Screenshot_2026_0122_184936

سانحہ گل پلازہ کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی ردعمل کو کم کرنے اور بڑھتے ہوئے دباؤ سے نکلنے کے لیے سندھ حکومت نے بالآخر اہم سرکاری عہدوں پر تعینات افسران کے تبادلوں کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی اور سیکرٹری صحت ریحان اقبال بلوچ کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ چیف سیکرٹری سندھ نے کلک پروجیکٹ سے وابستہ رہنے والی سمیرہ حسین کو قائم مقام میونسپل کمشنر کراچی کے اضافی عہدے پر تعینات کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے دوران میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی چار گھنٹے تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچے، مختصر قیام کے بعد بغیر کسی مؤثر اقدام کے واپس روانہ ہو گئے، جس پر شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افضل زیدی کی تعیناتی کے دوران محکمہ صحت سمیت لوکل گورنمنٹ کے دیگر شعبوں میں خلاف ضابطہ مالی معاملات، بجٹ کے اختتام پر سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے نام پر گزشتہ مالی سال کا بجٹ ہڑپ کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے۔

ان الزامات پر نیب کراچی میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ اسی نوعیت کی ایک علیحدہ تحقیق صوبائی اینٹی کرپشن میں بھی جاری ہے۔

ذرائع مزید انکشاف کرتے ہیں کہ افضل زیدی کو عہدے سے ہٹانے کا مقصد ایک طرف سانحہ گل پلازہ پر عوامی غصے کو کم کرنا ہے، جبکہ دوسری جانب نیب کی تحقیقات سے بچنے کے لیے معاملے کا رخ صوبائی اینٹی کرپشن کی جانب موڑ کر مبینہ طور پر کلئیرنس حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جس طرح افضل زیدی مختلف ادوار میں کلک پروجیکٹ کے تحت اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے، اسی طرح موجودہ قائم مقام میونسپل کمشنر کراچی سمیرہ حسین بھی کلک کے مختلف منصوبوں سے وابستہ ہیں، جس پر شفافیت سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔