ایف آئی اے نے Hum News Network اور میڈیا ایڈورٹائزنگ کمپنی Z2C کے درمیان حوالہ نیٹ ورک کی تفصیلات عدالت میں جمع کرادیں ،ضمنی ابتدائی چالان میں Hum Network کے کمپنی سیکرٹری محسن نعیم کو مفرور ملزم قرار دے دیا گیا ،چالان میں واضح کیا گیا ہے کہ TenSports3 کو Hum Network نے حوالہ کے لئے استعمال کیا،گروپ چیف فنانس افسر محمد حسین عباس اور محسن نعیم بڑی ٹرانزیکشن کے مشترکہ دستخط کنندہ ہیں ۔ضمنی چالان میں تفتیشی افسر کی جانب سے عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا سے معاملہ مشکوک ہوگیا ہے۔؟
ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی کی جانب سے مقدمہ الزام نمبر 10/2026 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کراچی کے روبرو جمع کرائی گئی ابتدائی ضمنی چالان کی چارج شیٹ نمبر 65/2026 میں مبینہ ہنڈی حوالہ اور غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ضمنی چالان کی دستاویزات کے مطابق مقدمہ Foreign Exchange Regulation Act, 1947 کی دفعات 4، 5 اور 23، ترمیمی قانون 2020، بمعہ دفعہ 109 تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج کیا گیا۔دستاویز میں مجموعی طور پر 8 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں JS Bank کے زمزمہ برانچ کے برانچ/ایریا مینیجر نومان رؤف، فارمن سومرو، بختاور خان، فیصل الیاس، محمد عرفان، علی رضا، HUM Network کے کمپنی سیکریٹری محسن نعیم اور گروپ CFO محمد عباس حسین شامل ہیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق انکوائری نمبر 27/2026 میں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ فرمان سومرو اور بختاور خان مبینہ طور پر ہنڈی حوالہ کے غیر قانونی کاروبار اور غیر مجاز غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔دستاویزات کے مطابق 13 فروری 2026 کو FIA کی ٹیم نے زمزمہ کمرشل، DHA کراچی میں کارروائی کی۔ تفتیشی افسر کے مطابق موقع پر فرمان سومرو، بختاور خان اور نعمان رؤف موجود تھے۔تلاشی کے دوران مبینہ طور پر15 ہزار امریکی ڈالر،4 لاکھ 85 ہزار روپے نقد
Infinix Note 50
Samsung Galaxy J-5 Pro
Samsung Galaxy Z Fold-5
برآمد کیے گئے۔تفتیشی افسر کے مطابق موبائل فونز کے ابتدائی جائزے سے مبینہ ہنڈی حوالہ اور غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کے لین دین سے متعلق مواد سامنے آیا۔
ضمنی چالان کی دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ 13 مارچ 2026 کو فرمان سومرو مبینہ طور پر 15 ہزار امریکی ڈالر لے کر JS Bank زمزمہ برانچ پہنچا، جہاں ایف آئی اے کے مطابق نعمان رؤف، فرمان سومرو اور بختاور خان کو ڈالرز کے لین دین کے دوران روکا گیا۔
دستاویزات کے مطابق مذکورہ ڈالرز کی خریداری/فراہمی کے لیے شان عبد الستار اور فرحان عرف راجو سے رابطے کا مواد سامنے آیا۔ضمنی چالان کی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈالرز کی اس ڈیل کی رسیدیں موجود نہیں تھیں، جسے تفتیشی افسر نے مبینہ غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کے لین دین قرار دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً ایک کروڑ 5 لاکھ درہم غیر قانونی چینل کے ذریعے دبئی منتقل کیے گئےجن کا تعلق Tensports سے متعلق ادائیگیوں سے بتایا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق Tensports/TS3 FZ LLC کا تعلق HUM Network سے ہے، جبکہ مبینہ ادائیگیوں کو کرکٹ میچز کے دوران اشتہاری وقت کی خریداری سے منسلک کیا گیا ہے۔
ضمنی چالان میں تفتیشی افسر کا مؤقف ہے کہ یہ رقوم روایتی بینکاری ذرائع سے براہِ راست دبئی منتقل کرنے کے بجائے مبینہ طور پر پاکستان میں مختلف بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئیں، بعد ازاں ہنڈی حوالہ کے ذریعے دبئی میں متعلقہ اکاؤنٹ میں ادائیگی کی گئی۔
چارج شیٹ میں HUM TV/Tower Sports سے متعلق 13 چیکس اور RTGS ادائیگیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق ان ادائیگیوں کی مجموعی مالیت 83 کروڑ 96 لاکھ 50 ہزار روپے
بتائی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق یہ رقوم Media Sensation، Media Tech Solutions اور Tech Partner کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئیں۔ضمنی چالان کی دستاویزات میں تفتیشی افسر کا الزام ہے کہ ان اکاؤنٹس کو بعد ازاں مبینہ ہنڈی حوالہ سیٹلمنٹ کے لیے استعمال کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق مذکورہ 13 چیکس پر محسن نعیم، کمپنی سیکریٹری HUM TV، اور عباس حسین، گروپ CFO HUM TV کے دستخط موجود تھے۔
تفتیشی افسر نے چارج شیٹ میں Z2C اور Brainchild Communications سے متعلق مزید 29 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ ہنڈی حوالہ ادائیگیوں کی تفصیل بھی درج کی ہے۔
دستاویز کے مطابق مختلف تاریخوں میں رقوم
Tech Partner
New Al Madina Iron Store
Mustafa General Traders
Imran Arhar and Commission Agent
Ajmal Traders
سمیت مختلف اکاؤنٹس میں منتقل ہوئیں۔ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ ان اکاؤنٹس کا استعمال مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات میں TenSports3 سے متعلق ادائیگیوں کے لیے ہنڈی حوالہ چینل کے طور پر کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق فیصل الیاس Z2C گروپ میں ڈائریکٹر کوارڈینیشن اور چیف فنانس افسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔دستاویزات کے مطابق انہیں 23 فروری 2026 کو Z2C کے فورم مال کلفٹن کے دفتر سے گرفتار کیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے دو موبائل فونز اور ایک لیپ ٹاپ بھی تحویل میں لیا گیا۔
تفتیشی افسر کا دعویٰ ہے کہ فیصل الیاس کے موبائل فون سے نعمان رؤف اور محسن نعیم کے ساتھ سوشل میڈیا ایپلیکیشن واٹس ایپ پر گفتگو اور اماراتی درہم ،امریکی ڈالر سے متعلق ٹیلی گرافک ٹرانسفر رسیدیں ملی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق فیصل الیاس نے اپنے مبینہ طور پر قریبی دوست محمد عرفان کے ذریعے تین بینک اکاؤنٹس کھلوائے، جنہیں مبینہ طور پر رقوم کی layering اور settlement کے لیے استعمال کیا گیا۔ضمنی چالان کے دستاویزات میں محمد عرفان کو مبینہ پراکسی اکاوئنٹ قرار دیا گیا ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق میڈیا ٹیک سلوشنز،ٹیک پارٹنر اور میڈیا سینسیشن کے اکاؤنٹس استعمال ہوئے۔تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں ہونے والی بڑی مالی سرگرمی محمد عرفان کے مبینہ ذاتی مالی پروفائل سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
ایف آئی اے کے ضمنی چالان کے مطابق محمد عرفان نے تفتیش کے دوران بتایا کہ مذکورہ اکاؤنٹس فیصل الیاس کی ہدایت پر کھولے گئے اور انہیں اکاؤنٹس چلانے کے عوض ماہانہ رقم دی جاتی تھی۔یہ بیان چارج شیٹ میں تفتیشی دعوے کے طور پر درج ہے، جس کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالت کرے گی۔
ضمنی چالان کے مطابق علی رضا Blitz Advertising کے CEO اور Z2C کے مالیاتی امور کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ضمنی چالان میں تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ان کے موبائل فون سے مبینہ طور پر غیر ملکی کرنسی کی شرحوں پر مذاکرات، Hawala rates اور ادائیگیوں سے متعلق WhatsApp گفتگو برآمد ہوئی۔دستاویز میں 28 ہزار 670 برطانوی پاونڈ،ایک لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالرسمیت مختلف رقوم کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں Bee Squared UK اور Bee Squared FZE سے متعلق بتایا گیا ہے۔
ضمنی چالان کے مطابق Bee Squared FZE کا تعلق Z2C گروپ کی sister company سے ہے۔
دستاویزات میں محسن نعیم، کمپنی سیکریٹری HUM Network پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کی ہدایات پر فیصل الیاس اور نعمان رؤف کے ذریعے مبینہ طور پر ہنڈی حوالہ کا مالی نیٹ ورک چلایا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے ضمنی چالان کے مطابق محسن نعیم مختلف کارپوریٹ چیکس اور RTGS ادائیگیوں کے مجاز دستخط کنندہ ہیں۔ضمنی چالان کی دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے ک ایف آئی اے نے انہیں 2 مارچ 2026 کو نوٹس کے ذریعے ریکارڈ سمیت طلب کیا، تاہم تفتیشی افسر کے مطابق وہ تاحال تفتیش میں شامل نہیں ہوئے۔
دستاویزات کے مطابق محمد عباس حسین HUM Network کے گروپ چیف فنانس افسر کے طور پر 13 چیکس ادائیگیوں پر محسن نعیم کے ساتھ دوسرے دستخط کنندہ ہے۔
ضمنی چالان میں تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان ادائیگیوں کے ذریعے رقوم مختلف اکاؤنٹس میں منتقل ہوئیں جنہیں ایف آئی اے مبینہ حوالہ ہنڈی settlement سے منسلک قرار دے رہی ہے۔تاہم چارج شیٹ میں شامل یہ تمام نکات تفتیشی ادارے کے الزامات اور دعوے ہیں، جنہیں عدالت میں ثابت کیا جانا باقی ہے۔
ضمنی چالان کی درج تفصیلات کے مطابق Tower Sports Private Limited سے Tech Partner، Media Tech Solutions اور Media Sensation کے اکاؤنٹس میں مختلف رقوم منتقل ہوئیں۔تفتیشی افسر نے ان تمام مبینہ ٹرانزیکشنز کا مجموعی حجم پاکستانی کرنسی میں تقریباً 78 کروڑ 75 لاکھ روپے بتایا ہے۔دستاویزات کے مطابق مذکورہ رقم دبئی میں TS3 FZ LLC کے بینک اکاؤنٹ تک ہنڈی حوالہ کے ذریعے پہنچائی گئی۔
دستاویزات کے مطابق فرحان عرف راجو کو مبینہ Hawala agent اور شان عبد الستار کو مبینہ handler قرار دیا گیا ہے۔ فرحان عرف راجو سے متعلق سری لنکا اور مصر کے نمبروں سے رابطہ سامنے آیا اور اسے تلاش کیا جا رہا ہے۔اسی طرح بلال عرف پشپا/مجنو کے حوالے سے بھی چالان میں ایک بین الاقوامی موبائل نمبر درج کیا گیا ہے، جسے مبینہ حوالہ settlement سے جوڑا گیا یے تاہم اس حوالے سے تفتیش باقی ہے۔
ضمنی چالان میں تفتیشی افسر نے واضح کیا ہے کہ Z2C اور Tensports کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ ابھی زیرِ تفتیش ہے جبکہ مزید ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔
تفتیشی ادارے کے مطابق Board of Directors اور Executive Management کا کردار مزید تحقیقات کے دوران طے کیا جائے گا۔یہ نکتہ اہم ہے کیونکہ چارج شیٹ میں اعلیٰ انتظامیہ کے کردار کو حتمی طور پر ثابت شدہ قرار دینے کے بجائے اسے مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے ضمنی ابتدائی چالان میں آٹھ نامزد ملزمان کے خلاف دفعہ 173(1)(b)/344 Cr.P.C. کے تحت رپورٹ جمع کراتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک مقدمے کی کارروائی ملتوی رکھی جائے۔