جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما فریال تالپور کو پروٹوکول دینے پر ایف آئی اے امیگریشن کے دو سپاہیوں کو ہتھکڑیاں لگ گئیں ،سندھ پولیس کے ڈی ایس پی کلیم موسی نے مبینہ طور پر ایف آئی اے امیگریشن کے شفٹ انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر نند لال کو سفارش کی کہ میڈم کو امیگریشن کاؤنٹر پر کیمرے کے سامنے نہیں لانا ہے جس پر شفٹ انچارج نے کائونٹر پر ہدایات جاری کیں تاہم اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
ہفتہ کی شام کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایمریٹس ائیرلائن کی دبئی جانے والی پرواز نمبر EK 603 کی امیگریشن کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر و رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کو کلئیرنس امیگریشن کیمرے پر آئے بغیر مل گئی ۔
زرائع کا کہنا ہے امیگریشن کاؤنٹر پر موجود دو کانسٹیبل وہاب اور مصعب کو یہ ہدایت شفٹ انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر نند لال کی جانب سے دی گئی کہ صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ کو امیگریشن کلئیرنس کے دوران فوٹیج نہیں بنوائی جائے اور اس کے بغیر ہی انہیں کلئیرنس دے دی جائے جس پر کائونٹر پر موجود دونوں سپاہیوں نے شفٹ انچارج کی ہدایت پر عمل کیا اور فریال تالپور کو کلئیرنس دے دی گئی ۔
اس کی اطلاع ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن شہزاد اکبر کو ملی جس پر انہوں نے دونوں سپاہیوں کو ڈیپارچر کائونٹر سے ہتھکڑی لگوا کر آرئیوال کائونٹر تک لے کر آئے تاہم اسسٹنٹ ڈائریکٹر نند لال کے خلاف مبینہ طور پر کارروائی سے گریز کیا گیا ۔
واضح رہے کہ اراکین اسمبلی ،سینیٹرز سمیت دیگر شخصیات کو بھی ائیرپورٹ پر پروٹوکول کو سہولت فراہم ہوتی ہے تاہم اس پروٹوکول پر سپاہیوں کے خلاف ہونے والی کارروائی پر سوال اٹھ رہا ہے ۔
اس ضمن میں مبینہ طور ہر بلاول ہاؤس کراچی کی ہدایت پر ائیرپورٹ کا پروٹوکول مینیج کرنے والے سندھ پولیس کے ڈی ایس پی کلیم موسی یا ایف آئی اے امیگریشن کے شفٹ انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر نند لال کے خلاف بھی کیا کوئی کارروائی کا امکان ہے ۔