جامعہ کراچی میں اساتذہ اور ملازمین کے مسلسل 25 روزہ احتجاج نے بالآخر ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور سندھ کے تعلیمی حکام کو بھی متحرک کردیا، تاہم بحران تاحال برقرار ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے وائس چانسلر جامعہ کراچی خالد عراقی کو طلب کرلیا جبکہ انجمن اساتذہ کے صدر ڈاکٹر غفران عالم سے بھی براہِ راست ٹیلی فونک رابطہ کرکے احتجاج ختم کرنے اور عید کے بعد مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی گئی، جسے بعد ازاں اساتذہ تنظیم نے مسترد کردیا۔
پیر کو جامعہ کراچی میں احتجاجی تحریک کا 25 واں دن تھا۔ ایک جانب انجمن اساتذہ، افسران اور ملازمین کی جانب سے بھرپور احتجاجی ریلی نکالی گئی جبکہ دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے تحت طلبہ نے امتحانات کے بائیکاٹ اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔ جامعہ عملاً احتجاجی نعروں اور بے چینی کی فضا میں گھری رہی۔
ذرائع کے مطابق احتجاجی ریلی کے بعد وائس چانسلر خالد عراقی کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے دفتر طلب کیا گیا جہاں چیئرمین HEC طارق رفیع اور سیکرٹری ایجوکیشن بورڈ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں جامعہ کراچی میں جاری احتجاج، امتحانات کے بائیکاٹ، انتظامی بحران اور تدریسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران وائس چانسلر خالد عراقی نے اپنے موبائل فون سے انجمن اساتذہ کے صدر ڈاکٹر غفران عالم کو کال کی اور طارق رفیع سے ان کی براہِ راست بات کروائی۔ طارق رفیع نے غفران عالم سے اپیل کی کہ احتجاجی تحریک ختم کرکے عید کے بعد مذاکرات شروع کیے جائیں تاکہ تعلیمی بحران پر قابو پایا جاسکے۔
ڈاکٹر غفران عالم نے جواب میں کہا کہ وہ اس معاملے پر تنظیمی مشاورت کے بعد آگاہ کریں گے۔ بعد ازاں انجمن اساتذہ نے ہنگامی مشاورت اور پریس کانفرنس کے بعد HEC کی مذاکراتی پیشکش مسترد کرتے ہوئے دوٹوک اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
قبل ازیں جامعہ کراچی میں اساتذہ، افسران اور ملازمین کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی میں شدید نعرے بازی کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ ہاؤس سیلنگ، لیوانکیشمنٹ، بقایا جات اور دیگر آئینی و قانونی حقوق کی مسلسل بندش نے ملازمین اور اساتذہ کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر ڈاکٹر غفران عالم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ، افسران اور ملازمین کے جائز حقوق مزید دبائے نہیں جاسکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر مسائل حل نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کردیا جائے گا۔
ریلی میں شریک خواتین اساتذہ اور ملازمین نے بھی بھرپور شرکت کی اور اپنے حقوق کے حق میں آواز بلند کی۔ شرکاء نے اعلان کیا کہ آئینی، قانونی اور معاشی حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ کراچی کے تحت طلبہ و طالبات نے امتحانات کے بائیکاٹ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ تعلیم کو مذاق بنا دیا گیا ہے، طلبہ رات بھر جاگ کر امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، پیٹرول خرچ کرکے شدید گرمی میں جامعہ پہنچتے ہیں مگر وہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ پیپر منسوخ کردیا گیا ہے۔
طلبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ جب حاضری کم ہونے پر اساتذہ امتحان میں بیٹھنے نہیں دیتے تو اب مکمل تیاری کے باوجود امتحانات کا بائیکاٹ کیوں کیا جارہا ہے۔
احتجاجی طلبہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارش، سردی، گرمی اور رمضان میں مسلسل کلاسز لیں، اب امتحانات منسوخ کرکے ان کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔