جامعہ کراچی میں نئے شیخ الجامعہ کی تقرری کے لیے جاری رسہ کشی میں سابق وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق سربراہ ڈاکٹر سروش حشمت لودھی بھی میدان میں آ گئے ہیں۔ ان کی امیدواری نے جامعہ کراچی کے انتظامی اور تدریسی حلقوں میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے وائس چانسلر کے لیے عمر کی حد 62 سے بڑھا کر 65 برس کیے جانے کے فیصلے نے ڈاکٹر سروش لودھی کے لیے قانونی راستہ کھول دیا۔ تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ یکم جون 2026 کو 66 برس کے ہو جائیں گے، جس کے باعث ان کی نامزدگی مستقبل میں قانونی چیلنج کی زد میں آ سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ درخواست جمع کرانے کے وقت ان کی عمر مقررہ حد کے اندر تھی، اس لیے انہیں امیدواروں کی فہرست میں شامل کرنا قواعد کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ امکان موجود ہے کہ ان کی اہلیت کو عدالت میں چیلنج کیا جائے۔
دوسری جانب جامعہ کراچی کے ایڈمن بلاک اور کوالٹی انہاسمنٹ سیل کے بعض بااثر افسران نے ڈاکٹر سروش لودھی کے حق میں غیر رسمی مہم شروع کر دی ہے۔ جامعہ کے مختلف حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ وائس چانسلر مقرر ہوئے تو انتظامی معاملات انہی مخصوص افراد کے اثر و رسوخ میں رہیں گے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس مہم کے پس پردہ بعض ایسے افسران ہیں جو ماضی میں بطور ریکوری افسر عہدے پر فائز رہے اور نئے انتظامی سیٹ اپ میں بھی اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
جامعہ کراچی کے شعبہ ریکوری سے منسلک رہنے والے افسر نے اس مہم کے لئے احتجاجی تحریک میں شامل بعض ملازمین رہنماؤں کو بھی یقین دہانی کروانا شروع کردی ہے کہ ان کے مسائل حل کردئیے جائیں گے ۔
اہم بات یہ ہے کہ باخبر ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سروش لودھی خود اپنے نام پر چلنے والی اس مہم اور پس پردہ سرگرمیوں سے لاعلم ہیں۔
جامعہ کراچی میں وائس چانسلر کی تقرری کا عمل اب صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہا بلکہ یہ قانونی موشگافیوں، اندرونی گروپ بندی اور طاقت کے مراکز کے درمیان ایک اہم معرکہ بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا ڈاکٹر سروش لودھی کی امیدواری برقرار رہتی ہے یا یہ معاملہ عدالتوں تک پہنچتا ہے۔