ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کی شکایت پر یونٹی فوڈز لمیٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر ،ڈائریکٹر چیف فنانس افسر و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ،مبینہ طور پر مقدمے کے اندراج میں تاخیر پر سنگاپور میں موجود چین کی کمپنی نے اعلی حکومتی شخصیات سے شکایت کی جس پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے فوری کارروائی کی ہدایت کی ،تاہم نامزد ملزم فرخ آمین کو ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ایک لاکھ مچلکے پر اتوار کے دن ریمانڈ لینے کی پیشی کے دوران رہا کرنے کا حکم دے دیا جبکہ گرفتار دو ملزمان کو ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا ،پیر کو لاہور سے گرفتار کئے گئے مزید دو ملزمان کے بھی کراچی منتقل کئے جانے کا امکان ہے۔
اربوں روپے فراڈ کے مرکزی کردار کی عدالت سے ڈرامائی رہائی پر تفتیشی افسر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ آیا ہائی پروفائل کیس میں ڈیوٹی مجسٹریٹ سے جراح کیوں نہیں کی گئی ،مقدمے کے مرکزی کردار فرخ آمین کو عدالت سے ملنے والے No Coercive action کا مطلب یہ ہی ہوتا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ ہی درج کرنا غلط ہے کیا یہ سوال ایف آئی اے کراچی کی قانونی ٹیم نے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے کیا ۔
ایف آئی اے کراچی کے ہاتھوں ملزمان ہفتے کو گرفتار ہوئے کیا ایف آئی اے سیکشن 54 کے تحت ملزمان کو اپنی تحویل میں رکھ کر اتوار کو مقدمہ درج کر کے پیر کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا تھا ۔
ایف آئی اے کراچی نے ہائی پروفائل کیس میں ایس ای سی پی کی شکایت پر درج مقدمے کے ملزم کو بینکنگ کورٹ کے بجائے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کو کیوں ترجیح دی۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے بعد قانون میں ترمیم کی اور بینکنگ عدالت کو خصوصی عدالت کا درجہ دیا گیا ہے جہاں جج ہائی کورٹ جج کے مساوی ہوتا ہے پھر ایک مجسٹریٹ کو کیوں ترجیح دی گئی؟
سندھ ہائی کورٹ میں ملزم کی درخواست پر 12 اپریل 2026 کو حکم دیا کہ ایف آئی اے ملزم کو ہراساں نا کرئے اس سے قبل ایف آئی اے میں مرکزی کردار کی تفتیش مکمل ہوچکی تھی پھر مقدمے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟
ایف آئی اے کراچی کے تفتیشی افسر عمید ارشد بٹ سے اس ہائی پروفائل کیس کے مرکزی کردار کی عدالت میں پیش سے متعلق رعایت ملنے کے معاملے پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تے تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دیے گئے ریفرنس کی بنیاد پر ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے یونٹی فوڈز لمیٹڈ (UFL) کے مالی معاملات میں مبینہ سنگین بے ضابطگیوں، فنڈز کے غلط استعمال، جعلی اکاؤنٹنگ اور کمپنی کے وسائل کو مبینہ طور پر ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات پر مقدمہ الزام نمبر 15/2026 درج کرلیا ہے۔
دستاویز کے مطابق مقدمہ 29 اگست 2026 کو درج کیا گیا، جبکہ تحقیقات FIA کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمید ارشد بٹ کے سپرد کی گئی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ایف آئی اے کی دستاویز میں درج الزامات کو حتمی جرم ثابت شدہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ تحقیقات کے دوران مزید حقائق، دیگر ذمہ داران اور رقوم کے ذرائع و استعمال کا تعین کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مقدمے کی دستاویزات کے مطابق کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں انکوائری نمبر 477/2026، SECP کے ریفرنس کے بعد درج ہوئی جس میں یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے معاملات میں پاکستان پینل کوڈ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت جرائم کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے سے رجوع کیا۔
دستاویز کے مطابق مذکورہ کمپنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ پبلک کمپنی ہے اور اس کا رجسٹرڈ دفتر کراچی میں واقع ہے۔
ایس ای سی پی ریفرنس کے مطابق کمپنی کے متعلقہ دور میں محمد فاروق امین گوڈیل چیف ایگزیکٹو آفیسر تھے، جبکہ امیر شہزاد UFL کے ڈائریکٹر اور اس کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی Sunridge Foods (Pvt) Ltd (SFPL) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رہے۔
دستاویز کے مطابق کمپنی کے سابق ڈائریکٹر صفدر سجاد اور چیف فنانشل آفیسر جلیس ایدھی بھی کمپنی کے فنڈز، بینک ڈپازٹس، اثاثوں، اکاؤنٹس اور ریکارڈ پر اختیار و نگرانی رکھنے والے عہدیداران میں شامل تھے۔
ایس ای سی پی کے مطابق کمپنی کے تقریباً 5.3185 ارب روپے مبینہ طور پر چیف ایگزیکٹو کی والدہ فہمیدہ امین کو ’’قرض‘‘ کے نام پر منتقل کیے گئے۔
مالی سال 2017-18 اور 2018-19 میں فہمیدہ امین کے نام بالترتیب تقریباً 705.70 ملین روپے اور 4.7927 ارب روپے کے قرضے ظاہر کیے گئے۔
مبینہ طور پر ان رقوم کی منتقلی کے لیے مناسب بینکاری دستاویزات یا بورڈ کی منظوری پیش نہیں کی گئی۔
ایف آئی اے کی دستاویز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی کے اکاؤنٹس میں ان رقوم کو مبینہ طور پر ’’قرض‘‘ کے جعلی اندراجات کے ذریعے ظاہر کیا گیا۔
ایس ای سی پی ریفرنس کے مطابق کمپنی نے 19 فروری 2019 کو رائٹس ایشو کے ذریعے شیئر ہولڈرز اور سرمایہ کاری کرنے والے عوام سے تقریباً 3.75 ارب روپے حاصل کیے۔
یہ رقم مبینہ طور پر کمپنی کے مختلف منصوبوں، جن میں یانگو آئل پروسیسنگ اینڈ ایکسٹریکٹنگ ملز پورٹ قاسم ریفائنری کے لیے 2 ارب روپے
آئل ٹرمینل کے قیام کے لیے 900 ملین روپےشامل تھے، کے لیے حاصل کی گئی تھی۔
تاہم SECP کے مطابق کمپنی صرف تقریباً 876.6 ملین روپے کے استعمال کی دستاویزات پیش کرسکی، جبکہ باقی تقریباً 2.8734 ارب روپے کے بارے میں مبینہ طور پر مناسب واؤچرز یا بینکاری آلات پیش نہیں کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق کمپنی نے مارچ 2022 تک یہ مؤقف بھی ظاہر کیا کہ آئل ٹرمینل کے لیے جگہ ابھی شناخت کی گئی ہے۔
ایف آئی اے ریفرنس کے مطابق اس معاملے میں یہ الزام بھی زیرِ تفتیش ہے کہ سرمایہ کاروں سے رقم کمپنی کے منصوبوں کے بارے میں مبینہ غلط نمائندگی کے ذریعے حاصل کی گئی۔
دستاویز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ Sunridge Foods (Pvt) Ltd کے ذریعے تقریباً 2.6 ارب روپے دو غیر ظاہر شدہ فریقین کو ایڈوانس کے طور پر منتقل کیے گئے۔
ایس ای سی پی کے مطابق ان رقوم کے لیے مطلوبہ دستاویزات، منظوریوں اور متعلقہ فریقوں سے متعلق انکشافات موجود نہیں تھے۔
ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقریباً 2 ارب روپے کے بلاسود ایڈوانسز کمپنی کے اپنے CFO نے 12 فروری 2026 کو رپورٹ کیے۔
ایف آئی اے دستاویز کے مطابق اس معاملے میں بھی کمپنی کے مبینہ طور پر سپرد کردہ فنڈز کے غلط استعمال اور قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی۔
ایس ای سی پی ریفرنس میں کمپنی کی سابق ذیلی کمپنیوں:
Unity Technologies (Pvt) Ltd (UTPL)
اور
Unity Plantations (Pvt) Ltd (UPPL)
کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق دونوں کمپنیوں کو گروپ سے وابستہ افراد کو مبینہ طور پر مناسب جانچ پڑتال، ضروری منظوری اور Arms-Length بنیاد کے بغیر منتقل کیا گیا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ
یو ٹی پی ایل کے تقریباً 499.9 ملین روپے،یو پی پی ایل کے تقریباً 787 ملین روپے کے سیل پروسیڈز تاحال بقایا دکھائے گئے۔دوسری جانب کمپنی کے اپنے ڈپازٹس، تقریباً 7.25 ارب روپے BankIslami Pakistan Limited اور 5.2 ارب روپے Al Baraka Bank (Pakistan) Limited میں موجود بتائے گئے، جو UTPL کی قرض گیری کے عوض مبینہ طور پر رہن رکھے گئے۔
مزید برآں BankIslami کی جانب سے کمپنی کو تقریباً 4 ملین امریکی ڈالر کی سہولت اور مارچ 2026 میں تقریباً 197 ملین روپے کی مارک اَپ رقم بھی واجب الادا بتائی گئی۔
ایف آئی اے کے مطابق ان معاملات میں کمپنی کی جائیداد کو مبینہ طور پر ایسی کمپنی کی ذمہ داریوں کے لیے رہن رکھنے کا سوال بھی زیرِ تفتیش ہے جسے اندرونی افراد کو منتقل کیا جاچکا تھا۔
ایف آئی اے دستاویز کا ایک اہم حصہ Al-Shameer Corporation Ltd (ASC) کے حصول سے متعلق ہے۔ریفرنس کے مطابق UFL کے اس وقت کے CEO فرخ نے 4 دسمبر 2023 کو اپنی ذات اور Kamran Ahmed Khalil کے نام سے Letter of Understanding پر دستخط کیے، جس کا مقصد ASC کے بورڈ اور انتظامی کنٹرول کا حصول تھا۔
دستاویز کے مطابق ASC کے پہلے ہی 57,067,848 شیئرز (15.22 فیصد) SFPL کے پاس موجود تھے۔اس کے بعد مزید 30 ملین ASC شیئرز مبینہ طور پر مختلف نامزد افراد کے ذریعے حاصل کیے گئے، جن میں صفدر سجاد 10 ملین شیئرز،امیر شہزاد 10 ملین شیئرز،فہمیدہ امین 4 ملین شیئرز،ڈی جے ایم سیکیورٹیز پرائیوٹ لمیٹڈ کے 6 ملین شئیرز شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق یہ شیئرز تقریباً 11 سے 11.99 روپے فی شیئر کی ریکارڈ شدہ مارکیٹ ریٹس پر حاصل کیے گئے، جبکہ LoU کے تحت اصل قیمت 5.60 روپے فی شیئر تھی، جس کے مقابلے میں بیان کردہ ڈیل پرائس 12.86 روپے فی شیئر تھی۔
مزید الزام ہے کہ 6 دسمبر 2023 کو ASC کے بورڈ نے LoU کی شرائط کے مطابق تقریباً 10.10 ارب روپے مالیت کا سامان UFL سے ASC کو فروخت کیا، تاہم اس کے عوض مبینہ طور پر کوئی مناسب وصولی نہیں ہوئی۔
دستاویز کے مطابق ASC کی اپنی کتابوں میں تقریباً 11 ارب روپے UFL کو قابلِ ادائیگی جبکہ 390 ملین روپے SFPL کو قابلِ ادائیگی دکھائے گئے۔
اس کے باوجود SECP ریفرنس کے مطابق ASC نے UFL سے کوئی خاطر خواہ خریداری نہیں کی مزید یہ الزام بھی درج ہے کہ
اے ایس سی کی بجلی کے بل
کنسلٹنٹس کی فیس تقریباً 27 ملین روپے فرسٹ حبیب مضاربہ کو ادائیگی کمپنی اور گروپ کے فنڈز،انوینٹری،ملازمین،انفراسٹرکچر مبینہ طور پر ASC کے فائدے کے لیے استعمال کیے گئے۔
ایس ای سی پی کے مطابق کمپنی کے وسائل مبینہ طور پر ایسے ادارے کے فائدے کے لیے منتقل کیے گئے جسے فاروق اور ان کے مبینہ نامزد افراد حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
ایف آئی اے کے مقدمے میں شامل ایس ای سی پی تجزیے کے مطابق کمپنی کے شائع شدہ اکاؤنٹس اور اندرونی SAP ریکارڈز میں تقریباً 44.7 ارب روپے کا فرق سامنے آیا۔ریفرنس کے مطابق تقریباً 5.2 ارب روپے کی انوینٹری میں SAP ریکارڈ اور فزیکل اسٹاک کے درمیان شارٹ فال سامنے آیا۔تقریباً 5 ارب روپے کے پرانے واجبات Sunnidge Mart (Pvt) Ltd کے نام پر ظاہر کیے گئے، مگر مبینہ طور پر سامان کی ترسیل کا مناسب ثبوت موجود نہیں تھا۔تقریباً 1.1 ارب روپے کی سیلز کو مبینہ طور پر تاخیر سے ریکارڈ کیا گیا۔ٹریڈ ہے ایبل ری کنسلٹیشن میں متعدد بے قاعدگیاں پائی گئیں۔کمپنی نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی نصف سالہ مدت کے اکاؤنٹس تیار اور شائع نہیں کیے۔
مقدمے کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے شائع شدہ مالیاتی بیانات پر چیف ایگزیکٹو، چیف فنانشل آفیسر اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 232 کے تحت مقرر کردہ ڈائریکٹر نے تصدیق کی۔
ایس ای سی پی کے مطابق یہ مالیاتی بیانات مبینہ طور پر کمپنی کے معاملات کی حقیقی صورتحال ظاہر نہیں کرتے تھے اور اثاثوں کے خاتمے کو چھپاتے تھے۔
ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں شیئر ہولڈرز، سرمایہ کاری کرنے والے عوام اور قرض فراہم کرنے والے ادارے مبینہ طور پر گمراہ ہوئے اور کمپنی کو حاصل سہولیات اور قلیل مدتی قرضوں کے ذریعے مزید فنڈز اور کریڈٹ فراہم کرتے رہے۔
ایف آئی اے میں درج مقدمے کے مطابق مبینہ طور پر یہ اقدامات:
PPC کی دفعات 406، 420، 477-A، 109 اور 34
کے تحت قابلِ سزا جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
مقدمے میں درج ناموں میں:
محمد فرخ امین گوڈیل،فہمیدہ امین،جلیس ایدھی،امیر شہزاد،صفدر سجاد،ڈی جے ایم سیکیورٹیز پرائیوٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق دیگر افراد، بشمول سہیلہ فاروق، مجید غازیانی، غفار علی بخش شیخ، سارہ انجم، غلام فاروق اور دیگر کے کردار کا تعین تحقیقات کے دوران کیا جائے گا۔
ایف آئی اے کی دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ تحقیقات صرف نامزد افراد تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ یونٹی فوڈز اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے دیگر ڈائریکٹرز اور افسران،
2.6 ارب روپے کے ایڈوانسز وصول کرنے والے فریقین ،جو ٹی پی ایل اور ہو ہی پی ایل کے خریدار ڈی جے ایم سیکیورٹیز،،یونٹی فوڈز آڈیٹر
قانونی کے ساتھ متعلقہ فریقوں کے لین دین مبینہ طور پر روکے گئے واؤچرز،کمپنی کے ڈپازٹس پر مبینہ لین دین ،اے ایس سی کے حصول سے متعلق فنڈز کا ذریعہ اور ان کی نقل و حرکت کا بھی تعین کیا جائے گا۔ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید قانونی دفعات بھی شامل کی جاسکتی ہیں۔
یہ کیس اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ SECP کے مطابق کمپنی کے شائع شدہ اکاؤنٹس اور اندرونی SAP ریکارڈز میں تقریباً 44.7 ارب روپے کا فرق سامنے آیا،جبکہ مختلف مدات میں اربوں روپے کے قرضوں، ایڈوانسز، رائٹس ایشو فنڈز اور متعلقہ کمپنیوں کے لین دین پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اب اصل امتحان FIA کی تحقیقات کا ہے کہ کیا یہ تمام مالی بے ضابطگیاں محض اکاؤنٹنگ اور انتظامی غلطیاں تھیں، یا واقعی کمپنی کے اربوں روپے کے اثاثوں اور عوامی سرمایہ کو مبینہ طور پر منظم انداز میں منتقل اور استعمال کیا گیا؟