Screenshot_2026_0507_153058

جامعہ کراچی کے سنگین مالی بحران کے پس منظر میں ایک اور اہم معاملہ سامنے آگیا ہے۔ تحقیقات ڈاٹ کوم کو حاصل ہونے والی سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ جامعہ کراچی کے 71 رہائشی مکانات پر ریٹائرڈ اساتذہ، افسران اور ملازمین بدستور قابض ہیں ایک مکان 2008 سے اور باقی 2016 سے زیر استعمال ہیں ان میں بڑی تعداد اساتذہ کی ہے اور بعض مکانات میں اساتذہ کے قریبی عزیز رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ ان رہائش گاہوں کے بجلی، گیس اور پانی کے اخراجات بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر جامعہ کے مالی وسائل پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ دستاویزات سے یہ سوال بھی سامنے آرہا ہے کہ مالی بحران کی ذمہ داری صرف قابضین پر عائد ہوتی ہے یا پھر ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے والی انتظامیہ بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔

جامعہ کراچی کے مالی بحران کا اصل زمہ دار کون ہے ۔؟وائس چانسلر اور ان کے قریبی ساتھی یا ریٹائرڈ پروفیسرز ،افسران و ملازمین ہیں؟۔تحقیقات ڈاٹ کوم کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق جامعہ کراچی میں گزشتہ 10 برس سے 71 مکانات پر اساتذہ ،افسران و ملازمین قابض ہیں ،2024 سے قبل 32 مکانات تھے گزشتہ دو برس میں مزید 40۔مکانات بھی قابضین کے پاس چلے گئے ،وائس چانسلر خالد عراقی اپنے قریبی دوستوں کو تحفظ دینے کے لئے جامعہ کراچی کو دیوالیہ بھی کرنے کو تیار ہیں۔۔انجمن اساتذہ نے حالیہ احتجاجی تحریک میں اس مسئلے کو اجاگر کیا ۔کیا انجمن اساتذہ ان اساتذہ اور ان کے عزیز و اقارب سے مکانات واگزار کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرئے گی ؟

جامعہ کراچی کی رہائشی کالونی میں اے کٹیگری سے جی کٹیگری کے درمیان بڑے اور چھوٹے مکانات موجود ہیں سب سے زیادہ سی کٹیگری میں 105 مکانات ،اے کٹیگری میں 25 اسی طرح اساتذہ ،افسران اور ملازمین کی مختلف ترتیب سے مکانات کی تقسیم ہے۔

جامعہ کراچی میں بجلی کی تقسیم کار میں 6 سب اسٹیشنز ہیں جہاں جامعہ کراچی کے تدریسی حصے اور رہائشی کالونی ،کمرشل ایریا کو بجلی کی فراہمی ہوتی ہے اور ان سب اسٹیشنز میں موجود میٹرز کی بنیاد پر جامعہ کراچی کو بلنگ ہوتی ہے جو حالیہ دنوں میں ماہانہ 9 کروڑ تک بھی ہوئی ہے اور ان میں صرف 20 فیصد تدریسی علاقہ پر ہے جبکہ باقی 80 فیصد رہائشی کالونی کا لوڈ ہے جو جامعہ کراچی کو ادا کرنا ہوتا ہے اسی طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا حالیہ دنوں میں ماہانہ بل ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ تک ہے اور سوئی سدرن گیس کمپنی کا ماہانہ بل دو کروڑ کے لگ بھگ جامعہ کراچی ادا کرتی ہے ۔

جامعہ کراچی کی انتظامیہ ان رہائشی کالونی کے مکینوں سے اے کٹیگری میں قریب 10 ہزار بجلی اور گیس کی مد میں ڈھائی سو روپے ،سی کٹیگری میں 6 ہزار روپے بجلی اور گیس کی مد میں ڈھائی سو روپے اور اسی طرح چھوٹے کٹیگری کے مکانات سے 1500 روپے بجلی اور 200 روپے گیس کی مد میں وصول کیا جاتا ہے اس کے لئے اساتذہ ،افسران اور ملازمین کو پابندی نہیں ہے کہ وہ کتنا لوڈ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیقات ڈاٹ کوم کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق جامعہ کراچی میں موجودہ وائس چانسلر خالد عراقی کے قریبی سمجھے جانے والے اساتذہ و افسران کی بھی ہے جو ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے باوجود تاحال مکانات پر قابض ہیں ۔

دستاویزات کے مطابق سابق پروفیسر پولٹیکل سائنس نصرت ادریس ریٹائرمنٹ کے بعد ایک برس اضافی مکمل کرنے کے باوجود دو برس سے یعنی 10 اپریل 2024 سے مکان نمبر C-19 پر قابض ہیں وہ واحد سینڈیکیٹ کی رکن ہیں جنہیں ایک پرائیویٹ انسٹیٹیوٹ کے نام پر سینڈیکیٹ کا رکن بنایا گیا جو اپنی نوعیت کا انوکھا کام ہے یعنی جامعہ کراچی کے لئے قانون سازی کرنے والے فورم کا رکن ہی قانون کی دھجیاں بکھیر رہا ہےاسی طرح جامعہ کراچی میں خالد عراقی کے دست راست ڈاکٹر ظفر حسین ڈپٹی کنٹرولر ایگزامینشن 30 اگست 2024 سے مکان نمبر C-13 پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں اور جامعہ کراچی کی تمام مراعات سے مستفید ہونے کے ساتھ کنٹرولر ایگزامینشن کی موجودگی کے باوجود ایگزامینشن بلڈنگ میں ایک خفیہ کمرہ استعمال کررہے ہیں اور اصل کنٹرولر ایگزامینشن ان کی مرضی کے بغیر کام نہیں کرسکتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 2008 سے مکان نمبر SD-46 اشفاق وارثی کے نام پر الاٹ ہے اور ان کے عزیز اس مکان کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر 2 اپریل 2020 سے مکان نمبر A-9 خالی نہیں کر رہے ہیں ۔شعبہ پولٹیکل سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر احمد قادری 23 دسمبر 2019 سے مکان نمبر B-4 خالی نہیں کر رہے ان کی جگہ ان کے عزیز اس مکان کو اپنے استعمال میں رکھے ہوئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ڈاکٹر قدیر محمد علی فروری 2024 سے مکان نمبر C-103 میں رہائش پزیر ہیں ۔پروفیسر نسرین اسلم 6 ستمبر 2021 سے مکان نمبر C-18 پر قبضہ کر کے بیٹھی ہیں ۔شعبہ فلاسفی کے پروفیسر ظہور الحسن بابر 13 اکتوبر 2016 سے مکان نمبر C-02 پر قبضہ کئے ہوئے ہیں ۔شعبہ جغرافیہ کے پروفیسر شاہد علی 24 جولائی 2019 سے مکان نمبر C-20 پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اسی طرح شعبہ کیمسٹری کے پروفیسر آفاق صدیقی 4 فروری 2025 سے مدت مکمل ہونے کے باوجود مکان نمبر C-89 خالی نہیں کر رہے ہیں ۔

دستاویزات کے مطابق ان 72 مکانات کی فہرست میں شامل ڈاکٹر نسرین افضال جو B کٹیگری کے مکیین تھے اور 16 جنوری 2022 کو ریٹائرڈ ہوچکے ان کا نام فہرست میں موجود ہے تاہم انہوں نے مکان جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے حوالے کردیا ہے ۔اس طرح مجموعی طور پر جامعہ کراچی میں 71 مکانات پر اساتذہ ،افسران و ملازمین کا قبضہ ہے ۔

واضح رہے کہ ان مکانات پر بجلی ،گیس اور پانی کے نام پر یوٹیلیٹی بلز کا بوجھ جامعہ کراچی کے شعبہ مالیات پر پڑتا ہے اور گزشتہ دنوں سندھ حکومت کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں بھی وائس چانسلر کو نشاندہی کی گئی تھی کہ اس پر کارروائی کی جائے تاہم وائس چانسلر نے خاموشی اختیار رکھی تھی ۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں جامعہ کراچی میں ہاؤس سیلنگ اور دیگر الاونسسز کی عدم فراہمی پر اساتذہ ،افسران اور ملازمین نے 41 دن تک احتجاج جاری رکھا اور اس احتجاج کے دوران یونین رہنماؤں نے جہاں بہت سی مالی بے ضابطگیوں کی طرف توجہ دی تھی اس میں ریٹائرڈ اساتذہ ،افسران و ملازمین کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ مکانات پر قابض ہیں اور یوٹیلیٹی کی مد میں جامعہ کراچی پر بوجھ ہیں۔

تحقیقات ڈاٹ کوم نے ان دستاویزات کو حاصل کرلیا ہے جس کے بعد اس فہرست کو شائع کردیا ہے اب جامعہ کراچی کی موجودہ انتظامیہ اس فہرست کے مطابق کارروائی آگے بڑھائے گی یا ماضی کی طرح مجرمانہ خاموشی اختیار کرئے گی یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا اور امکان ہے کہ نئی انتظامیہ اس اہم مسئلے کو ترجیح بنیاد پر حل کردے ۔

71 مکانات کی فہرست منظرعام پر آچکی ہے اور آڈٹ حکام بھی اس معاملے کی نشاندہی کرچکے ہیں، نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ موجودہ انتظامیہ قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہے یا ماضی کی طرح یہ معاملہ بھی فائلوں میں دب کر رہ جاتا ہے۔ جامعہ کراچی کے مالی بحران کے تناظر میں یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں انتظامیہ کی سنجیدگی کا اصل امتحان ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے