Screenshot_2025_1204_223248

وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ نے غیر معمولی کارروائی کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی، جبکہ حیران کن طور پر اسی ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو مقدمے میں نامزد بھی کردیا گیا۔

ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ حیدرآباد کے ماتحت کسٹمز انفورسمنٹ سکھر نے مخبرِ خاص کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کے دفتر پر ریڈ کی۔ کارروائی کے دوران ایک ایسی گاڑی برآمد کی گئی جسے کسٹمز حکام نے نان کسٹم پیڈ قرار دیتے ہوئے فوری تحویل میں لے لیا۔

کسٹمز حکام کا دعویٰ ہے کہ گاڑی کا فرانزک معائنہ کرایا گیا جہاں اس کا چیسس نمبر جعلی نکلا، جس کے بعد جلد بازی میں مقدمہ الزام نمبر 01/2026 درج کرلیا گیا۔
حکام کے مطابق مذکورہ گاڑی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر فصیح الرحمن کے زیر استعمال تھی، اسی بنیاد پر انہیں بھی نامزد کردیا گیا۔

تاہم اس کارروائی نے کئی قانونی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری افسران کو مخصوص ایس او پیز کے تحت سرکاری ڈیوٹی میں ایسی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت حاصل ہوتی ہے تو پھر کسٹمز حکام نے کس قانون کے تحت ایک سرکاری دفتر میں داخل ہوکر گاڑی ضبط کی اور براہ راست ایک گریڈ افسر کے خلاف مقدمہ درج کردیا؟۔یہ معاملہ محض اسمگلنگ کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی اختیار کے استعمال اور ممکنہ تجاوز کا بھی بنتا جارہا ہے۔

ادھر حالیہ دنوں میں این سی سی آئی اے سکھر پہلے ہی تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چند روز قبل نوٹس پر طلب کیے گئے تین افراد کو مبینہ حبسِ بے جا میں رکھنے پر مقامی مجسٹریٹ نے خود دفتر پر چھاپہ مارا تھا اور تین میں سے دو افراد کو بازیاب کرالیا تھا، جس کے بعد ادارے کی کارکردگی اور نگرانی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اتنی بڑی کارروائی کے باوجود دونوں اداروں کی اعلیٰ قیادت خاموش ہے۔ این سی سی آئی اے حکام سے متعدد بار رابطہ کیا گیا جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ حیدرآباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر امجد حسین راجپر سے بھی موقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل ہونے تک کسی بھی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مبصرین کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک گاڑی کی ضبطگی نہیں بلکہ وفاقی اداروں کے درمیان اعتماد کے فقدان اور قانونی حدود کے تعین کا امتحان بن چکا ہے، جس کے اثرات آئندہ کارروائیوں اور تحقیقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے