نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے غیر ملکی شہریوں سے غیر قانونی کال سینٹر کی آڑ میں ان لائن فراڈ میں ملوث پاکستان پیپلز پارٹی کے علاقائی رہنما ۔حیدرعمرانی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ،
این سی سی آئی اے کی کارروائی کے بعد حیدر عمرانی کا ایک قریبی ساتھی شاہ زیب شیخ بیرون ملک فرار ہوگیا جبکہ زیشان ڈھکن تاحال مفرور ہے ۔

این سی سی آئی اے کراچی کی ٹیم نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب گلستان جوہر میں کامران چورنگی کے قریب ایل اینڈ لونگی ریسٹورنٹ پر چھاپہ مارا جہاں ریسٹورنٹ کی آڑ میں غیر قانونی کال سینٹر کا کاروبار جاری تھا جس کے زریعے غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا چوری کر کے ان سے آن لائن فراڈ کیا جارہا تھا۔
واضح رہے کہ اس کال سینٹر کا مالک حیدر عمرانی ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کا مقامی رہنما ہے اور گزشتہ چند برس سے زائد اس کاروبار سے وابستہ ہے ۔اس چھاپے کے بعد اس کے قریبی ساتھی مفرور ہوگئے ہیں ۔


ذرائع کے مطابق حیدر عمرانی کے اس نیٹ ورک میں شاہزیب شیخ اور ذیشان ڈھکن بھی مبینہ طور پر قریبی ساتھی اور کاروباری شراکت دار ہیں۔حیدر عمرانی کے کال سینٹر میں موجود ایک ایجنٹ کے مطابق این سی سی آئی اے کی کارروائی کے بعد شاہ زیب شیخ بیرون ملک فرار ہو گیا جبکہ اسی کا ایک اور ساتھی ذیشان ذ ھکن بھی اس ہوٹل نہیں آیا اور اپنے گھر سے بھی بھاگ کر کہیں مفرور ہوگیا ہے۔ این سی سی آئی اے زرائع کا کہنا ہے کہ اس کال سینٹر میں حیدر عمرانی کی گرفتاری اہم تھی باقی ساتھی بھی گرفتار ہو جائیں گے۔


زرائع کے مطابق غیر قانونی کال سینٹر کی آڑ میں ان لائن فراڈ کے کاروبار میں حیدر عمرانی کے قریبی ساتھی ذیشان ڈھکن، اس کے والد اور اس کا بھائی سال 2021 /2022 کے دوران گلستانِ جوہر کے ایک ہوٹل میں ویٹر اور پیزا کی ڈیلیوری کا کام کرتے تھے، تاہم مختصر عرصے میں ان کے مالی حالات میں غیر معمولی بہتری آئی اور وہ قیمتی اثاثوں کے مالک بن گئے، جس کے باعث ان کے مالی ذرائع کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں اور امکان ہے کہ این سی سی آئی اے کے اس مقدمے میں حیدر عمرانی سمیت دیگر مفرور ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کی علیحدہ کارروائی کی جائے گی۔
زرائع کا کہنا ہے کہ حیدر عمرانی، شاہزیب شیخ اور ذیشان ڈھکن کے باہمی روابط، مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں، مالی لین دین، کاروباری مفادات اور اثاثہ جات کی چھان بین کی جائے تو ان کی شراکت داری کے واضح شواہد سامنے آئیں گے جس پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں معاونت ہوسکتی ہے تاہم یہ انحصار این سی سی آئی اے کی کارروائی پر ہے کہ وہ اس مقدمے کی تفتیش میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں اور ریکارڈ کی چھان بین کے بعد اصل حقائق سامنے لائے جاسکیں۔
زرائع کے مطابق اس طرح کی کارروائی میں عمومی طور کارروائی مقدمے کے اندراج تک ہی محدود رہتی ہے تاہم یہ کیس این سی سی آئی اے کے لئے اہم ہے کہ ماضی کے برعکس حکمران سیاسی جماعت کے علاقائی عہدیدار کے خلاف کارروائی کی گئی اور ممکنہ طور پر اس مقدمے کو عدالتی کارروائی میں بھی حتمی نتیجے تک پہچانے کی کوشش کی جائے گی۔
این سی سی آئی اے کی کارروائی میں گرفتار حیدر عمرانی کو بدھ کی صبح عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ملزم سے مزید تفتیش کے لئے ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی ۔یاد رہے کہ حالیہ کچھ کارروائیوں میں غیر قانونی کال سینٹر سے گرفتار ایجنٹ تین دن ریمانڈ کے بعد عدالت سے ضمانت حاصل کر لیتے ہیں تاہم اس بار کال سینٹر کا مالک گرفتار ہوا ہے تو کیا اس کی ضمانت کی منظوری میں کتنا وقت لگے گا یہ این سی سی آئی اے کی تفتیش اور کارروائی پر منحصر ہے ۔