بائیکو پیٹرولیم نے 47 ارب کی لیوی کی چوری تسلیم کر لی ،ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی انکوائری کے بعد خزانے میں ایک ارب روپے کی ادائیگی کردی گئی ،بقیہ رقم کی ادائیگی کے لئے چیکس ،پراپرٹی کو گارنٹی کے طور پر جمع کروادیا ،ایف آئی اے کی انکوائری میں سابق سی ای او کے الیکٹرک تابش گوہر سمیت 13 ملزمان نامزد ہیں ،بیشتر ملزمان کے بیانات قلمبند ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں کیس انکوائری نمبر 03/2023 کے تحت ایم/ایس سائنرگیکو پاکستان لمیٹڈ (سابقہ بائیکو پیٹرولیم پاکستان لمیٹڈ) کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ پیٹرولیم لیوی کی عدم ادائیگی کی انکوائری جاری ہے۔ انکوائری کے مطابق کمپنی نے 2019 سے 2022 کے دوران وفاقی حکومت کو 33.6 ملین روپے کی پیٹرولیم لیوی مبینہ طور پر ادا نہیں کی جبکہ مارچ 2023 تک واجبات بڑھ کر 47 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے۔


اس کیس کے مدعی اشفاق احمد ہیں، جو اس وقت وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن، پالیسی ونگ)، ڈائریکٹوریٹ جنرل (آئل)، پیٹرولیم ہاؤس، اسلام آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر (F&P) کے عہدے پر فائز تھے۔
انکوائری میں 2019 تا مارچ 2023 کے دوران کمپنی کی مینجمنٹ اور بورڈ سے تعلق رکھنے والے 13 افراد کو نامزد کیا گیا تھا، ان میں امیر عباسی، عامر عباسی، اسامہ قریشی، امیر وحید احمد، محمد علی الدین اے، سید حسن زیدی، عظمیٰ عباسی، محمد وصی خان، اختر حسین ملک، سید ارشد رضا، محمد یاسین خان، تابش گوہر اور اسماء شیخ شامل ہیں۔ اس کیس میں تاحال کسی نامزد ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ایف آئی اے کے مطابق سائنر گیکو سابقہ (بائیکو)نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) سے تقریباً 47 ارب روپے بطور پیٹرولیم لیوی وصول کیے مگر یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائی، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
انکوائری کے دوران مدعی کا بیان قلمبند کیا گیا، وزارتِ توانائی سے متعلقہ ریکارڈ، ایس ای سی پی سے کمپنی کے ڈائریکٹرز کا ڈیٹا، آڈٹ و انسپکشن رپورٹس، اور فروخت و واجباتِ پیٹرولیم لیوی سے متعلق دستاویزات حاصل کی گئیں۔
ایف آئی اے نے مئی 2023 میں بینکوں اور متعلقہ اداروں کو ملزمان کے مالی و جائیدادی ریکارڈ کے لیے خطوط جاری کیے۔ اس دوران کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر نے ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے وقت مانگا، تاہم کمپنی نے سندھ ہائی کورٹ کراچی میں سول سوٹ نمبر 724/2023 دائر کر دیا۔ عدالت نے 16 مئی 2023 کے حکم میں تاحکمِ ثانی کوئی جبر یا تادیبی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔
بعد ازاں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے واجبات کی فوری وصولی، نام ای سی ایل میں ڈالنے اور اثاثے منجمد کرنے کی ہدایات دیں، مگر کمپنی کی جانب سے توہینِ عدالت کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے اثاثوں کے منجمد کرنے کے احکامات معطل کر دیے۔
اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی 24 مئی 2023 کو حکم دیا کہ ملزمان کے خلاف کوئی منفی اقدام نہ کیا جائے، جس کے بعد نام PNIL/PCL سے ہٹا دیے گئے۔
کمپنی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم لیوی آرڈیننس 1961 کی شق 3-A(2) کے تحت وصولی کا اختیار کسٹمز یا ایف بی آر کے پاس ہے، ایف آئی اے کے پاس نہیں۔ یہ معاملہ تاحال عدالت میں زیرِسماعت ہے۔
کمپنی نے وزیراعظم آفس، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے حکومتی واجبات کی ادائیگی کے لیے سیٹلمنٹ پلان پیش کیا۔ نومبر 2023 کی میٹنگ کے منٹس کے مطابق ماہانہ قسط 788 ملین روپے کرنے کی تجویز دی گئی۔
20 مارچ 2025 کو SIFC میں ہونے والی میٹنگ میں ڈیڈ آف سیٹلمنٹ (DoS) کی تیاری اور کابینہ کمیٹی آن انرجی (CCoE) سے منظوری کا فیصلہ ہوا۔
22 اپریل 2025 کو سندھ ہائی کورٹ نے مذکورہ سوٹ سول کورٹ منتقل کر دیا، جہاں یہ کیس اب سول سوٹ نمبر 408/2025 کے تحت زیرِسماعت ہے۔
26 جنوری 2026 کو کمپنی نے انکوائری بند کرنے کی درخواست دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ای سی سی اور وفاقی کابینہ کے فیصلوں کے مطابق ایک ارب روپے پہلی قسط کے طور پر ادا کر دیے گئے ہیں، باقی اقساط کے پوسٹ ڈیٹڈ چیکس اور غیر مشروط بینک گارنٹی بھی جمع کرا دی گئی ہے۔
ایف آئی اے نے اس ادائیگی کی تصدیق کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کو خط ارسال کر دیا ہے، جبکہ انکوائری بدستور زیرِسماعت اور جاری ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق معاملہ عدالت میں ہونے کے باعث انکوائری کی تکمیل کا وقت عدالتی فیصلے سے مشروط ہے۔