کسٹمز حکام نے ناردرن بائی پاس کے کچے علاقے سے آنے والی دو گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 416 کلوگرام چھالیہ برآمد کرلی، جبکہ کارروائی کے دوران کسٹمز اہلکاروں کو مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر دھمکانے اور ریکوری میں مزاحمت کرنے والے افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔



سی ٹی ڈی پولیس نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ پولیس اہلکار ملوث نہیں ہے اور نا ہی اس کا تعلق سی ٹی ڈی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق 15 اور 16 اگست 2026 کی درمیانی شب کسٹمز کی ٹیم نے ناردرن بائی پاس کے کچے علاقے سے آنے والی ٹویوٹا کرولا نمبر ANV-535 اور سوزوکی آلٹو نمبر CCF-195 کو روک کر تلاشی لی۔
تلاشی کے دوران دونوں گاڑیوں سے چھالیہ کے 32 تھیلے برآمد ہوئے، جن میں سے ہر تھیلے کا وزن تقریباً 13 کلوگرام تھا، جبکہ برآمد شدہ چھالیہ کا مجموعی وزن تقریباً 416 کلوگرام بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریکوری کے دوران دو افراد نے کسٹمز اہلکاروں کی کارروائی میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور ایک ہتھیار کے ذریعے اہلکاروں کو دھمکایا۔ صورتحال کے پیش نظر پاکستان رینجرز سے مدد طلب کی گئی، جس کے بعد دونوں گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا گیا۔

کسٹمز حکام کے مطابق آلٹو گاڑی کا ڈرائیور خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتا رہا اور اس نے اپنا نام سعید مہران خان بتایا۔ دوسری جانب ٹویوٹا کرولا کے ڈرائیور کی شناخت عدیل کے نام سے ہوئی، جسے بھی حراست میں لے لیا گیا۔
کارروائی کے نتیجے میں 32 تھیلے چھالیہ، ایک گلاک پستول، دونوں گاڑیاں اور زیر حراست افراد کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
کسٹمز رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام برآمد شدہ سامان، اسلحہ، گاڑیوں اور گرفتار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
یہ کارروائی پریونٹیو آفیسر غلام حسین، حمادرد سی پی کی نگرانی میں سپاہیوں شعیب، سلمان، شعبان اور نصراللہ کی معاونت سے عمل میں لائی گئی۔
دوسری جانب سی ٹی ڈی پولیس سندھ نے وضاحتی بیان میں کہا کہ سی ٹی ڈی سے منسلک پولیس اہلکار کی چھالیہ اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی خبر بے بنیاد ہے۔
چھالیہ اسمگلنگ کے جرم میں سی ٹی ڈی کا کوئی اہلکار ملوث نہیں، جس اہلکار کا خبر میں ذکر کیا گیا ہے، وہ نہ سی ٹی ڈی میں تعینات ہے اور نہ ہی ادارے سے کسی طور وابستہ ہے۔
من گھڑت اور بے بنیاد خبر کے ذریعے سی ٹی ڈی کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
بے بنیاد خبر نشر کرنے اور سی ٹی ڈی کی ساکھ متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، سی ٹی ڈی ایک ذمہ دار ادارہ ہے۔