جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی تلاش کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے، جس نے جامعہ کراچی سے منسلک تعلیمی و انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سید مراد علی شاہ نے اپنے قریبی دوست اور سابق وائس چانسلر این ای ڈی ڈاکٹر سروش لودھی کی سربراہی میں چارٹر انسپکشن اینڈ اسیسمنٹ کمیٹی تشکیل دی ہے۔جو اج 6 اپریل سے اپنے امور انجام دینا شروع کرئے گی۔


پانچ برس بعد ہونے والی اس اہم انسپکشن میں جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاہم اصل توجہ نئے وائس چانسلر کے ممکنہ انتخاب پر مرکوز ہے۔ دوسری جانب موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی مدت ملازمت 27 جولائی 2026 کو مکمل ہونے کے بعد توسیع کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ موجودہ انسپکشن کمیٹی کے سربراہ خود بھی مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں جبکہ بیوروکریسی سے کسی شخصیت کے تقرر کا امکان بھی زیر گردش ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ اسی انسپکشن کے نتائج کے بعد منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔
ادھر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کی مدت ملازمت ختم ہونے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور یہ معاملہ باقاعدہ طور پر وزیر اعلیٰ سندھ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے اس حوالے سے ایک اہم سمری ارسال کی گئی ہے، جس میں موجودہ وائس چانسلر کی مدت میں توسیع یا نئے وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق فیصلہ طلب کیا گیا ہے۔
یہ سمری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے 26 مارچ 2026 کو ارسال کی گئی، جس کے مطابق موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی پہلی مدت ملازمت 27 جولائی 2026 کو مکمل ہو رہی ہے۔

سمری میں متعلقہ قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ جامعہ کراچی ایکٹ 1972 اور سندھ یونیورسٹیز و انسٹیٹیوٹس لاز (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت وائس چانسلر کی تقرری وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری سے سرچ کمیٹی کی سفارشات پر کی جاتی ہے۔ یہ تقرری چار سال کے لیے ہوتی ہے، جس میں مزید چار سال کی توسیع دی جا سکتی ہے۔


دستاویز کے مطابق وائس چانسلر نے اپنی کارکردگی اور کامیابیوں پر مبنی تفصیلی رپورٹ بھی جمع کرا دی ہے، جسے کلیدی کارکردگی اشاریوں (KPI) کی بنیاد پر جانچا گیا ہے۔ مزید برآں سرچ کمیٹی ایکٹ 2022 کے تحت چیئرمین سرچ کمیٹی اس بات کا پابند ہے کہ وہ وائس چانسلر کی مدت ختم ہونے سے چھ ماہ قبل وزیر اعلیٰ کو سمری ارسال کرے تاکہ بروقت فیصلہ کیا جا سکے۔
سمری میں وزیر اعلیٰ سندھ کو دو واضح آپشنز دیے گئے ہیں،ایک موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی مدت ملازمت میں مزید چار سال کی توسیع دی جائے، جو 28 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو۔یا پھر نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے سرچ کمیٹی کے ذریعے باقاعدہ عمل شروع کیا جائے، جس کے لیے اشتہار کا مسودہ بھی منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔
سمری کے آخر میں وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس اہم معاملے پر فوری اور مناسب احکامات جاری کریں۔ یہ سمری چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع کی جانب سے دستخط کے ساتھ ارسال کی گئی ہے جو موجودہ وائس چانسلر خالد عراقی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔