جامعہ کراچی میں جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کے لئے شروع کیا جانے والا انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی) منصوبہ اب مبینہ مالی بے ضابطگیوں، خلاف ضابطہ بھرتیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اندرونی گٹھ جوڑ کے سنگین الزامات کی زد میں آ گیا ہے جبکہ اہم شخصیات کو بچانے کے لئے پورے نظام کو مبینہ طور پر مخصوص انداز میں چلائے جانے کے انکشافات نے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق 2021 کے اوائل میں جامعہ کراچی میں شروع کئے گئے ای آر پی منصوبے کا مقصد جامعہ کے فرسودہ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا، جس کے تحت ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالہ جات، امتحانی فیس، ڈگریوں کی ترسیل، ملازمین و اساتذہ کی حاضری اور دیگر اہم ریکارڈ کو مکمل طور پر آن لائن نظام میں منتقل کیا جانا تھا تاکہ شفافیت، رفتار اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم منصوبہ شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد اس کے گرد مبینہ بے قاعدگیوں کی کہانیاں گردش کرنے لگیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اُس وقت کے ڈائریکٹر ای آر پی عمر زبیری، جو شیخ الجامعہ کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے ہیں ،مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے بعد ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہوگئے، مگر آج بھی پس پردہ رہ کر جامعہ کراچی کے اہم معاملات میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی کے انتظامی معاملات کو ایک نجی “O کمپنی” کے ماڈل پر چلانے کی حکمت عملی تیار کی گئی تاکہ اہم عہدوں پر موجود بعض افسران کو مبینہ تحفظ فراہم کیا جا سکے اور حساس معاملات کو محدود حلقوں تک رکھا جائے۔


دوسری جانب موجودہ ڈائریکٹر فنانس کی تعیناتی کے بعد ای آر پی منصوبے کے اندر خاموش مگر اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ ذرائع کا الزام ہے کہ ای آر پی سسٹم کو شفافیت کے بجائے من پسند افراد کی بھرتیوں کے لئے استعمال کیا گیا، جبکہ رجسٹرار جامعہ کراچی کے ذریعے متعدد کنٹریکٹ ملازمین کو مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کے برعکس بھرتی کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مالی بحران کا شکار جامعہ کراچی میں ایک جانب ملازمین کو مالی مشکلات کا سامنا رہا، تو دوسری جانب ڈائریکٹر فنانس کو مبینہ طور پر خلاف ضابطہ رہائشی مکان الاٹ کیا گیا اور جامعہ کے فنڈز سے لاکھوں روپے رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر خرچ کئے گئے۔
ادھر تحقیقات ڈاٹ کام نے سابق ڈائریکٹر ای آر پی عمر زبیری سے مؤقف لینے کے لئے رابطہ کیا تاہم انہوں نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ موجودہ ڈائریکٹر فنانس سے بھی متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔ اگر متعلقہ حکام اپنا مؤقف دینا چاہیں گے تو اسے من و عن شائع کیا جائے گا۔