ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کراچی نے معروف دوا ساز کمپنی بیریٹ ہاجسن پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سائٹ صنعتی ایریا میں واقع ہیڈ آفس پر بڑا چھاپہ مار کر اہم مالی ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا۔منی لانڈرنگ کے مقدمے کی کارروائی کے دوران کمپنی کو فروخت کرنے کی کوشش پر معلومات ملنے کے بعد ایف بی آر کی ٹیم نے کارروائی کی۔
ایف بی آر کی ٹیم آٹھ گھنٹے سے زائد وقت تک کمپنی کے دفتر میں موجود رہی، جہاں اکاؤنٹس، شیئر ہولڈنگ، بینک ٹرانزیکشنز اور دیگر حساس دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چھاپے کے بعد کمپنی کی فروخت اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یاد رہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کراچی نے 23 اپریل 2026 کو ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر مقدمہ نمبر 02/2026 درج کیا تھا۔
مقدمے میں کمپنی کی ڈپٹی چیئرپرسن اور سی ای او ڈاکٹر ارم آفاق، ایگزیکٹو ڈائریکٹر فنانس محمد عباس، منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن تھرانی، ڈائریکٹر و کمپنی سیکریٹری طارق محمد امین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ آر و کارپوریٹ افیئرز محمد فیروز عالم کو نامزد کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق ملزمان پر جعلی دستاویزات کے ذریعے شیئرز کی غیر قانونی منتقلی، اربوں روپے کی مالی خوردبرد، کمپنی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال، ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی منتقلی، ٹیکس چوری، آمدن چھپانے اور جعلی معاہدوں کے ذریعے قیمتی اثاثوں پر قبضے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ کے تاج انٹرنیشنل کیس کے فیصلے کے بعد عمل میں آئی، جس کے تحت ایف بی آر نے بڑے مالیاتی جرائم میں ملوث کمپنیوں کے خلاف براہ راست منی لانڈرنگ مقدمات درج کرنے اور اثاثے منجمد کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔
دوسری جانب ذرائع نے ایف بی آر کے مبینہ دوہرے معیار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق بعض کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کے دوران فوری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، جبکہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری کے دیگر کیسز متعلقہ ریجنل ٹیکس دفاتر کو منتقل کر دیے جاتے ہیں، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔