ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ایک مرتبہ پھر بااثر حلقوں کے دباؤ میں آتے ہوئے شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، جہاں امریکی ویزا فراڈ اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین مقدمے میں گرفتار کیے گئے حاضر سروس سینئر سول جج کو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل ہوتے ہی نہ صرف رہا کر دیا گیا بلکہ مقدمے کی نوعیت ہی تبدیل کر دی گئی۔


انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک سے جڑے راولپنڈی میں تعینات سینئر سول جج احسن رضا کو امریکی سفارتخانے کی شکایت پر حراست میں لیا گیا، تاہم ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پہنچتے ہی حیران کن طور پر ملزم کو ’’متاثرہ فرد‘‘ قرار دے کر رہا کر دیا گیا۔یہ ہی نہیں بلکہ مقدمے میں ردوبدل کرتے ہوئے جج سمیت 12 افراد کو متاثرہ فریق جبکہ صرف 3 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا، جس پر شفافیت اور ادارہ جاتی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ڈپلومیٹک انکلیو میں بڑی کارروائی، مگر انجام حیران کن
ایف آئی اے اسلام آباد کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے ڈپلومیٹک انکلیو میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے حاضر سروس سینئر سول جج احسن رضا کو گرفتار کیا، جو خود کو ’’روحانی لیڈر‘‘ ظاہر کر کے امریکی وزٹ ویزا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم بااثر حلقوں کی مداخلت کے بعد نہ صرف گرفتاری بے اثر ثابت ہوئی بلکہ پورا کیس کمزور کر کے پیش کیا گیا۔
ایف آئی اے نے ویزا فراڈ، جعلسازی، دھوکہ دہی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم گروہ کے خلاف FIR نمبر AHTCA/ACT-28/26 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ 16 جنوری 2026 کو پیش آنے والے واقعے پر 17 جنوری 2026 کو درج کیا گیا، جس کی باضابطہ شکایت امریکی سفارتخانہ اسلام آباد کی نمائندہ لنڈا نگوین نے کی۔
مقدمے کی دستاویزات کے مطابق ملزمان نے امریکہ میں صوفی ازم کی ایک جعلی کانفرنس
“Festival of Sufi Wisdom”
کے نام پر 15 افراد پر مشتمل گروپ کو امریکہ بھجوانے کی کوشش کی۔ اس کانفرنس کے انعقاد کی تاریخ 13 سے 15 فروری 2026 ظاہر کی گئی، جو بعد ازاں مکمل طور پر جعلی ثابت ہوئی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے وزارتِ خارجہ کے جعلی سرکاری دستاویزات تیار کروائے،جعلی ڈیلیگیشن لسٹ مرتب کی
جعلی دعوت نامے تیار کیے،
DS-160 ویزا فارم جعلسازی سے مکمل کیے۔امریکی ایمبسی میں انٹرویو سے قبل درخواست گزاروں کے لیے باقاعدہ کوچنگ کلاسز کا بندوبست کیااس پورے فراڈ میں ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ نامی تنظیم کے جعلی دستاویزات استعمال کیے گئے تاکہ امریکی ویزا حکام کو گمراہ کیا جا سکے۔
ایف آئی اے کے مطابق مقدمہ
Prevention of Smuggling of Migrants Act 2018 کی دفعات 3، 4 اور 7
تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 420 اور 468
کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے درج مقدمے کی دستاویزات کے مطابق الشیخ السید سیف الدین ولد حافظ محمد اسلم عرف عثمان گیلانی پیر صاحب، ساکن ڈیرہ اعوان، تحصیل کوٹ مومن، ضلع سرگودھا،رب نواز ولد محمد خان، ساکن پوسٹ آفس خاص آوپی، تحصیل کوٹ مومن، ضلع سرگودھا،محمد طاہر شبیر ولد غلام شبیر (مزید کوائف زیرِ تفتیش)نامزد ہیں۔متاثرہ قرار دیے گئے افراد میں بلال حسین، رمشا زبیر، محمد اسید اقبال، علی رضا، اویس قمر رانجھا، معظم علی، ارشمان احمد، وقاص اسلم، احسن رضا (سینئر سول جج)، محند ریحان، مدثر نزیر گوندل، محند حسنین شامل ہیں۔
ایف آئی اے نے کیس کی باضابطہ تفتیش ڈائری نمبر 69/2026 کے تحت شروع کر دی ہے، جبکہ نیٹ ورک سے منسلک دیگر سہولت کاروں، مالی لین دین، سرکاری پشت پناہی اور بااثر کرداروں کے تعین کے لیے چھاپے اور تکنیکی تحقیقات جاری ہیں۔
تاہم اصل سوال بدستور موجود ہے کہ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟
یا طاقتور چہرے ایک بار پھر نظامِ انصاف کو یرغمال بنا کر بچ نکلیں گے؟