی کثیر تعداد ہے تاہم اس فہرست میں شامل بعض کرداروں سے متعلق منفی رپورٹس پہلے سے ہی سندھ حکومت کو موصول ہوئی ہے کہ کون سے امیدوار صرف اس لئے اس فہرست میں شامل ہوئے کہ سندھ حکومت بڑی تعداد میں درخواستوں کے حصول کے بعد اسکروٹنی کا مرحلہ شروع کرئے گی اور اس میں سے باہر کئے جانے والے امیدوار عدالت سے رجوع کریں گے اور حکم امتناعی حاصل کریں گے جس سے کچھ عرصے کے لئے یہ سارا عمل رک جائے گا۔
سندھ حکومت نے اسی لئے تمام امیدواران کے انٹرویو کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد کم از کم تین نام اور زیادہ سے زیادہ چار نام وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کئے جائیں گے اور ان ناموں میں سے حتمی نام وزیر اعلیٰ سندھ طے کریں گے
جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی تلاش میں وفاقی و صوبائی بیوروکریسی کی مداخلت کا اصل زمہ دار خود موجودہ انتظامیہ اور ایسے پروفیسرز ہیں جو ازخود کسی نا کسی منفی سرگرمیوں میں موجود ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ جامعہ کراچی میں ایک بھی پروفیسر ایسا نہیں جس کے لئے از خود راستہ ہموار ہو جائے ۔
نئے وائس چانسلر کی دوڑ میں شامل پروفیسرز خلاف ضابطہ جامعہ کراچی سے باہر رہنے کے بعد غیر قانونی طریقے سے بحال ہوئے تمام مراعات بھی لیں اور نیا عہدہ بھی حاصل کرلیا ۔بعض پروفیسر شعبہ فنانس کے کلرکوں کے ساتھ گہرے مراسم کی وجہ سے تمام مراعات سمیٹتے رہے ہیں اور ایک ادارے میں ڈائریکٹر کے بطور تعیناتی کے دوران بھی معاملات کلرکوں کو سونپے گئے ،بعض اپنے ہی قریبی عزیز کو ملازمت کے حصول کے لئے دباو ڈالتے رہے اور بعض کے لئے جامعہ کراچی میں 41 دن کے احتجاج میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے افسران و سندھ حکومت کی شخصیات سے رابطوں کو استعمال کرنے کی کوشش جاری ہے جس کے لئے ایک سابق وائس چانسلر بھی آپشن کے طور پر کوشش کر رہے ہیں،اس عہدے کی جستجو کرنے والے بعض پروفیسر انتظامی طور پر نااہل اور مختلف عہدوں پر تعیناتی کے دوران خلاف ضابطہ فنڈز حاصل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ میں ملوث رہے ان کے خلاف رپورٹس جامعہ کراچی کی فائلوں میں تاحال موجود ہیں اور بعض پروفیسر موجودہ وائس چانسلر کے تحفظ کے لئے دوڑ میں شامل ہوئے ہیں ۔
موجودہ وائس چانسلر جامعہ کراچی کے دور میں مالی طور پر جامعہ کراچی نے جتنی ترقی کی ہے وہ زبان زد عام ہے اور ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے سابق کنٹرولر وفاقی بیوروکریسی کی مداخلت کے لئے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں اور اسی امید کے ساتھ موجودہ وائس چانسلر اس فہرست میں موجود ہیں کہ انہیں ابھی بھی امید ہے ۔
جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کی تلاش جامعہ کراچی کی موجودہ انتظامیہ اور اساتذہ کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ماضی میں کی جانے والی پالیسیوں پر آنکھیں بند کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ تین درجن سے زائد جامعہ کراچی کے امیدواران میں سے کوئی بھی امیدوار عہدے کے لئے فیورٹ نہیں ہورہا ہے ۔
اب اس عہدے کی جنگ میں وفاقی اور صوبائی بیوروکریسی کود چکی ہے اور اس رسہ کشی میں بھی جامعہ کراچی سے امیدوار حاصل کرنے کے بجائے بیوروکریسی کے دو افسران اور جامعہ کراچی کے باہر سے شامل دو پروفیسرز اس دوڑ کے مضبوط امیدوار ہیں اور ان ہی امیدواران میں سے امکان ہے کہ کسی کا انتخاب ہوجائے۔