پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) میں اربوں روپے کے بجٹ کی خورد برد، غیر قانونی تعیناتیوں، خلاف ضابطہ بھرتیوں، عدالتی احکامات کے باوجود عہدوں پر تعینات رہنے والے افسران اور وفاقی محتسب کوئٹہ کے جعلی نوٹیفکیشن کے استعمال کے ذریعے ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کو ہٹانے کے سنگین اور تہلکہ خیز معاملے پر وزیر اعظم پاکستان نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔پی ایس کیو سی اے کا تمام ریکارڈ وزیر اعظم ہاؤس طلب کر لیا گیا ہے جبکہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خالد خان مگسی نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔
وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماتحت پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں پر اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ادارے میں بیٹھے طاقتور مگر متنازع افسران میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس گریڈ 18 کے افسر سید علی محمد بخاری کو معطل کرنے کے احکامات کے ساتھ مزید کارروائی کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں نسیم احمد خان ڈپٹی سیکرٹری آرگنائزیشن اور خوشحال میر ڈائریکٹر ایڈمن پی ایس کیو سی اے کو شامل کیا گیا۔نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ فیصلہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کی جانب سے 18 ستمبر 2024 کی شکایت نمبر WMS QTA/0003832/2024 میں موصول ہونے والی ہدایات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔
تاہم جب تحقیقات ڈاٹ کام نے اس معاملے پر وفاقی محتسب وقاص کاشی سے رابطہ کیا تو انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ جس اتھارٹی نے لیٹر جاری کیا ہے اسی سے رابطہ کریں، میں اس کا جواب دینے کا مجاز نہیں ہوں۔
اس بیان کے بعد جعلی یا مشکوک لیٹر کے ذریعے کارروائی کا معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے جس لیٹر میں ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس سید علی محمد بخاری کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے، انہوں نے گزشتہ برس وفاقی محتسب کے فیصلے پر عمل درآمد کیا تھا اور ان کے خلاف کوئی شکایت بھی موجود نہیں تھی۔
ایسے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ بغیر کسی شکایت کے انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے؟
اب اس بات کی تحقیقات ناگزیر ہو چکی ہیں کہ یہ جعلی لیٹر کیسے جاری ہوا اور اسی بنیاد پر وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا؟




یاد رہے کہ پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں گزشتہ کئی برسوں سے مالی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی تعیناتیوں کا کھیل جاری ہے، جس پر عدالتی احکامات اور ادارے کے نوٹیفکیشن موجود ہونے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
جن افسران کے خلاف کارروائی کے واضح احکامات دیے گئے، وہ آج بھی عہدوں پر براجمان ہیں، جو ادارے میں بدانتظامی اور طاقتور مافیا کی واضح مثال ہے۔
پی ایس کیو سی اے میں نااہل افسران کے خلاف گزشتہ برس 14 مئی کو سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ جاری کیا، جس میں کرپٹ اور نااہل افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا گیا، تاہم آٹھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس عدالتی حکم نامے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
اسی طرح موجودہ ڈائریکٹر ایڈمن خوشحال میر جنہیں خلاف ضابطہ صوبائی بلوچستان حکومت سے وفاق میں ضم کر کے عہدہ تفویض کیا گیا، انہیں ہی پی ایس کیو سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس سید علی محمد بخاری کے مبینہ جعلی نوٹیفکیشن میں انکوائری کمیٹی کا حصہ بنایا گیا، جو شفافیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پی ایس کیو سی اے وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا ایسا ادارہ ہے جو مالی طور پر خود مختار ہے اور مختلف ذرائع سے سالانہ اربوں روپے خود حاصل کرتا ہے، وزارت پر کسی قسم کا بوجھ نہیں، یہی وجہ ہے کہ کرپٹ سسٹم کی نظریں اس ادارے پر جمی ہوئی ہیں۔
اس ضمن میں تحقیقات ڈاٹ کام کے رابطہ کرنے پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خالد خان مگسی نے کہا کہ پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں ہونے والی بدعنوانیوں کا وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے سخت نوٹس لیا ہے اور اس کا مکمل ریکارڈ وزیر اعظم ہاؤس طلب کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم خود اس پورے معاملے کو دیکھیں گے اور جو بھی کرپٹ عناصر ملوث پائے گئے، ان کے خلاف براہ راست وزیر اعظم ہاؤس کے احکامات پر کارروائی ہو گی۔
خالد خان مگسی کا مزید کہنا تھا کہ چاہے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا معاملہ ہو، ڈیپوٹیشن پر غیر قانونی تعیناتیاں ہوں یا کسی جعلی حکم نامے پر افسر کو ہٹانے کا معاملہ اب یہ سب وزیر اعظم ہاؤس کے دائرہ اختیار میں آ چکا ہے اور اصل اتھارٹی وہی ہیں۔
تحقیقات ڈاٹ کام نے اس سلسلے میں وفاقی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شاہد بلوچ اور پی ایس کیو سی اے کی ڈائریکٹر جنرل ضیاء بتول سے بھی رابطے کی کوشش کی، تاہم دونوں حکام نے موقف دینے سے انکار کر دیا۔