Screenshot_2026_0704_110302~2

لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں رفاہی پلاٹوں، پارکوں اور کاٹیج انڈسٹری کے لیے مختص اراضی پر مبینہ غیر قانونی تعمیرات، رہائشی پلاٹوں کی جعلی اور دوہری فائلوں کے اجرا اور سرکاری منظوریوں کے باوجود مرکزی کرداروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ مسلسل تحفظ ملنے سے قبضہ مافیا کمزور ہونے کے بجائے مزید طاقتور ہوتا چلا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2012 میں اس معاملے پر ریفرنس دائر کیا تھا، جس کا فیصلہ 2020 میں سامنے آیا اور سوسائٹی کے چھ عہدیداران کو سزائیں سنائی گئیں۔ تاہم متاثرین اور مکینوں کے مطابق اس پورے معاملے میں صرف سوسائٹی عہدیداران کو ذمہ دار ٹھہرانے سے اصل کردار پردے کے پیچھے ہی رہے۔

بعد ازاں 2023 میں صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو دی گئی شکایات کی بنیاد پر مارچ 2026 میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں 2016 کے بعد سامنے آنے والی نئی بے ضابطگیوں اور مبینہ جعل سازی کی تفصیلات شامل کی گئیں۔ شکایت کنندگان کے مطابق اس مقدمے میں 30 سے زائد پلاٹوں کی نشاندہی کی گئی جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات، ایک ہی پلاٹ کی متعدد فائلیں اور رفاہی پلاٹوں پر کمرشل و رہائشی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

ذرائع کے مطابق 2012 کے نیب ریفرنس میں ان سرکاری افسران کو شامل نہیں کیا گیا جو مبینہ طور پر جعلی این او سیز اور تعمیراتی منظوریوں کے اجرا میں کردار ادا کرتے رہے، جبکہ اینٹی کرپشن کی حالیہ کارروائی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے بعض افسران کو نامزد کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر کئی اہم کردار اب بھی تحقیقات کی زد میں نہیں آسکے۔

لکھنؤ سوسائٹی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست نمبر 2260/2012 دائر کی گئی تھی، جس میں پارک کی زمین پر عمارت کی تعمیر کے خلاف درخواست دی گئی تھی۔ عدالت عالیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے نیب کراچی کو ہدایات جاری کی تھیں، جس کے نتیجے میں دو چیئرمین، دو سیکریٹریز اور دو صدور کے خلاف کارروائی عمل میں آئی۔

تاہم سوسائٹی کے مکین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر غیر قانونی تعمیرات، رفاہی پلاٹوں کی تبدیلی اور جعلی منظوریوں کا سلسلہ برسوں جاری رہا تو پھر صرف چھ عہدیداران ہی کیوں ذمہ دار قرار پائے؟ ان کے مطابق رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز کے متعلقہ افسران اور اس وقت کے متعلقہ ایس بی سی اے حکام کے کردار کا تعین بھی ضروری تھا۔

شکایات کے مطابق اینٹی کرپشن مقدمے میں ایس بی سی اے کورنگی ٹاؤن کے بعض افسران اور اہلکاروں سمیت مختلف افراد اور مبینہ لینڈ گریبرز کو نامزد کیا گیا، تاہم ایک ایسے افسر کا نام پھر بھی مقدمے کا حصہ نہیں بن سکا جس کے بارے میں مکین برسوں سے سوالات اٹھاتے آرہے ہیں۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق ایس بی سی اے کے انسپکٹر کاشف گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے کورنگی ٹاؤن میں تعینات ہیں اور انہیں 2012 کے نیب ریفرنس کے دوران بھی متعدد شکایات میں ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اینٹی کرپشن حکام کو دی جانے والی تحریری درخواستوں میں بھی انہیں مبینہ طور پر ایک اہم کردار کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم انہیں نہ تو نیب تحقیقات کے دوران طلب کیا گیا اور نہ ہی اینٹی کرپشن کی کارروائی میں شامل کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسر کے خلاف لکھنؤ سوسائٹی سے ہٹ کر بھی مختلف نوعیت کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اب تک کسی ادارے کی جانب سے ان کے خلاف باضابطہ کارروائی عمل میں نہیں آسکی۔

لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سلسلہ 2010 کے بعد سے مسلسل جاری ہے اور متاثرہ مکینوں کا مؤقف ہے کہ جب تک منظوری، نگرانی اور نفاذ کے نظام میں شامل تمام ذمہ دار عناصر کا یکساں احتساب نہیں ہوگا، اس وقت تک غیر قانونی تعمیرات، رفاہی اراضی پر قبضوں اور جعلی فائلوں کے کاروبار کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

مکینوں کے مطابق احتساب کا عمل صرف چند افراد تک محدود رکھنے کے بجائے اس پورے انتظامی اور منظوری کے نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ سپروائزری اور ریگولیٹری اداروں کی مؤثر نگرانی کے بغیر ایسی بے ضابطگیوں کا سدباب ممکن نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے