کسٹمز ایڈجیوڈکیشن نے سندھ ہائی کورٹ سے آنے والے فیصلے کے برخلاف حورا فارما سیوٹیکل پر آنے والی 19 کروڑ سے زائد ٹیکس ڈیوٹی ختم کردی ،ملک بھر میں طبی آلات کے طور پر استعمال ہونے والے سیوچرز (ٹانکے) درآمد کرنے والی 41 سے زائد کمپنیاں پاکستان کسٹم ٹیرف کے مطابق ٹیکس ڈیوٹی ،انکم ٹیکس ادا کرتی ہیں تاہم ایک کمپنی حورا فارما سیوٹیکل کو فائدہ دینے کے لئے پہلے کسٹم کلکٹریٹ ائیر پورٹ کے اعلی افسران نے معاونت کی اس کیس پر ڈائریکٹوریٹ آف کسٹم انٹیلی جنس نے الرٹ جاری کیا کہ ایک کمپنی پاکستان کسٹم ٹیرف کے برخلاف کروڑوں روپے ٹیکس چوری کی واردات میں ملوث ہے اور اسی الرٹ میں انوائسز میں ٹمپرنگ اور جعل سازی کے شواہد فراہم کیا جس کی وجہ سے کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی بن سکتی تھی لیکن اسے صرف ٹیکس ڈیوٹی چوری تک محدود رکھا گیا اور معاملے کو طول دیتے ہوئے ایڈجیوڈکیشن سے ڈیڑھ برس بعد ٹیکس ڈیوٹی بھی مبینہ طور پر ختم کروا دی گئی۔
کسٹم کلکٹریٹ ائیرپورٹ نے کمپنی کو ٹیکس چوری کا مبینہ فائدہ دینے کے لئے کسٹمز ایڈجیوڈکیشن ون میں دائر درخواست سے ڈائریکٹوریٹ آف کسٹم انٹیلی جنس کے الرٹ میں جعلی انوائسنگ کے حصے پر تفتیش کو پس پردہ رکھا اور کسٹم ایڈجیوڈکیشن ون کے کلکٹر جاوید چوہدری نے گریڈ 20 میں ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل حورا فارما کے حق میں فیصلہ دے دیا جس سے کمپنی پر 19 کروڑ 87 لاکھ سے زائد کسٹم اور انکم ٹیکس ڈیوٹی ختم ہوگئی۔
کسٹم ایڈجیوڈکیشن نے نا ہی اصل الزام کا جائزہ لیا اور مبینہ طور پر کسٹم ٹیرف میں سیوچرز (ٹانکوں) کی کلئیرنس کے لئے پاکستان کسٹم ٹیرف میں موجود 3006 جس میں سیوچرز کی کلئیرنس یعنی ملک بھر میں 41 سے زائد امپورٹرز مکمل کسٹم ڈیوٹی انکم ٹیکس ادا کر کے اپنا سامان منگواتے ہیں جبکہ حورا فارما کو ان ہی سیوچرز کی درآمد میں 9938 کسٹم ٹیرف کا سہار دیا گیا جس سے یہ کمپنی انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سے محفوظ رہ سکے ۔کسٹم ایڈجیوڈکیشن ون کے کلکٹر جاوید چوہدری نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل حورا فارما کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ یہ اصول واضح ہے کہ جب ایک آئٹم کسٹم ٹیرف میں موجود ہے اور اسی ٹیرف کے تحت کمپنیاں ٹیکس اور انکم ٹیکس کی ادائیگیاں کرتی ہیں تو پھر کیسے ایک کمپنی ٹیکس سے مستثنی ہوسکتے ہیں ؟
کیا چیئرمین ایف بی آر ریٹائرمنٹ سے قبل منظور نظر کمپنی کو فایدہ دینے کی کوشش کرنے والے افسر یا کلکٹریٹ آف کسٹمز ائیرپورٹ میں سہولت کاری کرنے والے افسران کے خلاف تحقیقات کرنے کی پوزیشن میں ہیں یا صرف دفتری امور پر ہی غور کریں گے ۔
حورا فارما کا 19 کروڑ 87 لاکھ روپے کا کسٹمز تنازع، سرجیکل سُچرز کو ’’ڈسپوزایبل‘‘ قرار دے کر ڈیوٹی استثنیٰ برقرار
کسٹمز کا ریونیو نقصان اور غلط exemption کا دعویٰ مسترد، ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے Ethicon کے مخصوص surgical sutures کو PCT 9938 کے تحت اہل قرار دے دیا
حورا فارما پر درآمدی سرجیکل سُچرز کی مالیت پر 19 کروڑ 87 لاکھ 49 ہزار 176 روپے کے ڈیوٹی و ٹیکس ریونیو نقصان کے الزام سے متعلق اہم کسٹمز تنازع میں ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مخصوص Ethicon surgical sutures کو PCT Heading 9938 کے تحت ’’disposables‘‘ قرار دے دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق کلکٹریٹ آف کسٹمز ائیرپورٹ، کراچی نے حورا فارما پر الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی نے ایسے surgical sutures کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی ایسی exemptions حاصل کیں جو محکمہ کے مطابق قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں تھیں۔ معاملے میں کمپنی کے clearing agent M/s Techno Expert International کو بھی فریق بنایا گیا۔
کیس میں درآمدی سامان کی مجموعی net مقدار 6,643.1 کلوگرام جبکہ declared value 57 کروڑ 32 لاکھ 10 ہزار 210 روپے ظاہر کی گئی تھی۔ سامان میں Ethicon برانڈ کے مختلف surgical sutures شامل تھے، جنہیں cardiology، cardiac surgery، oncology، urology، gynecology، neurovascular اور endoscopy سمیت مختلف طبی شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ریکارڈ کے مطابق معاملہ ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز اٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کراچی کے 16 دسمبر 2024 کے Intelligence Alert سے شروع ہوا، جس میں ہُورا فارما کی جانب سے درآمدی consignments پر PCT Heading 9938، Sales Tax Act کی Sixth Schedule اور Income Tax Ordinance کی متعلقہ exemptions کے استعمال پر سوال اٹھایا گیا تھا۔
کسٹمز حکام نے بعض invoices میں declared معلومات اور examination کے دوران سامنے آنے والی دستاویزات میں مبینہ فرق اور invoice forgery کے شبہات بھی ظاہر کیے۔بعد ازاں Collectorate نے FBR سے یہ وضاحت طلب کی کہ آیا surgical sutures کو PCT Heading 9938 کے تحت exemption حاصل ہو سکتی ہے یا نہیں۔
دستاویزات کے مطابق FBR نے DRAP سے رائے حاصل کرنے کے بعد 3 جولائی 2025 کے خط میں واضح کیا کہ surgical sutures کو DRAP نے sterile اور single-use medical devices کے طور پر classify کیا ہے، نہ کہ محض ’’disposables‘‘ کے طور پر۔
محکمہ کسٹمز نے اسی تشریح کو بنیاد بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ PCT 9938 کے تحت exemption مخصوص medical disposables کے لیے ہے اور surgical sutures اس category میں شامل نہیں۔
کسٹمز کے مطابق sutures کی اپنی مخصوص tariff classification HS/PCT 3006.10 موجود ہے، اس لیے انہیں PCT 9938 میں شامل کرنا درست نہیں۔
حورا فارما نے الزام مسترد کردیا
حورا فارما نے Show Cause Notice کے جواب میں تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے imported goods کی درست description، quantity، transactional value اور متعلقہ دستاویزات کے ساتھ Goods Declaration فائل کی تھی۔
کمپنی کے مطابق imported sutures DRAP کے ساتھ registered medical devices ہیں، sterile اور single-use ہیں اور پاکستان میں locally manufactured نہیں ہوتے۔
کمپنی نے یہ بنیادی قانونی نکتہ اٹھایا کہ medical اور regulatory context میں single-use ایسی medical device کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے ایک patient اور ایک procedure کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا ایسے surgical sutures کو disposable medical devices سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
کیس کا سب سے اہم قانونی تنازع اسی نکتے پر مرکوز رہا۔
کسٹمز کا کہنا تھا کہ کسی medical device پر ’’single-use‘‘ کا symbol موجود ہونا اسے tariff classification کے لحاظ سے لازماً ’’disposable‘‘ نہیں بناتا۔ محکمہ کے مطابق بعض medical devices بھی single-use ہوتے ہیں لیکن جسم میں نصب ہونے کے بعد طویل عرصے تک اپنا therapeutic function انجام دیتے ہیں۔
اس کے برعکس حورا فارما نے DRAP کی clarification، medical terminology اور international regulatory practice کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ surgical sutures ایک procedure میں استعمال ہونے کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کیے جاتے اور اس لیے انہیں disposable medical devices کے مفہوم سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
کمپنی نے سابقہ کسٹمز فیصلوں کو بھی بنیاد بنایاحورا فارما نے اپنے دفاع میں اسی نوعیت کے سابقہ کسٹمز احکامات اور اپیل فیصلوں کا حوالہ دیا۔
کمپنی کے مطابق Order-in-Appeal No. 3854 to 3866/2026 میں اسی نوعیت کے sterile surgical sutures کو PCT 9938 کے تحت exemption کا اہل قرار دیا جا چکا تھا۔
کمپنی نے لاہور کسٹمز کے سابقہ فیصلوں اور دیگر Orders-in-Original کا بھی حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ہی نوعیت کے medical devices کو ماضی میں exemption دی جاتی رہی ہے، لہٰذا اسی نوعیت کے سامان کے ساتھ مختلف سلوک ٹیکس انتظامیہ میں inconsistency پیدا کرے گا۔
ءورا فارما نے سندھ ہائی کورٹ کے C.P. No. 4754 of 2025 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ FBR کی administrative clarification کسٹمز کے quasi-judicial افسر کو قانونی فیصلہ کرنے سے روک نہیں سکتی۔
کمپنی کے مطابق tariff classification اور exemption کے بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی اختیار رکھنے والی adjudicating authority ہی کر سکتی ہے۔
آرڈر اینڈ اوریجنل میں ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے دونوں فریقوں کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد imported Ethicon sutures کی طبی نوعیت، ان کے استعمال اور متعلقہ tariff provisions کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اتھارٹی نے تسلیم کیا کہ عام نوعیت کے sutures کو PCT 3006 کے تحت دیکھا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ معاملے میں درآمد کیے گئے مخصوص Ethicon Vicryl Plus Antibacterial sutures اپنی specialized medical application، sterile nature، single-use characteristics اور مخصوص surgical specialties میں استعمال کے باعث PCT 9938 کے تحت بھی قابلِ classification ہیں۔
Ethicon sutures کو ڈسپوزیبل قرار دے دیا گیا
فیصلے میں کہا گیا کہ زیرِ تنازع سوئچرز strieal
single-use،ہیں؛
specialized surgical procedures میں استعمال ہوتے ہیں؛
locally manufactured نہیں ہیں؛
اور endoscopic، cardiac اور neuro-related procedures میں استعمال ہوتے ہیں۔
اتھارٹی نے product packaging پر موجود internationally recognized single-use symbol کا بھی حوالہ دیا۔
خصوصاً Vicryl Plus کے حوالے سے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ یہ absorbable suture ہے، جس کا thread surgical function مکمل کرنے کے بعد جسم کے tissues میں absorb ہو جاتا ہے، جبکہ attached needle surgical procedure کے بعد discard کر دی جاتی ہے۔
اتھارٹی نے مجموعی حقائق اور imported goods کی مخصوص medical application کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ یہ surgical sutures PCT Heading 9938 کے مفہوم میں disposables تصور کیے جا سکتے ہیں اور اس بنیاد پر Customs Duty exemption کے اہل ہیں۔
یعنی محکمہ کسٹمز کی جانب سے تقریباً 19 کروڑ 87 لاکھ روپے کے duty/tax demand کی بنیادی بنیاد بنا کر imported sutures PCT 9938 کے تحت exemption کے اہل نہیں،اتھارٹی کی تشریح سے مطابقت نہیں رکھتی۔
حکم نامے میں انکم ٹیکس ارڈنینس, 2001 کی Second Schedule، Part-IV، Serial No. 56 کا بھی جائزہ لیا گیا۔اتھارٹی کے مطابق متعلقہ provision Chapter 88 اور Chapter 99 کے تحت آنے والے goods کو Section 148 کے withholding tax سے استثنیٰ فراہم کرتی ہے، سوائے PCT Heading 9918 کے۔
چونکہ موجودہ goods کو PCT 9938 کے تحت classify کیا گیا اور 9938 مذکورہ exclusion میں شامل نہیں، اس لیے اتھارٹی نے Section 148 کے تحت Income Tax exemption کو بھی قابلِ اطلاق قرار دیا۔
اس کیس میں اصل اہمیت صرف حورا فارما کی ایک درآمدی consignment تک محدود نہیں بلکہ اس سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ DRAP کی ’’single-use medical device‘‘ کی regulatory classification کو کس حد تک کسٹمز tariff میں ’’disposable‘‘ کے مساوی سمجھا جا سکتا ہے۔
یہی تشریح مستقبل میں اسی نوعیت کے surgical sutures اور دیگر specialized medical devices کی درآمد پر Customs Duty اور متعلقہ ٹیکس exemptions کے معاملات میں اہم حوالہ بن سکتی ہے۔
تاہم دستاویز سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ Customs Duty، Sales Tax اور Income Tax exemptions کے قانونی دائرہ کار الگ الگ provisions کے تحت زیر بحث آئے، اس لیے تینوں ٹیکسوں کے بارے میں فیصلے کو ایک ہی قانونی بنیاد پر سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
آرڈر اینڈ اوریجنل کے مطابق فریقین کو Customs Act, 1969 کی سیکشن 194-A کے تحت کسٹم ایپلینٹ ٹریبونل میں فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے، جو حکم کی اطلاع ملنے کے 45 دن کے اندر دائر کی جا سکتی ہے۔یعں 19 کروڑ 87 لاکھ روپے سے زائد کے مبینہ ریونیو نقصان سے شروع ہونے والا یہ تنازع فی الحال ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی کی اس تشریح پر منتج ہوا ہے کہ مخصوص Ethicon sterile surgical sutures محض عام sutures نہیں بلکہ مخصوص طبی استعمال کے حامل ایسے single-use/disposable devices ہیں جو PCT 9938 کے تحت exemption کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔