fia_logo

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی 14 مئی کو صرافہ بازار میں عمران جیمز اینڈ جیولرز پر کارروائی کے دوران تاجروں پر تشدد کی تحقیقات جاری ہیں ۔ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ مجاہد اکبر نے اس کارروائی میں شامل افسران کو شوکاز نوٹس جاری کئے ہوئے ہیں جبکہ ایف آئی اے زونل آفس کراچی میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن میاں صابر کو اس کارروائی میں شامل انسپکٹرز سے ہیڈ کانسٹیبل تک شامل افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے لئے نامزد کیا گیا ہے ۔جبکہ دو اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ اور رباب قاضی کے خلاف کارروائی صرف تبادلے تک محدود ہے ۔

صرافہ بازار کی کارروائی میں انکشاف ہوا ہے کہ مبینہ طور پر پورے صرافہ بازار کے دکانداروں کو دباؤ میں لینے کے لئے یہ ٹریپ کارروائی کی گئی جو ایف آئی اے افسران کی ناقص حکمت عملی کے باعث آشکار ہوئی اور پوری ایف آئی اے کراچی کی بدنامی کا باعث بھی بن گئی۔

ایف آئی اے زونل آفس کراچی میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی اس ٹیم کے خلاف تحقیقات جاری ہے جو اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعیناتی کے دوران صرافہ بازار میں العمران جیمز اینڈ جیولرز پر کارروائی میں تشدد میں ملوث تھی ۔

ایف آئی اے کے زرائع کا کہنا ہے کہ ابتدا میں اس دکان پر 178 کلو اسمگل چاندی رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم اس دکان سے مجموعی طور پر 15 کلو چاندی برآمد ہوئی جس کے تمام دستاویزات بھی ایف آئی اے کو دکان دار کی جانب سے موقع پر فراہم کردئیے گئے تھے ۔ایف آئی اے نے دکاندار پر الزام عائد کیا کہ 178 کلو چاندی دکان سے غائب کی گئی تاہم عملی طور پر اس لئے بھی ناممکن ہے کہ جس مقام پر ایف آئی اے نے کارروائی کی وہ دونوں دکانیں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور دکان کے باہر ایف آئی اے انسپکٹر اور اہلکار بھی موجود تھے اور اتنی بڑی تعداد میں یہ سامان اتنی آسانی سے غائب نہیں ہوسکتا ہے اور اس کی دوسری بڑی مثال اس واقعہ کے بعد ایف آئی اے نے چوری کی کوئی درخواست متعلقہ تھانے کو نہیں دی ہے جب کہ العمران جیمز اینڈ جیولرز نے پولیس سے رابطہ کیا ہے اور ایف آئی اے کی کارروائی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس ٹیم کی غیر قانونی کارروائی پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لئے عدالت سے رجوع بھی کر لیا ہے۔

زرائع کا کہنا ہے کہ 14 مئی کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے اس کارروائی میں مبینہ طور پر پورے صرافہ بازار اور تاجروں کو دباؤ میں لینا تھا جس کے لئے ٹریپ کارروائی کی حکمت عملی اپنائی گئی اور سوشل میڈیا پر وائرل سی سی ٹی وی کی تصاویر میں واضح ہے کہ جس وقت ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی ٹیم چھاپے کے لئے پہنچی اس سے قبل دکان میں ایف آئی اے کا مخبر خاص بھی موجود تھا ۔جسے ایف آئی اے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کے پرائیوٹ ڈرائیور بلال نے تھپڑ مارا تھا ۔

ایف آئی اے زرائع کا کہنا ہے کہ حکمت عملی کے مطابق العمران جیمز اینڈ جیولرز سے پہلے 100 کلو چاندی کا سودا طے کیا گیا اور العمران جیمز اینڈ جیولرز کے مالک عمران نے صرافہ بازار سے مختلف دکانوں پر سودا کر کے 100 کلو چاندی کا ہدف مکمل کیا اور خریدار کو بھی دکان انے کو کہا کہ اس کی ڈیل مکمل کر لے تاکہ کچھ منافع حاصل ہو اس کے لئے یہ طے ہوا تھا کہ جس طرح وہ ادائیگی کرئے گا تو مختلف دکانوں سے چاندی خرید کر 100 کلو چاندی پوری کر لی جائے گی تاہم اس سے پہلے ہی ایف آئی اے کی ٹیم چھاپہ مار کر پہنچ گئی اس لئے انہیں مارکیٹ سے خریدی گئی چاندی بھی نہیں ملی جس سے تمام کارروائی پر پانی پھیر گیا ۔یاد رہے کہ جس طرح کی ٹریپ کارروائی کی گئی تھی اگر اس میں 100 کلو چاندی برآمد بھی ہو جاتی تو اس میں غیر قانونی عمل کیا تھا لیکن متاثرہ شخص عدالتوں کے چکر لگا لگا کر تھک جاتا۔

واضح رہے کہ ماضی میں ایف آئی اے کی حوالہ ہنڈی کی کارروائیوں میں بھی اسی طرح کے ٹریپ کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں جس میں ملزمان سے لوکل کرنسی برآمد ہوتی ہے ایف آئی اے اس میں غیر ملکی کرنسی شامل کرتی ہے پھر مقدمے کا اندراج کیا جاتا ہے تاہم یہ مقدمہ عدالتی کارروائی میں ثابت نہیں ہوتا لیکن متاثرہ شخص کی رقم اور وہ خود دو سے تین برس تک عدالتوں کے چکر میں لگا رہتا ہے اور ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی کارروائی میں ضبط شدہ رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کرانے سے پہلے غائب کر دی جاتی ہے اس طرح کے واقعات ایف آئی اے کے ریکارڈ پر موجود ہیں ۔

دوسری جانب ایف آئی اے کی چھاپہ مار ٹیم میں شامل پرائیوٹ شخص اور ایس ایچ او سب انسپکٹر اقبال کی جانب سے تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آگئی جس سے ایف آئی اے کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی اسی لئے اس ٹیم پر تحقیقات جاری ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی کے منظور نظر دو افسران اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی کا صرف تبادلہ کیا گیا ان کے خلاف تاحال کوئی انکوائری شروع نہیں کی گئی جب کہ یہ دونوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہی سپراوائزری افسران تھے اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کے پرائیوٹ ڈرائیور بلال کے خلاف اس کارروائی کے دوران تشدد کرنے کا مقدمہ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں درج کیا گیا ہے جس پر تاحال کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے