وفاقی وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے ذیلی اداروں میں مبینہ طور پر غیرقانونی مداخلت اور اقربا پروری کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال کے قریبی رشتہ دار، انتہائی خراب شہرت کے حامل خوشحال میر، جو بلوچستان صوبائی حکومت کے محکمہ جیل خانہ جات میں گریڈ 18 کے افسر ہیں، کو پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) میں خلافِ قانون ڈپیوٹیشن پر گریڈ 19 کے عہدے ڈائریکٹر ایڈمن پر تعینات کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خوشحال میر نے چارج سنبھالتے ہی ادارے میں من پسند فیصلوں اور غیرقانونی اقدامات کا آغاز کر دیا۔ مبینہ طور پر گاڑیوں کی مرمت کے نام پر جعلی بلوں کے ذریعے کرپشن کی ابتدا کر دی گئی ہے، جبکہ ادارے میں پہلے سے موجود بدعنوان عناصر سے گٹھ جوڑ کر کے کرپشن کے مزید راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خوشحال میر نے ابتدا میں امپورٹ ایکسپورٹ اور کنفرمیٹی اسسمنٹ (سی اے کراچی) جیسے انتہائی حساس اور ٹیکنیکل شعبوں کے گریڈ 19 کے ڈائریکٹر کا اضافی چارج لینے کی خواہش ظاہر کی، تاہم تکنیکی نوعیت کے باعث انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ادارے کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ دونوں عہدے مکمل طور پر ٹیکنیکل ہیں اور ایک نان ٹیکنیکل افسر کی تعیناتی ادارے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ناکامی کے بعد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اب وفاقی سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی کی سرپرستی میں خوشحال میر کو فنانس ونگ میں ایڈجسٹ کروانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، کیونکہ پی ایس کیو سی اے کا سالانہ بجٹ اربوں روپے پر مشتمل ہے، ادارے کے ریونیو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ تنخواہوں اور پنشن کے لیے علیحدہ خطیر فنڈز مختص ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی سیکریٹری کی جانب سے پی ایس کیو سی اے انتظامیہ پر ان غیرقانونی اقدامات کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، تاہم ادارے کے اندر سے اس عمل کے خلاف شدید مزاحمت بھی سامنے آ رہی ہے۔
دوسری جانب ادارے کے ملازمین نے وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایس کیو سی اے کو اقربا پروری، کرپشن اور بااثر شخصیات کے من پسند افراد سے پاک کیا جائے، تاکہ ادارہ اپنے اصل مقصد کے مطابق قومی مفاد میں کام کر سکے۔