Screenshot_2025_0709_042714

جامعہ کراچی کی زمین پر پیٹرول پمپ کی تعمیر روکنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں شیخ الجامعہ اور ان کی ٹیم کہ نااہلی پھر عیاں ہوگئی ،سندھ ہائی کورٹ کے بعد سیشن کورٹ میں بھی پیٹرول پمپ کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔

کراچی شرقی عدالتِ کے سینئر سول جج نے بدھ کو میسرز حافظ پٹرول پمپ کی جانب سے دائر دیوانی مقدمہ نمبر 10637/2025 میں اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے تمام فریقین کو اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت دے دی ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق مدعی سید فرخ متین نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ڈیھ گجرو، سیکٹر 22، اسکیم 33، گلشنِ اقبال، کراچی ایسٹ میں واقع نان کلاس ون اراضی کے قانونی مالک ہیں۔ تمام متعلقہ محکموں سے این او سیز حاصل کرنے کے بعد وہاں پی ایس او پٹرول پمپ نصب کیا گیا جو باقاعدہ طور پر فعال تھا، تاہم ڈپٹی کمشنر نے 19 جنوری 2026 کو این او سی معطل کرتے ہوئے پٹرول پمپ سیل کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ پی ایس او نے اس سیلنگ آرڈر کو سندھ ہائی کورٹ کراچی میں آئینی درخواست CPD نمبر 339/2026 کے ذریعے چیلنج کیا، جس پر ہائی کورٹ نے 26 جنوری 2026 کو سیلنگ آرڈر کے نفاذ کو معطل کر دیا۔

سماعت کے دوران عدالت کے روبرو مختیارکار گلشنِ اقبال ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مذکورہ اراضی ابتدا میں لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ حکومتِ سندھ کی جانب سے میسرز علی گوہر کے نام الاٹ کی گئی تھی، جس کی لیز ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے بھی منظور کی۔ بعد ازاں 2010 میں اراضی کو ریگولرائز کیا گیا اور مختلف ریونیو انٹریز کے بعد اب ولیج فارم-II کی انٹری نمبر 61 مورخہ 24 جنوری 2023 کے مطابق 1777 مربع گز اراضی سید فرخ متین کے نام درج ہے، جو انہوں نے رجسٹرڈ کنوینس ڈیڈ نمبر 1205 مورخہ 8 فروری 2016 کے ذریعے خریدی تھی۔

مختیارکار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اراضی کی ملکیت پر کوئی تنازع نہیں، تاہم جامعہ کراچی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پٹرول پمپ ان کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے، جس کا فیصلہ ڈیمارکیشن کے بعد ہی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے سروے سپرنٹنڈنٹ کراچی سے رجوع کر لیا ہے۔

معزز عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ جب ریونیو حکام مدعی کی ملکیت سے انکار نہیں کر رہے اور سندھ ہائی کورٹ پہلے ہی سیلنگ آرڈر معطل کر چکی ہے تو فریقین کو اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت دینا مناسب ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ہائی کورٹ سندھ کے حتمی فیصلے تک تمام فریقین موجودہ صورتحال برقرار رکھیں۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 11 فروری 2026 کو نوٹس کی تعمیل، دیگر مدعا علیہان کے تحریری بیانات اور آرڈر 39 رولز 1 اور 2 سی پی سی کے تحت دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

اس سے قبل 26 جنوری 26 کو سندھ ہائی کورٹ کراچی نے پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (PSO) کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی جانب سے پیٹرول پمپ کو سیل کرنے کا اقدام معطل کر دیا ہے۔
یہ حکم آئینی درخواست نمبر D-339/2026 میں جاری کیا گیا۔

عدالت نے فوری نوعیت کی درخواست منظور کرتے ہوئے معاملہ وقتی طور پر ملتوی کر دیا، جبکہ استثنیٰ سے متعلق درخواست تمام قانونی اعتراضات کے ساتھ منظور کر لی گئی۔

درخواست گزار پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ 19 جنوری 2026 کو جاری کیا گیا این او سی منسوخی کا خط غیر قانونی، کالعدم اور اختیارِ سماعت سے ماورا ہے، کیونکہ متعلقہ اتھارٹی کو 12 جون 2025 کو جاری کردہ این او سی واپس لینے یا منسوخ کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔

پی ایس او نے عدالت سے استدعا کی کہ 22 جنوری 2026 کو پیٹرول پمپ کو سیل کرنے کا اقدام بدنیتی، غیر قانونی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے، لہٰذا فوری طور پر پیٹرول اسٹیشن کو ڈی سیل کر کے کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت میں پیش کیے گئے دلائل
پی ایس او کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو وفاقی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے اور ملک بھر میں خدمات انجام دے رہی ہے۔درخواست گزار نے متعلقہ زمین 25 مارچ 2025 کو باقاعدہ رجسٹرڈ سب لیز ڈیڈ کے ذریعے حاصل کی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تمام مجاز اداروں کی جانب سے تصدیق کے بعد، بشمول ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ، پیٹرولیم رولز 1937 کے سیکشن 115(3) کے تحت این او سی 12 جون 2025 کو جاری کیا گیا، جس کے بعد محکمہ ایکسپلوزِوز سے بھی منظوری حاصل کی گئی۔ ان قانونی اجازت ناموں کی بنیاد پر پی ایس او نے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے پیٹرول پمپ قائم کیا جو عوامی سہولت فراہم کر رہا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق این او سی جاری ہونے اور اس پر عمل درآمد کے بعد متعلقہ اتھارٹی functus officio ہو چکی تھی اور اسے این او سی واپس لینے یا منسوخ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔

وکیلِ پی ایس او نے مؤقف اختیار کیا کہ این او سی کی منسوخی اور پیٹرول پمپ کی سیلنگ بغیر کسی شوکاز نوٹس اور سنے جانے کا موقع دیے بغیر کی گئی، جو قدرتی انصاف کے اصول Audi Alteram Partem کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ منسوخی کا فیصلہ محض ایک غیر مصدقہ اور مبہم خط کی بنیاد پر کیا گیا، جبکہ زمین کی ملکیت سے متعلق کوئی قانونی انکوائری، حد بندی یا ٹائٹل کا تعین نہیں کیا گیا، اور فریق نمبر 6 کی ملکیت بدستور ریکارڈ میں موجود اور غیر متنازع ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سرکاری اداروں نے خود این او سی جاری کر کے پی ایس او کو سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ اقدامات آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہیں، جن کے ذریعے درخواست گزار کو اس کے جائز کاروبار اور جائیداد کے حق سے محروم کیا گیا، جس سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔

عدالت نے اس مرحلے پر یہ قانونی نکات غور کے لیے طے کیے کہ این او سی جاری کرنے کے بعد متعلقہ اتھارٹی کو اسے منسوخ کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل تھا یا وہ functus officio ہو چکی تھی؟
آیا شوکاز نوٹس اور سماعت کے بغیر این او سی منسوخی اور پیٹرول پمپ کی سیلنگ آئینی و قانونی تقاضوں اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں ہے؟

عدالت نے تمام فریقین اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت کی تاریخ دفتر مقرر کرے گا۔تاہم حتمی فیصلے تک 19 جنوری 2026 کو جاری کردہ سیلنگ کا حکم معطل رہے گا۔

دوسری جانب ذرائع کا دعوی ہے کہ 19 جنوری سے قبل پیٹرول پمپ انتظامیہ کے افراد سے جامعہ کراچی کے کچھ افسران کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا کہ وہ پیٹرول پمپ پر سروس اسٹیشن اور پنکچر کی دکان کا ٹھیکہ انہیں فراہم کریں جس پر انتظامیہ نے کہا کہ وہ پاکستان اسٹیٹ آئل سے رابطہ کریں اس دوران 19 جنوری کو پیٹرول پمپ کو سیل کرنے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے احتجاج شروع ہوگیا اور پیٹرول پمپ کو سیل بھی طلبہ کے زریعے کروایا گیا اور کمشنر آفس کا نمائندہ سامنے نہیں آیا تھا۔