Screenshot_2025_1024_124113

کراچی کے صرافہ بازار میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے چھاپے کے دوران ایک تاجر پر مبینہ تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ، قانونی طریقہ کار اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں ایک نجی شخص کو دکاندار کو تھپڑ مارتے اور بعد ازاں ایف آئی اے اہلکاروں کو تاجر پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد بازار میں شدید احتجاج پھوٹ پڑا۔

واقعے کی سنگینی کے پیش نظر ڈاکٹر عثمان انور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے منتظر مہدی سے 48 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

14 مئی کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم نے صرافہ بازار میں ایک جیولر کی دکان پر چھاپہ مارا۔ کارروائی اس وقت تنازع کا شکار ہوگئی جب ڈپٹی ڈائریکٹر سید علی مردان شاہ کے مبینہ نجی ملازم بلال نے دکان میں داخل ہوتے ہی تاجر کو تھپڑ رسید کر دیا۔

اس کے فوراً بعد ایف آئی اے اہلکار بھی تاجر سے الجھ پڑے۔ ویڈیو میں اہلکاروں کو دکاندار کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر موقع پر موجود تاجروں نے شدید احتجاج کیا۔

اس کارروائی کی سربراہی ایس ایچ او سب انسپکٹر محمد اقبال اسماعیل کر رہے تھے، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی سپروائزری افسر تھیں۔
ویڈیو میں انسپکٹر اشرف جان، سب انسپکٹر عدنان دلاور اور دکان کے باہر انسپکٹر سہیل شیخ بھی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

چھاپے کے دوران صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب تاجروں کی بڑی تعداد دکان کے باہر جمع ہوگئی۔ احتجاج بڑھنے پر پولیس کی اضافی نفری طلب کرنا پڑی۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر عثمان انور نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔
قانونی تقاضوں اور دستیاب شواہد کا تفصیلی معائنہ کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کا فرانزک جائزہ لیا جائے۔
ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی نے سب انسپکٹر محمد اقبال اسماعیل کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے زونل آفس رپورٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

اس کارروائی میں ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی ایک اور نااہلی بھی عیاں ہوئی کہ معطل ہونے والے سب انسپکٹر نے وردی پر جو پھول سجائے وہ انسپکٹر کے ہیں اور یہ کسی بھی کارروائی کے دوران سردی پر اپ رینک پھول استعمال کرنا مس کنڈیکٹ کے زمرے میں آتا ہے ۔یادر رہے کہ محمد اقبال اسماعیل کو سزا کے طور پر سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار نے انسپکٹر سے تنزلی کرتے ہوئے سب انسپکٹر کے عہدے پر برقرار رکھا تھا

یہ واقعہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے تحت ایف آئی اے کے ماتحت اینٹی ٹارچر سیل قائم ہے، جو شہریوں کے خلاف غیر قانونی تشدد کی روک تھام کے لیے بنایا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر اسی سرکل کے اہلکار اب خود تشدد کے الزامات کی زد میں آ گئے ہیں۔

اب تمام نظریں صرافہ بازار مارکیٹ ایسوسی ایشن اور جیولرز تنظیموں پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ معاملے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہیں یا نہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر متاثرہ تاجر یا تاجر تنظیم عدالت سے رجوع کرتی ہے تو عدالت انسانی حقوق کے نمائندے کے ذریعے آزادانہ انکوائری کرا سکتی ہے، جس کی بنیاد پر متعلقہ افسران کے خلاف فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

تحقیقات ڈاٹ کام کی جانب سے جس جیولرز شاپ پر ایف آئی اے نے چھاپہ مارا وہاں موجود علی احمد عمران سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اہلکار اس طریقے سے آئے کہ ہم سمجھے ڈکیت آگئے ہیں اور انہوں نے آتے ہی پہلے سی سی ٹی وی کی ڈی وی آر کا کنیکشن ختم کیا لیکن بیک ہینڈ پر ریکارڈنگ ہوتی رہی تھی جس کا انہیں احساس نہیں تھا اسی لئے ویڈیو سامنے آئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس پرتشدد کارروائی پر سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست جمع کروادی گئی ہے۔

تحقیقات ڈاٹ کام کی جانب سے ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر سید علی مردان شاہ کو تحریری سوالات ارسال کیے گئے، تاہم خبر کی اشاعت تک دونوں افسران کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے