Screenshot_2026_0507_153058

جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کے انتخاب میں صوبائی حکومت کے من پسند نمائندے کی فہرست میں سابق کمشنر کراچی پاکستان ایڈمنسٹریٹر سروسز گریڈ 22 کے افسر نوید احمد شیخ بھی شامل ہوگئے ہیں ۔

سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی سیف الرحمن بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر دوڑ سے باہر ہونے کا امکان ہے ۔

وائس چانسلر کی دوڑ میں شامل طویل فہرست کی اسکروٹنی کا عمل تاحال جاری ہے ۔جامعہ کراچی میں جاری احتجاجی تحریک کے مستقل خاتمے کے لئے بھی لائحہ عمل پر غور کرلیا گیا ہے تاکہ نئے وائس چانسلر کو ابتدا سے انتظامی امور میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کا معاملہ تاحال سوالیہ نشان ہے اور اس طویل فہرست میں شامل افراد کے لئے جامعہ کراچی کی موجودہ انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے قریبی سمجھے جانے والے سابق وائس چانسلر اور ان کے قریبی رفقاء کے ساتھ ہونے والی رسہ کشی میں کسی حتمی نتیجے نہیں پہنچ سکے ہیں۔

جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی طویل فہرست میں شامل پاکستان ایڈمنسٹریٹر سروسز کے گریڈ 22 کے افسر نوید احمد شیخ سابق وائس چانسلر اور سندھ حکومت کے من پسند افسر کی صورت میں سامنے آئے ہیں اور گزشتہ دنوں وزیر اعلی ہاؤس میں اہم شخصیات سے ملاقات کے بعد صوبائی سطح پر اعلی عہدوں پر تعینات افسران کی جانب سے ان کے لئے مختلف حلقوں میں ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سابق ایڈمنسٹریٹر سید الرحمن صوبائی حکومت کے من پسند نمائندے تھے تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء پر وہ اس دور سے تقریبا باہر ہوگئے ہیں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ناسازی طبع کی وجہ سے وہ گزشتہ 20 یا 25 دن سے نیشنل۔انسٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) بھی نہیں آرہے ہیں ۔

یاد رہے کہ گریڈ 22 میں تعینات نوید احمد شیخ سیکرٹری پاورٹی ایلیوویشن اور سوشل سیفٹی ڈویژن کے ساتھ بیت المال پاکستان کے ڈائریکٹر کا بھی اضافی چارج ان کے پاس ہے ۔وہ ماضی میں سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزیر اعلی ہاؤس میں انسپکشن کمیٹی کے سربراہ اور کراچی کے کمشنر کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دیتے رہے ہیں ۔

جامعہ کراچی میں صوبائی حکومت کے من پسند سابق وائس چانسلر کے من پسند نئے وائس چانسلر کی فہرست میں لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر ،سابق رجسٹرار جامعہ کراچی موجودہ حیدرآباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر جن کے دور میں جامعہ کراچی قومی احتساب۔ بیورو کے ریڈار پر بھی رہی ہے وہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے