Screenshot_2026_0901_151400

لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرکاری سرپرستی سے غیر قانونی پورشن کی فروخت عروج پر ہے ،سرکاری ایڈمنسٹریٹر نے لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے آفس سیکرٹری اکرم بہاری کے بیٹے حال ہی میں رضا میر کے پوسٹ مارٹم سے خبروں میں آنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کے نام ایک پورشن ٹرانسفر کیا ہے ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے افسران کو اراکین صوبائی اسمبلی کی سرپرستی حاصل ہے۔

لکھنو کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرکاری افسران غیر قانونی تعمیرات کی فروخت کو روکنے کے بجائے اس کی سرپرستی میں ملوث نکلے ہیں اور غیر قانونی تعمیرات میں رکاوٹ بننے والے سوسائٹی کے مکینوں پر تشدد اور مقدمات میں پھنسانے لگے ہیں ۔حال ہی میں لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے آفس سیکرٹری اکرم بہاری کے بیٹے ڈاکٹر اسامہ شیخ کی غیر قانونی پورشن میں خریداری پر شروع ہونے والے احتجاج میں اکرم بہاری اور سوسائٹی کے مکینوں کے درمیان نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ چکی ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ نے بلڈنگ مافیا سے لکھنو سوسائٹی میں ایک کروڑ 30 لاکھ کی خریداری کی اس پورشن کا سودا اراکین صوبائی اسمبلی کے فرنٹ مین کہلانے والے لکھنؤ سوسائٹی کے سرکاری ایڈمنسٹریٹر محمد جاوید شیخ نے کرایا، اسامہ کے والد اکرم بہاری بحثیت سوسائٹی آفس سیکریٹری 3 ارب کی غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں ۔

ڈاکٹر اسامہ ساری عمر اپنے والد محمد اکرم شیخ عرف بہاری کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہے انہوں نے بلڈر مافیا معروف لون کے فرنٹ مین شاہ زمان ولد بابو خان سے 25 نومبر 2023 کو کیا یہ معاہدہ خریداری 3 جنوری 2023 کو خریدے گئے 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر کیا گیا، لکھنؤ سوسائٹی کے رہائشی پلاٹ نمبر ایک 193 سیکٹر 31 ای پر بنے ہوئے غیر قانونی کمرشل یونٹ کی خریداری ایک کروڑ 30 لاکھ روپے میں کی گئی ملکیت کی تبدیلی سوسائٹی کے سرکاری ایڈمنسٹریٹر محمد جاوید شیخ 25 جون 2024 کو کی جبک مذکورہ ایڈمنسٹریٹر ایک اہم صوبائی وزیر کے فرنٹ مین کہلاتے ہیں ۔

زرائع کے مطابق لکھنؤ سوسائٹی کا لے آوٹ پلان معطل ہے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کسی بھی بلڈنگ کا پلان منظور کرنے سے قانونی طور پر قاصر ہے جبک رہائشی پلاٹ کا غیر قانونی کمرشل استعمال بھی غیر قانونی ہے جس کی وجہ سے ماسٹر پلان اتھارٹی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر احسن ادریس ،انسپکٹر کاشف کو گزشتہ 20 برس سے کورنگی میں ہی تعینات ہیں اور ان افسران کے خلاف اینٹی کرپشن ،میں میں مقدمات بھی درج ہیں تاہم یہ ہی افسران کی وجہ سے سرکاری خزانے کو دوہرا مالی نقصان ہورہا ہے ۔جس کے ذمہ دار ڈاکٹر اسامہ شیخ کے والد بھی ہیں جو گزشتہ طویل عرصے سے سوسائٹی آفس کے ملازم ہیں اور بحثیت آفس سیکریٹری اس قانون سے بخوبی واقف ہیں کے جو پورشن ڈاکٹر اسامہ شیخ کے نام سے خریدا جا رھا ہے وہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے اس کے باوجود وہ اس غیر قانونی اقدام میں اپنے ہی بیٹے کے سہولت کار بنے

دوسری جانب لکھنؤ سوسائٹی کے مکینوں نے بتایا ک اکرم بہاری بلڈرز مافیا اور سوسائٹی انتظامیہ کے سہولت کار ہیں جس کی وجہ سے ان کا بیٹا ایک غیر قانونی پورشن کا مالک بنا ہوا ہے جس کی اعلی سطح پر انکوائری میں اصل حقائق سامنے آئیں گے۔

زرائع نے بتایا کی چند دن قبل سوسائٹی کے ایک متنازعہ کمرشل پلاٹ نمبر W S3 رقبہ 390 مربع گز ہے اس پلاٹ کا اسٹیٹس لکھنؤ سوسائٹی کے منظور شدہ، مگر معطل لے آؤٹ میں ایک ورک شاپ ہے جسے مبینہ طور پر 2007 میں ایک سابقہ ایڈمنسٹریٹر سعید احمد راجپوت نے الاٹ کیا جبک
موجودہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے مطابق اسکا اسٹیٹس رہائشی ظاہر کیا گیا ہے یہ وہی پلاٹ ہے جس پر کنسٹرکشن مٹیریل روکنے کے تنازعہ پر نوجوان کمیٹی رکن اور آفس سیکٹری اکرم شیخ بہاری کے درمیان شدید ہاتھا پائی ہوئی بعد ازاں ایسی صلح صفائی ہوگئی کہ تعمیرات دربارہ سے شروع ہوگئی ہے جس کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے لیکن نا ہی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اسے روک رہی اور نا ہی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران اس پر کارروائی کر رہے ہیں۔

اس ضمن میں تحقیقات ڈاٹ کام نے لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے سرکاری ایڈمنسٹریٹر جاوید شیخ ،آفس سیکرٹری اکرم شیخ عرف بہاری اور ڈاکٹر اسامہ شیخ سے ان کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا تاہم انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے