Screenshot_2026_0501_111415

 

 

کراچی کے علاقے ملیر میں ایک خفیہ اور غیر قانونی دوا سازی یونٹ کا انکشاف ہوا ہے جہاں غیر معیاری اور جعلی ادویات انتہائی غیر صحت بخش ماحول میں تیار کی جا رہی تھیں۔ حکام کے مطابق چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں خام مال، پیکجنگ میٹریل اور تیار شدہ جعلی ادویات برآمد کرلی گئیں۔

سوال یہ ہے کہ اس جعلی کمپنی کے لئے دواؤں کی تیاری میں استعمال ہونے والا اوریجنل خام مال کیسے اس جعلی فیکٹری تک پہنچا اور یہ کمپنی کس کی ملکیت میں شمار ہوگی۔

یہ کارروائی صوبائی ڈرگ ایڈمنسٹریشن سندھ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے مشترکہ طور پر ملیر کے علاقے میمن گوٹھ میں ایک رہائشی مکان پر کی، جسے غیر قانونی فیکٹری میں تبدیل کیا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران دانش نامی ایک ملزم کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق اس یونٹ میں مختلف اقسام کی جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات تیار کی جا رہی تھیں، جن میں پیناڈول، فینوباربٹل، ڈائیزیپام سمیت دیگر اہم ادویات شامل ہیں۔ مزید برآں یہاں ٹراماڈول کی خطرناک حد تک زیادہ طاقت والی 225mg اور 250mg خوراک کی گولیاں بھی تیار کی جا رہی تھیں، جن کی تیاری اور فروخت ان کے غلط استعمال کے خدشے کے باعث ممنوع ہے۔

چھاپے کے دوران سِلڈینافل پر مشتمل ادویات (عام طور پر ویاگرا کے نام سے فروخت ہونے والی) کی جعلی اقسام بھی برآمد ہوئیں، جبکہ درد کش ادویات اور دیگر مصنوعات کو جعلی "انڈین برانڈز” کے نام سے پیک کیا جا رہا تھا۔ برآمد شدہ پیکجنگ میٹریل پر بھارتی مینوفیکچرنگ سائٹس ظاہر کی گئی تھیں تاکہ مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کو درآمد شدہ ظاہر کیا جا سکے۔

اس یونٹ میں اموکسی سلین پر مبنی اینٹی بائیوٹکس جیسے آگمنٹن اور ایموکسل، آئرن سپلیمنٹس اور ملٹی وٹامنز بھی تیار کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ الپرازولم جیسی کنٹرولڈ ادویات انتہائی گندے اور غیر صحت بخش ماحول میں تیار کی جا رہی تھیں، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

حکام کے مطابق موقع سے سینکڑوں کلوگرام ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء (APIs) برآمد ہوئے، جو بڑے پیمانے پر پیداوار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان خام مال میں درد کش ادویات، سکون آور، اینٹی سائیکوٹک ادویات اور مردانہ کمزوری کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات شامل تھیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ادویات مقامی سطح پر تیار کرکے بیرون ملک اسمگل کی جا رہی تھیں، تاہم مکمل نیٹ ورک کا پتہ تفصیلی تفتیش کے بعد ہی چل سکے گا۔ حکام کو شبہ ہے کہ زیادہ طاقت والے ٹراماڈول اور الپرازولم جیسے ادویات افریقی ممالک (خصوصاً نائجیریا) جبکہ بینزوڈائیازیپین گروپ کی ادویات مشرق وسطیٰ (متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب) اسمگل کی جا رہی تھیں۔

یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کراچی کی بندرگاہ پر گزشتہ برسوں کے دوران بھاری مقدار میں ممنوعہ ادویات اور نفسیاتی اثرات رکھنے والی گولیوں کی بارہا برآمدگی ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود حکام تسلیم کرتے ہیں کہ ان نیٹ ورکس کے اصل ذمہ داران تک پہنچنے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے میں اب تک ناکامی رہی ہے۔

حالیہ چھاپے نے ایک بار پھر ریگولیٹری نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

خصوصاً خام مال کی ترسیل، غیر قانونی پیداوار اور اسمگلنگ میں ملوث منظم گروہوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ان اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

حکام کے مطابق ایف آئی اے، ڈریپ اور صوبائی اداروں کے باہمی تعاون سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ سپلائرز، ڈسٹری بیوٹرز اور بین الاقوامی روابط رکھنے والے عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ادویات کے خام مال کی سخت نگرانی، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور سخت سزاؤں کے نفاذ کے بغیر جعلی اور اسمگل شدہ ادویات کے اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے