قومی احتساب بیورو نے ایچ آئی وی ایڈز سروے میں مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں پر تحقیقات شروع کی ہے ،یو این ایڈز کے ایک برس قبل لکھے گئے خط کو بھی بطور شواہد کے شامل کیا گیا ہے۔
نیب کو موصول درخواست میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے)،کامن منیجمنٹ یونٹ (سی ایم یو ) اور وزارت صحت کے حکام کے خلاف فنڈز کے مبینہ غلط استعمال ،تحقیقی ڈیٹا میں جعل سازی اور حقائق چھپانے کے شواہد بھی دئیے گئے ہیں ۔
نیب کے چیئرمین کو ایک تحریری شکایت ارسال کی گئی ہے جس میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی (HSA) کے ذریعے گلوبل فنڈ کی مالی معاونت اور یو این ڈی پی (UNDP) کے تعاون سے مکمل کیے گئے انٹیگریٹڈ بائیولوجیکل اینڈ بیہیویئرل سرویلنس (IBBS) راؤنڈ-6 ایچ آئی وی/ایڈز سروے میں مبینہ مالی، انتظامی اور سائنسی بے ضابطگیوں کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تقریباً ایک ارب روپے (3.2 ملین امریکی ڈالر) کے اس منصوبے میں عوامی اور بین الاقوامی ڈونر فنڈز استعمال کیے گئے، تاہم دستیاب دستاویزی ریکارڈ منصوبے کی شفافیت، فنڈز کے استعمال اور تحقیقی نتائج کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 22 مئی 2025ء کو یو این ایڈز (UNAIDS) کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری خط میں سروے کے طریقہ کار میں بنیادی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ شکایت کے مطابق بین الاقوامی معیار کے مطابق کوالٹی اشورنس کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور انفرادی سطح پر لنکڈ HIV ٹیسٹنگ کے بجائے مجموعی تخمینوں پر انحصار کیا گیا، جس سے سروے کی سائنسی حیثیت مشکوک ہو گئی۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ منصوبے کے ذمہ داران نے صرف دس دن میں 20 ہزار سے زائد انٹرویوز اور HIV تشخیصی ٹیسٹ مکمل کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ بین الاقوامی ماہرین اور یو این ایڈز نے اس ٹائم لائن کو عملی طور پر ناممکن قرار دیا۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہی صورتحال تحقیقی ڈیٹا کی مبینہ جعلسازی یا ہیرا پھیری کے خدشات کو جنم دیتی ہے۔
شکایت کے مطابق گلوبل فنڈ نے مبینہ طریقہ کار کی خامیوں کے باعث مزید تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی مالی معاونت سے انکار کیا، جبکہ وزارتِ قومی صحت، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن بھی مطلوبہ معیار پورا نہ ہونے کے باعث سروے کے نتائج کی توثیق نہ کر سکی۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ منصوبے کی تقریباً پانچ لاکھ امریکی ڈالر کی رقم غیر استعمال شدہ رہی، جبکہ مزید ویلیڈیشن کی صورت میں بھی باقی فنڈز خرچ ہونے کے باوجود قابل اعتماد نتائج حاصل ہونے کی کوئی ضمانت موجود نہیں تھی۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ کامن مینجمنٹ یونٹ (CMU) اور وزارتِ صحت کے بعض حکام نے مبینہ طور پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے بجائے داخلی اجلاسوں میں رپورٹ کی زبان نرم کرنے، نتائج کو کم سنگین ظاہر کرنے اور سروے کو خامیوں کے باوجود منظور کرانے کی کوشش کی۔
شکایت کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ اختیارات کے ناجائز استعمال، اہم حقائق چھپانے اور بدعنوانی میں سہولت کاری کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
نیب کو جمع کرائی گئی شکایت کے ساتھ درج ذیل دستاویزات منسلک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ 22 مئی 2025ء کا یو این ایڈز کا سرکاری خط
"Independent Review of IBBS Round-6 – Key Issues and Recommendations” کے عنوان سے داخلی جائزہ رپورٹ داخلی اجلاسوں کے منٹس، نوٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات، جن میں مبینہ طور پر نتائج نرم کرنے اور سروے کی توثیق سے متعلق تجاویز درج ہیں۔
شکایت گزار نے نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر، منصوبے کے ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ حکام کے خلاف باقاعدہ انکوائری اور تحقیقات شروع کی جائیں۔ایک ارب روپے سے زائد کے پورے منصوبے کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔تمام الیکٹرانک اور دستاویزی ریکارڈ محفوظ کر کے شواہد ضائع ہونے سے بچائے جائیں۔ضرورت پڑنے پر مرکزی ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کیے جائیں۔
وزارتِ صحت اور کامن مینجمنٹ یونٹ کے متعلقہ افسران کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں، خصوصاً ان الزامات کے تناظر میں کہ مبینہ طور پر حقائق کو چھپانے یا کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔
شکایت گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ درخواست عوامی مفاد میں اور نیک نیتی کے ساتھ جمع کرائی گئی ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران مزید دستاویزی ثبوت اور معاونت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔