Screenshot_2026_0506_103859

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کے ماتحت میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز میں مالی سال 2025–26 کے بجٹ کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جہاں ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز کے نام پر جاری کیے جانے والے ٹینڈرز دراصل من پسند افسران اور مخصوص فرمز کو نوازنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال کی طرح اس بار بھی وہی پرانا طریقہ اپنایا جا رہا ہے، جس کا آغاز سابق میونسپل کمشنر افضل زیدی کے دور میں ہوا تھا، اور اب موجودہ میونسپل کمشنر ابرار احمد جعفر بھی مبینہ طور پر اسی روش پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

تحقیقات ڈاٹ کام کی جانب سے میونسپل کمشنر ابرار احمد جعفر کو باضابطہ سوالنامہ ارسال کیا گیا، تاہم انہوں نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا، جس نے شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

15 اپریل 2026 کو جاری ہونے والا اور 4 مئی 2026 کو کھولے جانے والا میڈیکل اینڈ ہیلتھ پروکیورمنٹ 2025–26 کا ٹینڈر ایک بار پھر شفافیت، قواعد و ضوابط اور ادارہ جاتی ترجیحات پر بڑے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہہ واضح نہیں کہ آیا PPRA رولز اور محکمانہ SOPs پر مکمل عمل ہوا یا نہیں
کسی قسم کے دستاویزی شواہد منظر عام پر نہیں لائے گئے

مالی سال 2024–25 میں بھی متعدد ٹھیکے مخصوص افراد اور فرمز کو دیے جانے کے الزامات سامنے آئے، جس سے شفافیت مشکوک ہوئی مسابقتی عمل متاثر ہوا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک پالیسی، کنٹرول میکنزم اور شفافیت کے اقدامات سامنے نہیں لائے جاتے، ایسے عمل پر اعتماد ممکن نہیں۔

حیران کن طور پر بعض کیسز میں
ADP 2024–25 کے تحت ادائیگیاں سامان کی فراہمی اور کام کی تکمیل سے پہلے ہی کر دی گئیں
جو کہ قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے، مگر تاحال کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

انسپیکشن اور انکوائری التواء کا شکار ہیں خریدی گئی اشیاء کی انسپیکشن اور ویری فکیشن مکمل نہیں ہو سکی اینٹی کرپشن اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مراسلات کے باوجود پیش رفت نامعلوم
OT آلات کی انکوائری بھی ابھی تک زیر التواءاس کے باوجود نئی خریداری کے لیے فوری ٹینڈر جاری کر دیا گیا۔

سنگین سوالات یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا واقعی نئے OT آلات کی ضرورت ہے؟کیا پہلے سے موجود اسٹاک کا آڈٹ کیا گیا؟کیا اسپتالوں سے باضابطہ ڈیمانڈ لی گئی؟۔زرائع کا کہنا ہے کہ نہ کوئی آڈٹ نہ اسٹاک ویری فکیشن، نہ اینڈ یوزرز کی سفارش ہیں۔

اہم سوالات تاحال جواب طلب ہیں کہ آخری خریداری کب ہوئی؟،کتنی مقدار میں سامان خریدا گیا؟کتنے آپریشن تھیٹرز فعال ہیں؟،نئی خریداری حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟

حیرت انگیز طور پر اس ٹینڈر کی مالیت تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ادویات کی شدید کمی ہے ،
لیبارٹری سہولیات ناکافی ایکسرے اور الٹراساؤنڈ سسٹمز غیر فعال ہے ایسے میں اس مہنگی خریداری کی ترجیح پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔

15 اپریل 2026 کے ٹینڈر میں
FDA/CE سرٹیفیکیشن
کم از کم 3 سالہ وارنٹی جیسی بنیادی شرائط بھی واضح طور پر شامل نہیں کی گئیں، جو PPRA معیارات کے مطابق لازمی سمجھی جاتی ہیں۔

ان تمام انکشافات کے بعد ماہرین اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے، تمام ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کراچی کے سرکاری اسپتالوں کی بدحال صورتحال اور دوسری جانب کروڑوں کے متنازع ٹینڈرز یہ تضاد ایک بڑے انتظامی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام خاموشی توڑتے ہیں یا یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح دب کر رہ جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے