kpo-logo

کراچی پولیس نے حساس اداروں کا نام استعمال کر کے چند برس کے دوران وفاقی و صوبائی اداروں کے افسران کو دباؤ میں لاکر جعل سازی کے زریعے غیر قانونی کاموں سے کروڑوں روپے کمانے والے دو ملزمان گرفتار کرلئے ،

ملزمان نے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لئے بہادر آباد میں ایک بلڈر کو بلیک میل کر کے بنگلہ حاصل کیا جسے وفاقی سویلین حساس ادارے کی ایک برانچ ظاہر کرکے ہر سطح کے سرکاری افسران ،بلڈرز ،کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنی گرفت میں رکھا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور بورڈ آف ریونیو کے افسران بھی ان جعلی حساس اداروں کے افسران کے خوف میں مبتلا رہے اور بعض افسران نے ان کی کے زریعے اپنا سسٹم مضبوط کیا اور شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی منظوری لیتے رہے ۔

 

 

کراچی میں کارساز کے علاقے بہادر آباد پولیس نے پیرپگارا ہاوس کے قریب ایک کارروائی کے دوران سیاہ رنگ کی کرولا کار میں سوار دو ملزمان محمد طلحہ یوسفی ولد محمد یونس جو سابق بینک کا ملازم اور نیپا چورنگی کے قریب کا رہائشی ہے اور سید علی حقانی ولد سید قادر حقانی جس کا اصل نام محمد احمد ولد عبدالقادر عرف احمد مدنی کو بہادر آباد کا رہائشی ہے کو مقدمہ الزام نمبر 193/26میں گرفتار کرلیا ہے ۔

زرائع کے مطابق ان جعلی افسران کا گزشتہ چند برس میں ایک مضبوط نیٹ ورک بن گیا تھا جس کے لئے انہوں نے بہادر آباد میں ایک بلڈر کو بلیک میل کر کے ایک بنگلہ حاصل کیا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں ،وفاقی تحقیقاتی اداروں کے لوگو استعمال کر کے خود سرکاری افسران کو ڈرا دھمکا کر اپنے کام کرواتے تھے ۔

زرائع کے مطابق جعلی افسران نے گزشتہ چند برس میں موجودہ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی کو مختلف انکوائریوں کے نام پر اور ان انکوائریوں کو ختم کرنے کی لالچ دے کر اپنی گرفت میں رکھا اور جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات میں نمبروں میں تبدیلی کے زریعے فیل اُمیدواروں کو پاس کرانے جامعہ کراچی میں داخلوں کے دوران من پسند ڈپارٹمنٹ میں داخلے کروانے سمیت دیگر ایڈمنسٹریٹیو کاموں میں کروڑوں روپے کمانے کا موقع فراہم کیا جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی نااہلی تھی کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات بھی کسی ادارے کو نہیں کی جس سے یہ نیٹ ورک مضبوط بھی ہوا اور اس نے مالی فائدے بھی حاصل کئے۔

زرائع کے مطابق ملزمان سے حساس وفاقی سویلین ادارے کے جعلی کارڈ بھی برآمد ہوئے جنہیں وہ ظاہر کر کے پولیس کو دباو میں لانے کی کوشش کر رہے تھے تاہم پولیس نے دنوں ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے تفتیش شروع کردی ہے ۔تاہم پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر کے جب عدالت میں پیش کیا گیا اور ملزمان سے تفتیش کی استدعا کی گئی تو عدالت نے تفتیش کے لئے ریمانڈ دینے سے انکار کیا اور گرفتار ملزمان کو جیل بھیج دیا ۔

ذرائع کے مطابق حساس ادارے کا جعلی کارڈ استعمال کرنے والے یہ دونوں افسران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران ارشد ریاض ،مشتاق سومرو ،زیشان حیدر ،اویس ،احسن ادریس ،ریحان الائچی اور وسیم کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ تھا اور شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا بھتہ ان افسران کے ساتھ ان جعلی افسران کو بھی ملتا تھا جبکہ ریونیو ڈپارٹمنٹ کے افسران کو بھی اسی طرح استعمال کرتے تھے۔

گرفتار ملزم علی حقانی عرف محمد احمد نے کورنگی میں لکھنو کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی پلاٹوں کی فروخت میں سہولت کاری کی اور اس کے عیوض رشوت میں ہنڈا سٹی کار حاصل کی جس پر غیر قانونی طریقے سے سرکاری نمبر پلیٹ کا استعمال کرتا رہا ہے ۔

حساس ادارے کا نام استعمال کر کے یہ جعلی افسران ایف آئی اے ،پولیس ،اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ میں مختلف انکوائریوں ،مقدمات کی تفتیش پر بھی اثر انداز ہوتے رہے ہیں اور اسی دباؤ کے باعث ان کے پولیس میں انسپکٹر سے ہی ایس پی سطح کے افسران تک رابطے بنے اور ایف آئی اے میں انسپکٹر ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر تک سطح کے افسران ان کے رابطے میں آئے ۔

زرائع کے مطابق گرفتار ملزمان سے اگر درست انداز میں پولیس تفتیش ہوئی تو اہم شواہد سامنے آنے کا امکان ہے اور کروڑوں روپے کی سرکاری اداروں کے نام پر جعل سازی کی یہ تفتیش مستقبل میں اس طرح کی جعل سازی کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک بہتر پیش رفت ہوسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے