کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کمرشل پلاٹوں کی نیلامی کے نام پر اربوں روپے کے فراڈ، قبضہ مافیا اور سرکاری ملی بھگت کا خطرناک کھیل بے نقاب ہو گیا ہے۔ انکشافات کے مطابق ایک منظم گروہ، جس کی قیادت مبینہ طور پر اجمل خان کر رہا ہے، نیلامی کے عمل کو ہتھیار بنا کر قیمتی کمرشل پلاٹس پر غیرقانونی قبضہ جمانے میں سرگرم ہے، جبکہ سوسائٹی انتظامیہ خاموش تماشائی نہیں بلکہ سہولت کار بنی ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسٹیٹ انٹرپرائز آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹیڈ میں سال 2022 کی نیلامی کو قبضہ مافیا کے لیے کھلی چھوٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔ سب سے زیادہ بولیاں لگانے کے باوجود کروڑوں روپے کی ادائیگیاں نہ ہونے کے باوجود پلاٹس کی منسوخی روک دی گئی، جس سے سوسائٹی کے خزانے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
دستاویزی شواہد کے مطابق اجمل خان ماضی میں بھی مختلف کوآپریٹو سوسائٹیز میں اسی ہتھکنڈے کے ذریعے داخل ہو کر قیمتی پلاٹس پر قبضے کی کوششوں میں ملوث رہا ہے۔ اس کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات اور انکوائریاں آج بھی زیرِ التوا ہیں، مگر اس کے باوجود اسے اس سوسائٹی میں نہ صرف داخلہ دیا گیا بلکہ ہر اجلاس میں بٹھایا گیا۔


سوسائٹی سیکرٹری مرزا سعید احمد بیگ دعویٰ کرتے ہیں کہ اجمل خان ابھی ممبر نہیں، لیکن حقائق یہ ہیں کہ 5 سے 10 کروڑ روپے مبینہ طور پر جمع کرائے گئے جن کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، اور یہی غیر قانونی رقم انتظامیہ کی خاموش حمایت کا ثبوت بن رہی ہے۔



نیلامی کے قواعد کے مطابق بولی دہندگان کو مکمل ادائیگی مقررہ مدت میں کرنا لازم تھا، بصورت دیگر پلاٹس فوری منسوخ ہونے تھے۔ سوسائٹی نے خود اعلان کیا تھا کہ 18 کمرشل پلاٹس سے تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے، مگر تین سال گزرنے کے باوجود نہ مکمل رقم وصول ہوئی، نہ پلاٹس منسوخ کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق یہی تاخیر قبضہ مافیا کے لیے دستاویزات میں رد و بدل اور قانونی حیثیت ختم کرنے کا سنہری موقع بن چکی ہے۔
عدالتی مستردیاں بھی بے اثر انتظامیہ ڈھال بن گئی
اجمل خان اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے خصوصی عدالت میں دائر کی گئی درخواستیں دو بار مسترد ہو چکی ہیں، اس کے باوجود سوسائٹی سیکرٹری کی مبینہ سرپرستی سے نیلامی کے نتائج کو غیر مؤثر رکھا گیا۔ حتیٰ کہ سوسائٹی کی خصوصی جنرل میٹنگ میں منظور شدہ قرارداد بھی فائلوں میں دفن کر دی گئی۔
دستاویزات کے مطابق بولی دہندگان نے 18 میں سے صرف 10 پلاٹس کی جزوی ادائیگی کا اعتراف کیا، حالانکہ تمام پلاٹس کے لیے تحریری ڈیکلیئریشنز موجود ہیں۔ مزید برآں، پلاٹ SB-08 کی قیمت جان بوجھ کر کم ظاہر کی گئی، جس سے لاکھوں روپے کا فرق پیدا ہوا یہ محض غلطی نہیں بلکہ منظم مالی ہیرا پھیری ہے۔
سمری میں 40 لاکھ روپے ایسی رقم پر بھی دعویٰ کیا گیا جو نیلامی میں ناکام شرکاء کی تھی، جبکہ قانون کے مطابق یہ رقم واپس ہونا لازم تھی۔ یہ عمل نیلامی کو لوٹ مار اسکیم میں بدلنے کے مترادف ہے۔
قبضہ مافیا کی سرپرستی، سوسائٹی خطرے میں
ذرائع کے مطابق اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو سوسائٹی کے قانونی پلاٹس کی حیثیت مشکوک ہو جائے گی اور تمام ممبران کے حقوق شدید خطرے میں پڑ جائیں گے۔ سوسائٹی کے اندرونی ریکارڈ اور دستاویزات واضح طور پر انتظامیہ کی جانبداری اور قبضہ مافیا کی سرپرستی کو بے نقاب کر رہے ہیں۔