Screenshot_2026_0507_153058

جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی تعیناتی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہی بلکہ یہ طاقت، اثرورسوخ، زمینوں اور سیاسی مفادات کی جنگ میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ جامعہ کے اندر اور باہر طاقتور حلقے متحرک ہیں جبکہ “کنگ میکر” بننے کی خواہش رکھنے والے سابق وائس چانسلر نے پس پردہ سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔

یاد رہے کہ جامعہ این ای ڈی نے 2022 میں جامعہ کراچی کے سلور جوبلی گیٹ کے سامنے والی زمین حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اس وقت جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے دستاویزات میں ثابت کیا تھا کہ یہ زمین جامعہ کراچی ملکیت ہے اس لئے جامعہ این ای ڈی یہ زمین حاصل نہیں کرسکی جہاں سے طاقتور حلقوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب سمجھے جانے والے ایک سابق وائس چانسلر اگرچہ عملی طور پر خود اس دوڑ سے باہر ہوچکے ہیں، تاہم اب وہ اپنی مرضی کا وائس چانسلر لانے کے لیے متحرک ہیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ممکنہ امیدواروں کی لابنگ شروع کررکھی ہے اور چار اہم ناموں میں سے دو امیدواروں کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات بھی کراچکے ہیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کا مرحلہ حتمی شکل اختیار کرے گا اور سیکریٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹیز کے ذریعے تین یا چار نام وزیراعلیٰ ہاؤس ارسال کیے جائیں گے، جہاں اصل فیصلہ ہوگا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جامعہ کراچی میں میں برسر اقتدار اساتذہ کا ایک مخصوص گروپ بھی چاہتا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر کی مدت ملازمت میں توسیع نہ ہو اور اسی لئے ان کی۔خواہشات میں ہے کہ سابق وائس چانسلر قائم مقام کی حیثیت سے تعینات ہو کر نئے وائس چانسلر کی آمد تک جامعہ کا انتظام سنبھال لیں جس کے لئے اس مخصوص اساتزہ کے گروپ کی ملاقات بھی ہوچکی ہے۔کنگ میکر بن کر رہنے والے سابق وائس چانسلر کی پہلی ترجیح ایک طاقتور ایڈمنسٹریٹر (بیوروکریٹ)، دوسری ترجیح لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر، تیسری ترجیح جامعہ کراچی کے سابق رجسٹرار موجودہ حیدرآباد کی نئی جامعہ کے وائس چانسلر جبکہ چوتھی ترجیح جامعہ کراچی کے ایک سابق وائس چانسلر کی اہلیہ کو قرار دیا جارہا ہے۔

اندرونی حلقوں کے مطابق جامعہ کراچی کے اساتذہ کے ایک مخصوص گروپ کی حمایت بھی ان کوششوں کے ساتھ موجود ہے جبکہ کراچی کی ایک اہم سیاسی جماعت بھی کم از کم ایڈمنسٹریٹر کے نام پر خاموش حمایت کرتی دکھائی دیتی ہے۔

تعلیمی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جارہا ہے کہ آیا جامعہ کراچی کے نئے شیخ الجامعہ کے انتخاب میں تعلیمی وژن، تحقیق اور انتظامی صلاحیت کو ترجیح دی جائے گی یا پھر جامعہ کی اربوں روپے مالیت کی زمینیں اور اختیارات ہی اصل فیصلہ کن عنصر بنیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے