file_000000009c088211a155426b82e1588a

وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم کی سفارش پر نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این سی آئی ایل) علی سید کو دوبارہ چیئرمین اور محمد نعمان خان کو ڈائریکٹر مقرر کر کے تین سال کے لئے نیا بورڈ تشکیل دے دیا ہے ۔

واضح رہے کہ این آئی سی ایل میں مالی بے ضابطگیوں پر 9 سے زائد انکوائریوں میں سے جعلی اور بوگس نوکریاں فراہم کرنے اور غیر قانونی ترقیوں پر انتظامیہ کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے

این سی آئی ایل کے سابقہ بورڈ کی مدت اگست 2023 سے اگست 2026 کے درمیان ہونے چائیے تھی لیکن اس بورڈ کو خلاف ضابطہ تین ماہ تک توسیع رکھی گئی ۔

این آئی سی ایل کے سابقہ تین برس میں بورڈ کے اراکین کی فیس سیکورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کے فیصلے کے برخلاف 50 ہزار سے بڑھا کر 3 لاکھ 75 ہزار روپے کی گئی اور اس بورڈ کے اراکین نے قوانین کے برخلاف ہر ماہ اجلاس منعقد کر کے بورڈ اجلاس کی مد میں 30 کروڑ سے زائد قومی خزانے سے وصول کئے اور ہر اجلاس کے ٹی اے ڈی اے کی مد میں ائیر ٹکٹ ،ہوٹل ،پیٹرول کی مد میں علیحدہ وصولی کی اور این آئی سی ایل کے بورڈ میں فیس کے اضافے کے بعد ایک درجن کے لگ بھگ محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے علیحدہ اجلاس منعقد کئے بعض اجلاس صرف تعزیتی دعاؤں پر ہی شروع ہوکر ختم ہوئے ۔

وفاقی حکومت کے زیرِ ملکیت نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، اجلاسوں کے عوض کروڑوں روپے کی مبینہ ادائیگیوں اور قائم مقام کمپنی سیکریٹری بلال قلی کی اہلیت سے متعلق متعدد سوالات سامنے آگئے ہیں۔ دستیاب کمپنی ریکارڈ، آڈٹ انکشافات اور عدالتی کارروائیوں سے متعلق رپورٹنگ کی روشنی میں ان معاملات پر وزارتِ تجارت، این آئی سی ایل انتظامیہ اور متعلقہ ریگولیٹری حکام سے وضاحت طلب کرنے کی ضرورت ہے۔ان معاملات میں سامنے آنے والے دعوؤں اور مبینہ بے ضابطگیوں کی حتمی تصدیق کے لیے اصل مالی ریکارڈ، تقرریوں کے نوٹیفکیشنز اور متعلقہ قوانین کا جائزہ ضروری ہے۔

وزارتِ تجارت نے 8 اگست 2023 کو این آئی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیلِ نو کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت سامبا بینک کے اس وقت کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد ستار اور عسکری بینک کے سابق صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد ستار کو آزاد ڈائریکٹرز مقرر کیا گیا تھا۔دونوں کی بیک وقت تقرری اس وقت توجہ کا مرکز بنی جب ان کے درمیان ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات عدالتی کارروائی میں اٹھائے گئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالتی کارروائی کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ شاہد ستار اور عابد ستار آپس میں بھائی ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ اگر دونوں کے درمیان خاندانی تعلق ثابت ہوتا ہے تو کیا اس سے متعلقہ قانونی اور کارپوریٹ گورننس قواعد کے تحت ان کی آزاد ڈائریکٹرز کی حیثیت متاثر ہوتی ہے؟

کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 166 میں آزاد ڈائریکٹرز کے انتخاب کے معیار اور متعلقہ مقاصد کے لیے قریبی رشتہ داروں کی تعریف سے متعلق شرائط موجود ہیں۔ تاہم، آیا مبینہ رشتہ داری کی بنیاد پر کسی ایک یا دونوں ڈائریکٹرز کی تقرری خودبخود غیر قانونی یا نااہلی کا سبب بنتی ہے، اس کا تعین متعلقہ قانونی دفعات، قابلِ اطلاق قواعد اور تقرری کے وقت کے حالات کا جائزہ لے کر ہی کیا جا سکتا ہے۔

وزارتِ تجارت اور این آئی سی ایل انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ آیا دونوں ڈائریکٹرز نے اپنے ممکنہ خاندانی تعلق سے متعلق معلومات ظاہر کی تھیں۔؟

این آئی سی ایل میں 2024 کے دوران بورڈ آف ڈائریکٹرز اور مختلف کمیٹیوں کے اجلاسوں کے عوض مبینہ ادائیگیوں کا معاملہ بھی وضاحت طلب ہے۔جائزے کے لیے فراہم کردہ شیڈول میں بورڈ کے 123ویں سے 134ویں اجلاسوں کے علاوہ مارچ، اپریل، ستمبر، نومبر اور دسمبر 2024 کے بعض اجلاسوں سے متعلق ادائیگیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

فراہم کردہ شیڈول کے مطابق بعض اجلاسوں کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار روپے سے 56 لاکھ 25 ہزار روپے تک کی رقوم درج ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد کسی ایک ڈائریکٹر کو ادا کی گئی فیس ظاہر کرتے ہیں یا متعلقہ اجلاس کے لیے مجموعی ادائیگیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

فراہم کردہ رپورٹ میں سالانہ ادائیگیوں کا مجموعہ 3 کروڑ 75 لاکھ روپے بتایا گیا ہے، جبکہ 6 ستمبر 2017 کو وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ ایک ہدایت کے تحت ڈائریکٹرز کی فی اجلاس فیس 50 ہزار روپے تک ہے۔

اس دعوے کی تصدیق کے لیے مذکورہ ہدایت کی اصل دستاویز حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ اس کے درست متن، دائرۂ اطلاق، قانونی حیثیت اور 2024 میں این آئی سی ایل پر اطلاق کا تعین کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ متعلقہ بورڈ قراردادوں اور منظور شدہ فیس شیڈول کی جانچ بھی ضروری ہے۔

فراہم کردہ شیڈول میں درج تمام رقوم کو الگ الگ ادائیگیاں تصور کرتے ہوئے جمع کیا جائے تو مجموعی رقم 6 کروڑ 18 لاکھ 75 ہزار روپے بنتی ہے، جو رپورٹ میں بیان کردہ 3 کروڑ 75 لاکھ روپے سے مختلف ہے۔
تاہم، اصل مالی لیجر، ادائیگیوں کے واؤچرز اور بینک ریکارڈ کی جانچ کے بغیر اس فرق کو حتمی مالی بے ضابطگی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سال 2024 میں ہر ڈائریکٹر کو بورڈ اور کمیٹیوں کے اجلاسوں کے عوض کتنی رقم ادا کی گئی؟
ہر ڈائریکٹر نے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟

فی اجلاس منظور شدہ فیس کتنی تھی اور اس کی منظوری کس بورڈ قرارداد کے تحت دی گئی؟

سال کے دوران کتنے اجلاس منعقد ہوئے اور ان میں باقاعدہ بورڈ اجلاسوں، کمیٹی اجلاسوں اور الگ نشستوں کی تعداد کیا تھی؟

تمام اندراجات کی جانچ اور ممکنہ دوہرے شمار کو ختم کرنے کے بعد اصل مجموعی ادائیگی کتنی بنتی ہے؟

اجلاسوں کی تاریخوں، ڈائریکٹرز کی حاضری، منظور شدہ فیس اور اصل ادائیگیوں پر مشتمل ڈائریکٹر وار تفصیلی ریکارڈ سامنے آنے سے اس معاملے کی درست صورتِ حال واضح ہو سکتی ہے۔

اگر تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو کہ ادائیگیاں کسی نافذالعمل مالی حد سے تجاوز کرتے ہوئے یا ضروری منظوری کے بغیر کی گئیں تو آڈٹ اور ریگولیٹری جانچ کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم، اصل قواعد اور مالی ریکارڈ کی تصدیق کے بغیر اضافی ادائیگی یا قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

کمپنی کے 2022 کے کمپلائنس ریکارڈ کے مطابق فرخ مجید قریشی نے دسمبر 2016 میں بورڈ کی منظوری سے کمپنی سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ان دستاویزات کے مطابق انہوں نے 2023 میں استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد اگست 2023 میں بلال قلی کو کمپنی سیکریٹری کا اضافی چارج سونپا گیا۔

این آئی سی ایل کے شائع کردہ انتظامی تعارف میں بلال قلی کو کمپلائنس اینڈ ایکٹنگ کمپنی سیکریٹری ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کی درج شدہ تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد میں آئی بی اے سے ایمپلائمنٹ لا اینڈ انڈسٹریل ریلیشنز، برطانیہ سے بی ایس سی اِن کمپیوٹر نیٹ ورک ٹیکنالوجی اور پی آئی سی جی سے سرٹیفائیڈ ڈائریکٹر کی سند شامل ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا بلال قلی کی اضافی چارج پر تعیناتی اور بعد کی کسی تقرری پر متعلقہ وقت میں نافذ قانونی، تعلیمی اور تجربے سے متعلق شرائط پوری کی گئی تھیں۔

وزارتِ خزانہ کے فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (سی لیول اپائنٹمنٹس) گائیڈ لائنز 2024 وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں میں کمپنی سیکریٹری سمیت اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرریوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، ان کا اطلاق تقرری کی تاریخ، گائیڈ لائنز کے نفاذ اور متعلقہ قانونی و شعبہ جاتی شرائط کے مطابق جانچنا ضروری ہے۔

مقررہ اہلیت کے مختلف راستوں کا الگ الگ جائزہ بھی اہم ہے۔ ماسٹرز ڈگری کی بنیاد پر اہلیت کے راستے میں متعلقہ ماسٹرز ڈگری کے ساتھ کم از کم پانچ سالہ متعلقہ تجربے کی شرط بیان کی گئی ہے، جبکہ پیشہ ورانہ رکنیت پر مبنی دیگر راستوں کا الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔

دستیاب تعلیمی تفصیلات سے اکیلے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ بلال قلی تمام قابلِ اطلاق شرائط پر پورا اترتے تھے یا نہیں۔ اس کے لیے اصل تعلیمی اسناد، پیشہ ورانہ رکنیت، متعلقہ تجربے کا ریکارڈ، تقرری کا نوٹیفکیشن اور اضافی چارج کی شرائط کی جانچ ضروری ہے۔

این آئی سی ایل انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ اگست 2023 میں کمپنی سیکریٹری کا اضافی چارج کس قانونی اختیار اور بورڈ منظوری کے تحت دیا گیا؟ اس وقت اس عہدے کے لیے کون سی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور تجربے سے متعلق شرائط نافذ تھیں؟ کیا 2024 کی گائیڈ لائنز کے نفاذ کے بعد اس انتظام کو باقاعدہ تقرری یا توسیع کے ذریعے برقرار رکھا گیا؟ اگر بعد میں مستقل تقرری کی گئی تو کیا مقررہ بھرتی اور انتخاب کے طریقۂ کار پر عمل ہوا؟

اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ کمپنی سیکریٹری کی مستقل تقرری کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور اس عمل کا موجودہ نتیجہ کیا ہے۔

این آئی سی ایل کے آڈٹ انکشافات کے مطابق کل وقتی کمپنی سیکریٹری کی تقرری کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ اس عمل کی تازہ ترین صورتِ حال اور نتیجے کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کا جائزہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر لیا جا سکے۔

این آئی سی ایل کے بورڈ کی تشکیل، ڈائریکٹرز کو اجلاسوں کے عوض ادائیگیوں اور کمپنی سیکریٹری کے انتظامات سے متعلق سوالات ایک سرکاری ملکیتی انشورنس کمپنی میں کارپوریٹ گورننس، مالی شفافیت اور قانونی تعمیل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

وزارتِ تجارت، این آئی سی ایل بورڈ اور متعلقہ ریگولیٹری حکام کو چاہیے کہ وہ جانچ کے مجاز اداروں کو متعلقہ دستاویزات فراہم کریں۔ ان میں بورڈ کی تشکیلِ نو کا نوٹیفکیشن، آزاد ڈائریکٹرز کے اعلانات، منظور شدہ فیس شیڈول، اجلاسوں کی کارروائی، حاضری رجسٹر، ادائیگیوں کے لیجر، کمپنی سیکریٹری کی تقرری کے کاغذات اور تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد شامل ہیں۔

اس جائزے میں تصدیق شدہ حقائق، عدالتی کارروائی میں اٹھائے گئے الزامات، حسابات میں سامنے آنے والے ممکنہ فرق اور قانونی جانچ کے بعد ثابت ہونے والی خلاف ورزیوں کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

کیا این آئی سی ایل کے آزاد ڈائریکٹرز کی تقرریاں متعلقہ قانونی معیار کے مطابق ہوئیں؟

کیا 2024 میں بورڈ اور کمیٹیوں کے اجلاسوں کے عوض ادائیگیاں منظور شدہ فیس اور قواعد کے مطابق کی گئیں؟ کیا قائم مقام کمپنی سیکریٹری کی تعیناتی اور بعد کے انتظامات ہر مرحلے پر نافذ قانونی و پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق تھے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے