Skip to content

Tehqiqat

Primary Menu
  • صفحہ اول
  • کسٹم
  • ایف آئی اے
  • این سی سی آئی اے
  • ایف بی آر
  • نیب
  • سی اے اے
  • ریلوے
  • ای او بی آئی
  • تعلیم
  • بینکنگ
  • اینٹی کرپشن
  • ایس اینڈ جی ڈی
  • صحت
ہمیں فالو کریں
  • Home
  • گو پٹرولیم اور ٹرمینل ون لمیٹڈ پر اربوں روپے کے ڈیوٹی و لیوی فراڈ کا الزام، ایف آئی اے کے مقدمے میں کسٹمز اور اوگرا افسران کو سہولت کاری فراہم کرنے کی کوشش
  • ایف آئی اے
  • ایف بی آر
  • کسٹم

گو پٹرولیم اور ٹرمینل ون لمیٹڈ پر اربوں روپے کے ڈیوٹی و لیوی فراڈ کا الزام، ایف آئی اے کے مقدمے میں کسٹمز اور اوگرا افسران کو سہولت کاری فراہم کرنے کی کوشش

Nadir Khan Nadir Khan جون 25, 2026
Screenshot_2026_0625_051629

مشرقی وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے دوران پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پیٹرولیم کمپنیوں کو اربوں کا فائدہ پہنچایا دوسری جانب کسٹمز کی مبینہ ملی بھگت سے گیس اینڈ آئل کمپنی (Go petroleum) نے 36 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول پورٹ قاسم آئل سیکشن اور محمود کوٹ کی لائن سے چوری کر کے اربوں روپے قومی خزانے کو نقصان پہنچا دیا ۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں مقدمہ درج کر لیا گیا ،امپورٹ پیٹرولیم کی نگرانی پر بیٹھنے والے دو بڑے اداروں پاکستان کسٹمز اور اوگرا افسران کو بچانے کی کوشش کی گئیں ،اربوں روپے کا پیٹرول چوری کرنے والی پیٹرولیم کمپنی اور ٹرمینل ون لمیٹیڈ (TOL) کے افسران کو گرفتاری کے بجائے عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ۔

ایف آئی اے کراچی اربوں روپے کے اسکینڈل میں ملوث کمپنی اور ان کے سہولت کاروں کو کیسے گرفت میں لائیں گے کیا وفاقی حکومت اس اسکینڈل پر سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث سرکاری عناصر کے خلاف کارروائی کا حکم دے سکتی ہے؟

ایف آئی اے کے مقدمے میں پورٹ قاسم کلکٹریٹ آئل سیکشن کے افسران کو بچانے کی کوشش کی گئی ،اوگرا کے اعلی افسران کو بھی ریلیف دیا گیا ۔

مشرقی وسطیٰ کی جنگی صورتحال میں جہاں عسکری قیادت دفاع پر تھی وہاں کسٹمز حکام کو درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی بہتر کرنا تھی لیکن اس صورتحال میں پیٹرولیم کمپنی کے ساتھ ملی بھگت کر کے مجموعی طور پر 36 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول سرکاری سرپرستی میں چوری کرایا گیا جس کی اطلاع ایف آئی اے کراچی زون میں جاری پیٹرولیم کمپنیوں کے خلاف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دی گئی۔

اس تحقیقات میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں جاری انکوائری کے دوران اوگرا اسلام آباد میں موجود ممبر آئل زین العابدین قریشی کو 22 مئی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا اور ان سے آئل گیس کمپنی (GO petroleum) کا ریکارڈ طلب کیا گیا تاہم مبینہ طور پر اوگرا کی جانب سے ایف آئی اے کو ریکارڈ فراہمی میں تذبذب سے کام لیا گیا اس دوران 22 جون کو ایف آئی اے کی اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ پورٹ قاسم کلکٹریٹ پر موجود آئل سیکشن ساڑھے چار ہزار میٹرک ٹن پیٹرول بغیر گڈز ڈیکلریشن فائل کئے چوری کرلیا گیا ۔

ایف آئی اے نے جب پورٹ قاسم کلکٹریٹ سے اس ریکارڈ سے متعلق پوچھا تو کسٹمز حکام کو ماضی کی طرح اپنی چوری کو بچانے کے لئے ایف آئی اے کو ریکارڈ تو فراہم کیا اور ساتھ میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا مشورہ دیا جسے ایف آئی اے نے قبول کیا اور اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ریکارڈ کی چھان بین میں انکشاف ہوا کہ پارکو لائن میں محمود کوٹ سے 32 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کی بھی چوری ہوئی ہے کیونکہ اسٹاک میں موجود پیٹرول اور دستاویزات میں موجود پیٹرول میں اعداد وشمار کا بڑا فرق ہے جس پر ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں مقدمہ درج کیا گیا ۔

مقدمے کی دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی مبینہ غیر قانونی فروخت، کسٹمز ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی اور دیگر سرکاری واجبات کی ادائیگی سے بچنے کے الزام میں گو پٹرولیم پاکستان لمیٹڈ (Go Petroleum)، ٹرمینل ون لمیٹڈ (TOL) اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی انکوائری نمبر 43/2026 کے دوران انکشاف ہوا کہ کسٹمز بانڈڈ گوداموں میں ذخیرہ کی گئی درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فروخت اور منتقل کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

تحقیقات کے مطابق ابتدائی شواہد ٹرمینل ون لمیٹڈ (TOL) کے پورٹ قاسم میں قائم کسٹمز لائسنس یافتہ بانڈڈ ٹرمینل سے سامنے آئے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گو پٹرولیم نے مارچ 2026 میں درآمد شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی تقریباً 4,744 میٹرک ٹن مقدار کو ایکس بانڈ (EB) گڈز ڈیکلریشن اور واجب الادا ٹیکسز کی ادائیگی سے قبل ہی فروخت کر دیا۔

ایف آئی اے کے مطابق اس کارروائی کے شواہد ٹرمینل ون کے ٹرمینل منیجر کے قبضے سے حاصل ہونے والے لیپ ٹاپ کے فرانزک معائنے میں ملے، جس میں موجود ایکسل شیٹ میں بانڈڈ ایندھن کی ایسی ترسیلات کا ریکارڈ موجود تھا جو قانونی دستاویزات اور ٹیکس ادائیگی کے بغیر کی گئی تھیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 22 جون 2026 کو گو پٹرولیم کے محمود کوٹ، مظفرگڑھ میں قائم بانڈڈ ٹرمینل کے معائنے کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

کسٹمز اور وی بوک ریکارڈ کے مطابق اس مقام پر 39,121 میٹرک ٹن بانڈڈ پیٹرول (PMG) موجود ہونا چاہیے تھا، جبکہ ٹرمینل کی مجموعی ذخیرہ گنجائش صرف 26,072 میٹرک ٹن ہے۔

تاہم معائنے کے دوران صرف 7,039.7 میٹرک ٹن ایندھن موجود پایا گیا، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ تقریباً 32,081 میٹرک ٹن بانڈڈ پیٹرول قانونی تقاضے پورے کیے بغیر نکال کر فروخت یا منتقل کر دیا گیا۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے بانڈڈ گودام کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری ڈیوٹیز، ٹیکسز، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی ادائیگی سے گریز کیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر جعلی یا گمراہ کن اسٹاک ریکارڈز کا سہارا لے کر اصل صورتحال چھپانے کی کوشش کی اور امانت کے طور پر سپرد کی گئی پیٹرولیم مصنوعات کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا۔

ایف آئی اے کے مطابق 22 جون کو ٹرمینل ون لمیٹڈ میں ہونے والے مشترکہ معائنے کے دوران ٹرمینل منیجر فرید احمد صدیقی نے اسٹاک کی تصدیق میں رکاوٹ ڈالی، مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کیا اور مشترکہ اسٹاک پروفارما پر دستخط کرنے سے بھی گریز کیا، جس سے قانونی تحقیقات متاثر ہوئیں۔

ایف آئی اے نے مقدمے میں خالد ریاض، چیف ایگزیکٹو آفیسر، گو پٹرولیم پاکستان لمیٹڈ،گو پٹرولیم پاکستان لمیٹڈ (بطور قانونی ادارہ)،فیاض احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ٹرمینل ون لمیٹڈ،ٹرمینل ون لمیٹڈ (بطور قانونی ادارہ)،فرید احمد صدیقی، ٹرمینل منیجر، ٹرمینل ون لمیٹڈ،انس جاوید، بانڈڈ ویئر ہاؤس کے مجاز دستخط کنندہ،محمد حسن، سینئر منیجر، گو پٹرولیم بانڈڈ ٹرمینل محمود کوٹ کو نامزد کیا ہے جبکہ پاکستان کسٹمز اور اوگرا نمائندوں کے کردار سے متعلق تفتیش جاری ہے۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اوگرا (OGRA) اور کسٹمز کے متعلقہ افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی سرکاری یا نجی فرد کے خلاف جرم میں معاونت، سہولت کاری یا سازش کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ایف آئی اے کراچی زون کے ڈائریکٹر کی منظوری کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ کیس کی تفتیش اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمید ارشد بٹ کے سپرد کر دی گئی ہے، جبکہ مزید شواہد اکٹھے کرنے اور ممکنہ طور پر دیگر ذمہ داران کو شاملِ تفتیش کرنے کا عمل جاری ہے۔

Tags: Account freeze Accountability America Chairmen fbr Custom courts Custom enforcement Customhouse Customs DG Fia FBR fia Fia news Iran Israel Middle east Petroleum compnies Petroleum Levy Petroleum products Portqasim Prime minister

Post navigation

Previous Previous post:

جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کی دوڑ میں بڑا اپ سیٹ،سیف الرحمن پس منظر میں نوید احمد شیخ متوقع مضبوط امیدوار

Screenshot_2026_0507_153058
Next Next post:

جامعہ کراچی کے 71 سرکاری مکانات پر قبضہ، مالی بحران کا اصل ذمہ دار کون؟

Screenshot_2026_0507_153058

متعلقہ خبریں

Screenshot_2026_0310_015912
  • ایف آئی اے
  • بینکنگ

نیشنل بینک کرپشن کیس میں مرکزی ملزم کو عمر قید سزا، 1 کروڑ 71 لاکھ جرمانہ عائد

اگست 1, 2026 0
Screenshot_2026_0726_135415
  • ایف بی آر
  • صحت
  • کسٹم

ڈریپ کا متنازع منصوبہ؟ دنیا بھر کے اسپتالوں میں استعمال شدہ طبی آلات پاکستان لانے کی تیاری، مریضوں کی جانیں داؤ پر لگنے کا خدشہ

جولائی 26, 2026 0

تازہ ترین

  • جامعہ کوہاٹ میں 150 سے زائد متنازع بھرتیوں اور تقرریوں کا انکشاف، ایکٹ، کابینہ فیصلوں اور میرٹ کی مبینہ خلاف ورزیوں کی دستاویزات سامنے آگئیں
  • وزیر اعلی سندھ کی انسپکشن رپورٹ آڑے آگئی،جامعہ کراچی میں ORIC ڈائریکٹر حورالعین کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ ہو سکی
  • ڈیفنس سے معروف ہوٹلیئر کے مبینہ اغوا کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ کو نوٹس جاری
  • این ای ڈی میں 90 ملین ڈالر کے آئی ٹی پارک کے لیے 30 کروڑ کا ہاکی اسٹیڈیم قربان؟ خفیہ معاہدے، بغیر ٹینڈر الاٹمنٹ اور لاکھوں کی ادائیگیوں پر بڑے سوالات
  • جامعہ کراچی میں 30 جولائی کا حملہ، کیا اصل ہدف زمینوں پر قبضے کی مزاحمت کرنے والے طلبہ تھے؟

ہماری تحقیقات

Screenshot_2026_0804_234931
  • Uncategorized
  • تعلیم

جامعہ کوہاٹ میں 150 سے زائد متنازع بھرتیوں اور تقرریوں کا انکشاف، ایکٹ، کابینہ فیصلوں اور میرٹ کی مبینہ خلاف ورزیوں کی دستاویزات سامنے آگئیں

اگست 4, 2026 0
Screenshot_2026_0507_153058
  • ایس اینڈ جی ڈی
  • تعلیم

وزیر اعلی سندھ کی انسپکشن رپورٹ آڑے آگئی،جامعہ کراچی میں ORIC ڈائریکٹر حورالعین کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ ہو سکی

اگست 4, 2026 0
Screenshot_2025_1129_150306
  • Uncategorized
  • ایس اینڈ جی ڈی

ڈیفنس سے معروف ہوٹلیئر کے مبینہ اغوا کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ کو نوٹس جاری

اگست 3, 2026 0
Screenshot_2026_0803_022824
  • ایس اینڈ جی ڈی
  • تعلیم

این ای ڈی میں 90 ملین ڈالر کے آئی ٹی پارک کے لیے 30 کروڑ کا ہاکی اسٹیڈیم قربان؟ خفیہ معاہدے، بغیر ٹینڈر الاٹمنٹ اور لاکھوں کی ادائیگیوں پر بڑے سوالات

اگست 3, 2026 0
Screenshot_2026_0507_153058
  • ایس اینڈ جی ڈی
  • تعلیم

جامعہ کراچی میں 30 جولائی کا حملہ، کیا اصل ہدف زمینوں پر قبضے کی مزاحمت کرنے والے طلبہ تھے؟

اگست 1, 2026 0
Screenshot_2026_0310_015912
  • ایف آئی اے
  • بینکنگ

نیشنل بینک کرپشن کیس میں مرکزی ملزم کو عمر قید سزا، 1 کروڑ 71 لاکھ جرمانہ عائد

اگست 1, 2026 0
  • ایف آئی اے
  • ایف بی آر
  • نیب
  • کسٹم
  • سی اے اے
  • ریلوے
  • ای او بی آئی
  • لوکل باڈیز
  • ایس اینڈ جی ڈی
Copyright © All rights reserved. | ChromeNews by AF themes.