Screenshot_2025_1204_223248

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اندر ایک بڑی اور غیر معمولی انتظامی تبدیلی سامنے آگئی ہے جہاں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے آنے والے فیز ون اور فیز تھری کے مجموعی طور پر 115 افسران کو کنٹریکٹ میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے ادارے کے اندر بے چینی، قانونی پیچیدگیاں اور پالیسی سطح پر سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

فیز ون کے 35 افسران پہلے ہی عدالت سے رجوع کرچکے ہیں جس کے باعث انہیں عارضی طور پر این سی سی آئی اے ہیڈکوارٹر میں برقرار رکھا گیا ہے، تاہم فیز تھری کے 79 افسران کو واضح طور پر گھر جانے کی ہدایت دے دی گئی۔ اندرونی حلقے اس اقدام کو محض کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونا نہیں بلکہ ادارے کی “ری اسٹرکچرنگ” قرار دے رہے ہیں۔اسی دوران ایک اور اہم اور حیران کن پیش رفت سامنے آئی۔

ڈی جی این سی سی آئی اے سید خرم علی (PSP) نے دسمبر 2025 میں وزارت داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا جس میں درخواست کی گئی کہ وزارت دفاع کے ذریعے پاکستان آرمی کے ٹیکنیکل ونگ کے سائبر ایکسپرٹس کو دو سال کے لئے این سی سی آئی اے کے سپرد کیا جائے۔ حکومتی منظوری کے بعد اب 9 فوجی سائبر ماہرین مختلف زونز میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔

مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سائبر جرائم، ڈیجیٹل فراڈ، آن لائن مالیاتی اسکیمز اور پیچیدہ ہیکنگ حملوں نے صورتحال کو حساس بنا دیا ہے، جبکہ این سی سی آئی اے کو جدید تکنیکی مہارت اور فوری آپریشنل صلاحیت درکار ہے۔

دستاویز کے مطابق تعیناتیوں کی تقسیم درج ذیل ہوگی ان میں
2 ٹیکنیکل افسران ہیڈکوارٹر اسلام آباد
2 ٹیکنیکل افسران لاہور زون
2 ٹیکنیکل افسران کراچی زون
1 ٹیکنیکل افسر پشاور زون
1 ٹیکنیکل افسر کوئٹہ زون میں تعینات ہوں گے۔

ان افسران کی ذمہ داریوں میں ڈیجیٹل فارنزک، سائبر انٹیلی جنس، نیٹ ورک سکیورٹی، ہیکنگ ٹریسنگ اور حساس تحقیقات شامل ہوں گی جبکہ ان کی تنخواہیں، الاؤنسز اور انتظامی اخراجات سرکاری قواعد کے مطابق این سی سی آئی اے برداشت کرے گا۔

ڈی جی این سی سی آئی اے نے اپنے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا کہ ان ماہرین کی شمولیت سے نہ صرف ادارے کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کے سائبر اسپیس کے تحفظ اور پیچیدہ سائبر کرائم کیسز کی تحقیقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔

سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی ادارے اب سائبر خطرات کو روایتی جرائم نہیں بلکہ قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اسی لئے پہلی مرتبہ تکنیکی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

تاہم سوال بدستور موجود ہے کہ
کیا یہ قدم واقعی سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے ہے یا این سی سی آئی اے کے اندر ایک خاموش ادارہ جاتی تبدیلی شروع ہوچکی ہے۔؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے