فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی انکوائری نے ایک غیر معمولی اور حساس رخ اختیار کرلیا ہے جہاں مبینہ طور پر سندھ پولیس کے ایک ریٹائرڈ ایس پی کے دباؤ پر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے سابق وائس چانسلر اور دو ریٹائرڈ پرنسپلز کو طلب کرلیا گیا۔

انکوائری نمبر 95/2025 میں ڈاؤ یونیورسٹی کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2005 سے 2011 کے درمیان تعلیم حاصل کرنے والی خاتون ڈاکٹر نے مبینہ طور پر باقاعدہ کلاسز لئے بغیر ایم بی بی ایس مکمل کیا اور ان کی ڈگری مشکوک ہے۔
واضح رہے کہ سندھ پولیس کے سابق ایس پی فیصل نور صدیقی نے اپنے سالے نبیل شرف کی طلاق کے بعد خاتون ڈاکٹر اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دیں۔ اس حوالے سے لندن میں مقیم ڈاکٹر صدف شمیم نے لندن میٹروپولیٹن پولیس کو تحریری شکایت دی کہ سابق پولیس افسر نے کراچی میں ان کے والدین سمیت گھر والوں کو مختلف اوقات میں دھمکیاں دیں۔
متاثرہ خاندان نے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی انکوائری کے بعد موجودہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور سے رابطہ کیا، جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی سے متاثرہ خاندان کا رابطہ کروایا اور انکوائری کے خلاف ایف آئی اے کراچی میں تحریری شکایت بھی جمع کرائی گئی۔
سندھ پولیس سے ڈیپوٹیشن پر ایف آئی اے میں تعینات انسپکٹر شاہد حسین نے ڈاؤ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور دو سابق ریٹائرڈ پرنسپلز سے سوالات کیے کہ 2004 سے 2011 کے دوران صدف شمیم نامی طالبہ نے بغیر کلاسز لئے امتحانات پاس کیے لہٰذا انرولمنٹ کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
ڈاؤ یونیورسٹی انتظامیہ نے جواب دیا کہ ریکارڈ پرانا ہے اور اسے حاصل کرنے میں وقت لگے گا، پہلے طالبہ کا سفری ریکارڈ منگوالیا جائے تو حقیقت واضح ہوسکتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق انسپکٹر شاہد حسین نے مبینہ طور پر انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ تحریری طور پر لکھیں کہ طالبہ غیر حاضر رہی، لیکن یونیورسٹی نے ایسا لکھنے سے صاف انکار کردیا۔
اسی دوران انسپکٹر شاہد حسین نے ڈاکٹر صدف شمیم کو دو نوٹسز ارسال کیے جن کے جواب میں ان کی وکیل نے تحریری جواب جمع کرا دیا اور انکوائری کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے فوری بند کرنے کی استدعا کی۔


2 فروری 2026 کو وکیل صوفیہ سعید اینڈ ایسوسی ایٹس نے ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر صدف شمیم اس وقت پاکستان میں موجود نہیں تھیں اسی لیے طلبی پر پیش نہیں ہوسکیں اور نوٹس بھی اصل پتے کے بجائے رشتہ دار کے ذریعے ملا۔
خط کے مطابق ڈاکٹر صدف شمیم نے ایم بی بی ایس ڈگری ڈاؤ یونیورسٹی سے تمام قانونی تقاضے پورے کرکے حاصل کی اور 2004 سے 2011 کے دوران تمام پروفیشنل امتحانات خود دے کر پاس کیے۔
مزید بتایا گیا کہ ازدواجی مسائل اور پہلے بچے کی پیدائش کے بعد طبی پیچیدگیوں کے باعث ڈاکٹروں کے مشورے اور یونیورسٹی کی اجازت سے 2007 میں ایک سال کے لیے تعلیم عارضی طور پر روکنا پڑی جس کے باعث ڈگری پانچ کے بجائے چھ سال میں مکمل ہوئی۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے وفاقی جرائم کی تحقیقات کرتا ہے جبکہ ڈاؤ یونیورسٹی سندھ حکومت کے چارٹر کے تحت قائم ادارہ ہے اور ڈاکٹر نے کسی وفاقی یا صوبائی حکومت سے کوئی مالی فائدہ بھی حاصل نہیں کیا، لہٰذا یہ معاملہ ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
خط میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ شکایت کنندہ دراصل سابق شوہر نبیل شرف ہیں جنہوں نے ذاتی معلومات، پاسپورٹ اور سفری ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کی۔ وکیل کے مطابق طلاق 2019 کے بعد ذاتی دشمنی اس شکایت کی اصل وجہ معلوم ہوتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ سابق شوہر اب بھی ڈاکٹر صدف شمیم کا پاکستانی پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جو پاسپورٹ ایکٹ 1974 کی دفعہ 61(g) کے تحت جرم ہے۔ وکیل نے ایف آئی اے سے انکوائری بند کرنے اور آئندہ خط و کتابت براہ راست دفتر کو بھیجنے کی درخواست کی۔
ایف آئی اے میں تحریری شکایت اعجاز شیخ نامی شخص نے جمع کروائی ہے۔ جب انسپکٹر شاہد حسین سے پوچھا گیا کہ اعجاز شیخ کا ڈاکٹر صدف شمیم سے کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ انہیں نہیں جانتے اور انکوائری ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، ریکارڈ آنے کے بعد فیصلہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر صدف شمیم کے سابق شوہر نبیل شرف کے بہنوئی سابق ایس پی فیصل نور صدیقی رہے ہیں جبکہ انسپکٹر شاہد حسین بھی سندھ پولیس سے ڈیپوٹیشن پر ایف آئی اے آئے ہیں، اسی بنیاد پر مبینہ دباؤ کا تاثر پیدا ہوا ہے۔
ڈاکٹر صدف شمیم نے سابق ایس پی فیصل نور صدیقی کے خلاف لندن میٹروپولیٹن پولیس کو تحریری شکایت بھی جمع کرائی ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ کراچی میں ان کے والدین اور اہل خانہ کو مختلف مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
فیصل نور صدیقی سے رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں تاہم رابطہ نہ ہوسکا جبکہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی نے بھی اس حوالے سے مؤقف دینے سے گریز کیا۔
کیا یہ واقعی ایک تعلیمی ڈگری کی تحقیقات ہے یا ایک گھریلو تنازعہ وفاقی ادارے تک پہنچ گیا؟
اس سوال کا جواب اب ایف آئی اے کی آئندہ کارروائی ہی دے گی۔