جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کی بھاگ دوڑ میں شامل ہونے کے لئے سندھ حکومت ،ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ میں موجود مضبوط لابی میں سرد جنگ عروج پر پہنچ گئی ہے ،موجودہ وائس چانسلر خالد عراقی کو ایکسٹینشن ملنے کی امید بھی دم توڑ گئی ہے ،موجودہ انتظامیہ کی نااہلی کے باعث سندھ حکومت نے بیوروکریسی میں سے وائس چانسلر کے انتخاب کا فیصلہ کیا ہے،موجودہ وائس چانسلر اپنے ایسے دوست کو اپنے عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں جو خلاف ضابطہ 8 برس سے زائد یونیورسٹی کے معاملات سے باہر رہے ہوں ۔
وائس چانسلر خالد عراقی کی اہلیت پر ان کی تعیناتی سے قبل ہی عدالت میں متفرق درخواستیں دائر کی جس میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر سے براہ راست پروفیسر بننے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اگر اس صورتحال میں اگر سرد جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو کیا جسٹس جہانگیری کی طرح جامعہ کراچی کے اساتذہ ،ایڈمن افسران کی اسناد کی چھان پھٹک ہوگی ؟

جامعہ کراچی میں رواں برس وائس چانسلر کی تبدیلی کا امکان ہے موجودہ وائس چانسلر خالد عراقی گزشتہ برس سے کوششوں میں مصروف ہیں کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جس طرح ایکسٹینشن ملی ہے انہیں بھی دی جائے اس کے لئے انہوں نے اعلی حلقوں کو ان کے لئے دی جانے والی خدمات بھی گنوانے کی کوشش کی ہے تاہم ایکسٹینشن پر انہیں جھنڈی دکھا دی گئی ہے جس کے بعد انہوں نے مختلف حلقوں میں اپنے قریبی دوست ڈاکٹر شبیب الحسن جو 8 برس سے زائد خلاف ضابطہ (FSL)پر رہے اور اس دوران ہمدرد یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے کو جامعہ کراچی میں آتے ہی ایوننگ پروگرام کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ۔



واضح رہے کہ موجودہ وائس چانسلر خالد عراقی جب اپنے عہدے پر مستقل ہوئے اس سے قبل جامعہ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف میرین سائنسز سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر احسان الٰہی نے جامعہ کراچی سمیت یونیورسٹی بورڈ ایجوکیشن ،سندھ حکومت ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،گورنر سندھ ،سیکرٹری جامعات بورڈرز،سیںنڈیکیٹ کے اراکین کو متعدد درخواستیں ارسال کیں اور عدالت سے رجوع کیا جس میں بیشتر پٹیشنز جامعہ کراچی کے وکیل کی عدم موجودگی کے باعث ایک برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود کارروائی شروع نہیں ہوئی ہے ۔
اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر احسان الٰہی نے اپنی درخواست میں الزام عائد کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی بطور پروفیسر اہلیت کو چیلنج بھی کیا اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن وائس چانسلر اپنی مدت ملازمت کے دوران سے تاحال اس چیلنج کو قبول بھی نہیں کیا اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے حربے استعمال کرتے رہے ہیں ۔
ڈاکٹر احسان الٰہی کی اس درخواست کے مطابق ڈاکٹر خالد محمود عراقی کو 6 جنوری 1990 کو جامعہ کراچی کے شعبہ سیاسیات میں بطور لیکچرار (بی پی ایس-17) تعینات کیا گیا بعد ازاں 16 جولائی 1995 کو انہیں شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن منتقل کیا گیا جبکہ 4 مارچ 1998 کو انہیں اسسٹنٹ پروفیسر پبلک ایڈمنسٹریشن کے عہدے پر ترقی دی گئی، جس کی تفصیل ان کے سی وی میں درج ہے۔


درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عراقی نے 8 مارچ 2008 کو براہ راست اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے سے پروفیسر کی اسامی کیلئے درخواست دی۔ یہ اسامی 23 جنوری 2008 کے اشتہار کے ذریعے روزنامہ ڈان کراچی (27 جنوری 2008، اتوار) میں شائع ہوئی تھی جبکہ بعد ازاں 11 فروری 2008 کا تصحیحی اشتہار 16 فروری 2008 کو شائع ہوا۔ تمام آسامیوں کیلئے درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 مارچ 2008 تک بڑھا دی گئی تھی۔
ڈاکٹر احسان الٰہی کی درخواست میں مزید بتایا گیا کہ اشتہار کے مطابق پروفیسر کے امیدوار کیلئے کم از کم 12 تحقیقی اشاعتیں (جن میں سے 3 گزشتہ پانچ برس میں) ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تسلیم شدہ ہونا لازمی تھیں۔درخواست گزار کے مطابق ڈاکٹر عراقی نے اپنے سی وی میں 25 تحقیقی اشاعتیں ظاہر کیں جن میں سے بیشتر صرف “accepted” تھیں جبکہ حقیقی طور پر صرف 5 اشاعتیں شمار کی جاسکتی تھیں اور وہ بھی ایچ ای سی سے تسلیم شدہ نہیں تھیں۔ اس طرح وہ مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔
ڈاکٹر احسان الٰہی کی اس درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈاکٹر عراقی نہ صرف پروفیسر بلکہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتے تھے، اس کے باوجود ان کی درخواست پر غور کیا گیا جو اشتہار کی شرائط اور یونیورسٹی کوڈ کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور اسے فوری طور پر مسترد ہونا چاہیے تھا۔
درخواست گزار ڈاکٹر احسان الٰہی کا اس وقت بھی اور آج بھی یہ مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی بطور پروفیسر تقرری کا غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، اور اگر وہ نااہل قرار پائیں توانہیں دوبارہ اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر واپس بھیجا جائے،پروفیسر اور وائس چانسلر کی حیثیت سے حاصل تمام مالی فوائد واپس لئے جائیں ان کے دور میں جاری کئے گئے انتظامی احکامات کا جائزہ لے کر ضرورت پڑنے پر منسوخ کئے جائیں ان کے ساتھ مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر بننے کے بعد خالد عراقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،سندھ حکومت کے احکامات نظر انداز کرتے رہے اور گزشتہ برس جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری مشکوک قرار دئیے جانے کے بعد سندھ حکومت کے احکامات براہ راست مسترد کرنے لگے جس پر سندھ حکومت کی اعلی شخصیات نے بھی وائس چانسلر سے دوری اختیار کرلی ہے اور اس لئے سندھ حکومت کی خواہش ہے کہ وہ کسی بیوروکریٹ جیسے ماضی میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر جمیل جالبی کی طرز پر کوئی پی ایچ ڈی بیورو کریٹ تلاش کرئے یا کسی گریجویشن پاس بیوروکریٹ افسر کو تعینات کردیا گیا اور انہوں نے آتے ہی جامعہ کراچی کے اساتذہ اور ایڈمن افسران کی ڈگریوں کی تصدیق جسٹس جہانگیری کیس کی طرح کردی تو صورتحال کیا رخ اختیار کرئے گئی۔
دوسری جانب وائس چانسلر خالد عراقی اور ان سے منسلک جامعہ کراچی کے اساتذہ و افسران جس میں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے انہوں نے بھی جامعہ کراچی میں آنے والے نئے وائس چانسلر کے لئے لابی مضبوط کرنے کی کوشش شروع کردی ہے تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں زیادہ امکان ہے کہ سندھ حکومت کے نمائندے کو اول ترجیح دینے کے امکانات زیادہ ہیں۔
یوں جامعہ کراچی کی وائس چانسلر شپ اب محض ایک تعلیمی تقرری نہیں رہی بلکہ سیاسی اثرورسوخ، عدالتی چیلنجز اور ادارہ جاتی طاقت کی بڑی کشمکش میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔