Screenshot_2025_1215_194025

سندھ ہائی کورٹ میں ایک اہم آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز کو غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں میں محمد آصف، محمد عادل اوساوالا، پریم چند کوہستانی، محمد فیضان سہیل، وقاص انور، جنید حبیب وید اور نعمان انور شامل ہیں،جنہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے 30 جنوری، 6 فروری اور 12 مارچ 2026 کو جاری کیے گئے نوٹسز غیر آئینی ہیں اور انہیں ہراساں کرنے کے لیے جاری کیے گئے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ نوٹسز اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت جاری کیے گئے، حالانکہ اس قانون کے اطلاق کے لیے کسی بھی بنیادی جرم (Predicate Offence) کا وجود ضروری ہے، جو اس کیس میں موجود نہیں۔

درخواست گزاروں کے مطابق ایف آئی اے کی کارروائیاں دراصل ایک فشنگ اینڈ روونگ انکوائری کا حصہ ہیں، جن کا مقصد نہ صرف درخواست گزاروں کو دباؤ میں لانا ہے بلکہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت دیگر آئینی درخواستوں جن میں کیس نمبر 66/2026، 214/2026، 6077/2025 اور 472/2026 شامل ہیں کے فیصلے پر اثر انداز ہونا بھی ہے، جو پہلے ہی محفوظ کیے جا چکے ہیں۔

درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے ممبران ہیں، جو ملک میں کپاس کی تجارت کا ایک مرکزی اور نمایاں ادارہ ہے۔ یہ تمام افراد آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع “کاٹن ایکسچینج” کی عمارت میں قانونی طور پر قابض ہیں، جو تقریباً 4,611 مربع گز پر مشتمل ہے۔

درخواست کے مطابق مذکورہ جائیداد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کے ذریعے قانونی طور پر لیز پر دی گئی ہے اور 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتی ہے، جبکہ سندھ ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹیز (مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل) ایکٹ 2019 بھی اس مؤقف کی تائید کرتا ہے۔

درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف آئی اے اور ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ نے ایک مقدمہ (FIR نمبر 37/2025) کے ذریعے اس جائیداد کو غلط طور پر “متروکہ املاک” قرار دے کر قبضے کی کوشش کی، حتیٰ کہ عمارت کو سیل کرنے اور قابضین کو بے دخل کرنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔

تاہم درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایف آئی آر اب صرف ایک انکوائری تک محدود ہو چکی ہے اور اس میں کسی بھی قسم کا قابلِ سزا جرم ثابت نہیں ہو سکا۔

درخواست میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سندھ ہائی کورٹ پہلے ہی اس معاملے میں عبوری احکامات جاری کر چکی ہے، جن کے تحت ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو درخواست گزاروں کے خلاف کسی بھی قسم کی زبردستی کارروائی سے روکا گیا ہے، مگر اس کے باوجود ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سیف آئی اے کے جاری کردہ تمام نوٹسز کو کالعدم قرار دیا جائے۔انکوائری نمبر 37/2025 کو غیر قانونی اور آئین کے منافی قرار دیا جائے اور درخواست گزاروں کو ہراساں کرنے سے روکا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت تک درخواست گزاروں کے خلاف کوئی بھی جبری کارروائی نہ کی جائے۔

عدالت نے مزید ہدایت کی ہے کہ ایف آئی اے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھ سکتی ہے، جبکہ وفاق اور صوبے کے لا افسران کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

کیس کی آئندہ سماعت 16 اپریل 2026 کو ہوگی، جہاں اس اہم معاملے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔