جامعہ کراچی میں مستقل وائس چانسلر کی تقرری میں تاخیر، عبوری انتظامیہ کا قیام اور 30 جولائی کو طلبہ و طالبات پر ہونے والا حملہ کئی نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف طلبہ تنظیموں کا تنازع تھا یا اس کے پس پردہ جامعہ کی قیمتی اراضی سے وابستہ مفادات بھی کارفرما تھے؟
30 جولائی کو مسلح افراد سلور جوبلی گیٹ سے باآسانی جامعہ میں داخل ہوئے اور آرٹس لابی سمیت مختلف مقامات پر موجود طلبہ پر حملہ کیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نشانہ بننے والے متعدد طلبہ وہی تھے جو گزشتہ چند ماہ سے جامعہ کراچی کی زمینوں پر مبینہ قبضوں کے خلاف احتجاجی مہم میں سرگرم تھے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہتھوڑوں، کلہاڑیوں، لوہے کی راڈوں اور ڈنڈوں سے لیس افراد سیکیورٹی کی موجودگی میں مرکزی دروازے سے داخل ہو کر حساس تعلیمی مقامات تک کیسے پہنچے؟ اور اگر یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت تھا تو اس کے اصل محرکات کیا تھے؟
اس سے قبل 9 جولائی کو اسلامی جمعیت طلبہ اور سندھ شاگرد ساتھی کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس کے بعد سندھ حکومت نے ڈاکٹر حسین مہدی کی سربراہی میں پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔ کمیٹی نے دونوں تنظیموں کے درمیان جاری کشیدگی کو تصادم کی وجہ قرار دیتے ہوئے 10 طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی۔
تاہم 30 جولائی کے واقعے کی نوعیت مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اس حملے میں مبینہ طور پر بیرونی عناصر کی شمولیت کے دعوے سامنے آئے، لیکن اس پہلو پر تاحال کوئی آزاد اور جامع تحقیقات سامنے نہیں آسکیں۔
27 جولائی کو سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی اپنی مدت پوری ہونے پر سبکدوش ہوئے، جبکہ سندھ حکومت نے مستقل تقرری کو سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط کرتے ہوئے جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر کو اضافی چارج دے دیا۔ اسی عبوری انتظامی مرحلے کے دوران 30 جولائی کا حملہ پیش آیا، جس نے انتظامی خلا اور سیکیورٹی انتظامات پر مزید سوالات اٹھا دیے۔
واقعے کے بعد جامعہ کراچی نے سیکیورٹی ایڈوائزر کو تبدیل کر دیا، مگر اصل سوال بدستور موجود ہے کہ حملہ آور جامعہ میں داخل کیسے ہوئے اور مخصوص طلبہ تک کیسے پہنچے؟ ناقدین کے مطابق صرف انتظامی تبدیلیاں ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتیں۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے اسلامی جمعیت طلبہ کی مدعیت میں سندھ شاگرد ساتھی کے کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا، تاہم اب تک کسی نمایاں گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ یکم اگست کو حکومت نے 9 جولائی کے تصادم سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ بھی جاری کر دی، جس پر بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ 30 جولائی کے حملے کی مکمل تحقیقات سے قبل مختلف فیصلوں اور رپورٹوں کا اجرا اصل واقعے کی سمت تبدیل کرنے کا تاثر پیدا کر رہا ہے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ جامعہ کراچی کے اطراف میں مبینہ زمینوں پر قبضے کے تنازعات، انتظامی تبدیلیوں اور طلبہ پر حملے کے درمیان ممکنہ تعلق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر حملے کے محرکات، سہولت کاروں اور مبینہ بیرونی عناصر کی غیرجانبدار تحقیقات نہ ہوئیں تو نہ صرف اصل کردار بے نقاب نہیں ہوں گے بلکہ جامعہ کا ماحول مزید کشیدگی کی طرف جا سکتا ہے۔
اب تمام نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا تحقیقات صرف طلبہ تنظیموں تک محدود رہیں گی یا پھر ان دعوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ حملے کے پس پردہ جامعہ کراچی کی اراضی سے وابستہ مفادات رکھنے والے عناصر بھی سرگرم تھے۔ یہی سوال اس پورے معاملے کا سب سے اہم اور فیصلہ کن نکتہ بن چکا ہے۔