ڈرگ ریگلولیٹری اتھارٹی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے برخلاف تائیوان سے منگوائے گئے طبی آلات کی رجسٹریشن پر تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کن کمپنیوں اور کون سے افسران ملوث ہیں محکمہ جاتی تحقیقات کے بعد کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سپرد کیا جائے گا،تائیوان کے نام پر رجسٹریشن سے ون چائنا پالیسی کو شدید دھچکا لگا ہے ،طبی آلات کی درآمد میں سی پورٹ یا ائیر پورٹ پر کون سی دستاویزات ظاہر کی گئیں اور ڈریپ میں رجسٹریشن کے دوران کس ملک کا فری سیل سرٹیفیکیٹ دیا گیا کیا پاکستان کی تائیوان میں کوئی سفارت خانہ موجود ہے ؟جہاں سے اس سرٹیفیکٹ کا تصدیق نامہ جاری ہوا ہو؟
تائیوان میں تیار کردہ میڈیکل ڈیوائس کے لیے درج ذیل ریکارڈ طلب کیا گیا ہے کہ طبی آلات کی درآمد میں اصل ملک کیا ظاہر کیا گیا ہے ؟.مینوفیکچرر کون ہے؟،مینوفیکچرنگ فیکٹری ایڈریس کیا ہے؟ فری سیل سرٹیفیکٹ کس نے جاری کیا اس کی اتھارٹی کیا اور اس کی تاریخ اجراء کیا ہے؟ دستاویز کی تصدیق کس طرح ہوئی؟پاکستانی سفارتخانے کی تصدیق کہاں موجود ہے؟ ڈریپ کی رجسٹریشن میں اہم فارم 7Aمیں اس شرط کے مقابلے میں کون سی دستاویز قبول کی گئی؟۔
اس ٹحقیقات میں اس حصے کو بھی شامل کیا جائے گا کہ تائیوان کے نام کی کسی دوسرے ملک امریکہ ،برطانیہ ،یوریپن یونین یا ایف ڈی اے یا سی ای کے نام پر رجسٹریشن کردی ہو کیونکہ فری سیل سرٹیفیکٹ کسی بھی ملک میں طبی آلات کی ریگولیٹری کی منظوری یا اس کی اپنی ملکیت ہوتی ہے ۔
واضح رہے کہ کسی بھی ملک سے طبی آلات کی درآمد میں اس ملک کے فری سیل سرٹیفیکٹ اس ملک میں موجود پاکستانی سفارت خانے سے اس طرح کروائی جاتی ہے کہ جو طبی آلات پاکستان درآمد کیا جارہا ہے وہ اس ملک میں ہی تیار ہورہا ہے تو اس کا مکمل ایڈریس کیا ہے اور وہ طبی آلات اس ملک میں آسانی سے دستیاب ہویا رولز 67 کے تحت وہ طبی آلات کسی اور ملک بھی گئے ہوں اور وہاں کا فری سیل سرٹیفیکٹ بھی منسلک ہو کہ یہ کمپنی یا فیکٹری طبی آلات ان ممالک کو بھی ایکسپورٹ کرتی ہے۔
یاد رہے کہ ون چائنا پالیسی کے تحت پاکستان تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کا تائیوان میں کوئی سفارت خانہ بھی موجود نہیں ہے تو پھر غیر قانونی طریقے سے آنے والے طبی آلات کی رجسٹریشن پاکستان میں ڈریپ حکام نے کیسے کر لی جبکہ 2007 اور 2021 میں وزارت خارجہ نے واضح طور پر نوٹیفیکشن کے زریعے اداروں کو آگاہ کیا ہوا یے کہ تائیوان سے منگوائی جانے والے طبی آلات کی رجسٹریشن قانونی نہیں ہوسکتی ہے اصل سوال ہی یہ ہے کہ جب تائیوان میں پاکستان کا سفارت خانہ موجود ہی نہیں ہے تو طبی آلات کی رجسٹریشن کیسے ہوگئی اس طرح تو پاکستان میں تائیوان سے انے والے تمام طبی آلات غیر قانونی ہیں اور ان کے استعمال سے انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے ۔
ڈریپ حکام نے ان طبی آلات کی رجسٹریشن کے لئے کوئی قانونی رائے لی تھی اگر لی تھی تو کون سا ادارہ یا افراد تھے جن سے اس معاملے پر قانونی رائے لی گئی ہو،دوسری جانب 2020 میں ڈریپ کے 31 ویں اجلاس میں تائیوان سے متعلق خارجہ پالیسی پر میدیکل ڈیوائس بورڈ پہلے ہی کارروائی کر چکا ہے تو پھر کیسے اور کس نے اس کی منظوری دی جس سے پاکستامن میں تائیوان کے طبی آلات اب بھی رہے ہیں اور رجسٹرڈ بھی کئے جارہے ہیں یہ پالیسی کب اور کیسے تبدیل ہوئی ہے؟کیا پارلیمنٹ میں کوئی قانونی ترمیم یا تندیلی ہوئی ہے جس سے تائیوان کا مال پاکستان کسٹمز سے کلیئر بھی ہورہا ہے اور مارکیٹ میں فروخت کے لئے بھی دستئیاب ہے ۔کیا منسٹری آف ہیلتھ سے بھی اس کا اجازت نامہ لیا گیا ہے ؟یا طبی آلات کی رجسٹرمیں فری سیل سرٹیفیکٹ کی شرظ ختم کردی گئی ہے ؟
اگر متعلقہ افسر اس شرط کی تکمیل یا اس سے قانونی استثنیٰ کا مستند ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے تو معاملہ محض انتظامی غلطی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ذمہ دار افسران کے کردار، اختیار کے مبینہ تجاوز، قواعد کی خلاف ورزی، منظوری کے طریقہ کار اور ممکنہ انتظامی/قانونی جواب دہی کے تعین کے لیے مزید کارروائی کی ضرورت کے لئے کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سپرد کیا جائے گا۔