کراچی کی مرکزی شاہراہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع تاریخی جنرل پوسٹ آفس (GPO) کی عمارت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی کا دفتر قائم ہو چکا ہے، جہاں سے اب نیب کی تمام کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔ تاہم اس عمارت کے حصول سے متعلق معاہدے کی نوعیت، مالیت اور شرائط پر اب سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
تحقیقات ڈاٹ کام کی جانب سے رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت پاکستان انفارمیشن کمیشن کے ذریعے قومی احتساب بیورو اور محکمہ ڈاک سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا جنرل پوسٹ آفس کی عمارت نیب نے خریدی ہے یا کرایے پر حاصل کی ہے، معاہدہ کن شرائط پر ہوا، کتنی مالیت طے پائی اور کرایہ کون، کتنا اور کب تک وصول کرے گا۔

اس درخواست کے جواب میں قومی احتساب بیورو نے پاکستان انفارمیشن کمیشن میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپیل کو قانونی طور پر ناقابلِ سماعت قرار دینے کی استدعا کر دی ہے، جبکہ محکمہ ڈاک کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن میں دائر اپیل نمبر 5185-12/2025 میں نیب نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے طلب کی گئی معلومات قانون کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتیں اور ان کی فراہمی پر واضح قانونی پابندیاں عائد ہیں۔
نیب کے تحریری جواب کے مطابق رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19-اے کے تحت نجی، خفیہ اور فریقین کے مابین اندرونی نوعیت کی دستاویزات عوامی ریکارڈ کے زمرے میں شامل نہیں ہوتیں۔ ایسے معاملات، خصوصاً کسی ادارے کے اندرونی امور سے متعلق ہوں، تیسری پارٹی کو فراہم کرنا قانوناً ممنوع ہے۔
نیب کے مطابق اپیل گزار کا اس معلومات میں کوئی براہِ راست قانونی مفاد بھی موجود نہیں۔
تحریری جواب میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اپیل گزار نے رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن رولز 2019 کے رول 8(2) کے تحت درکار لازمی سرٹیفکیشن جمع نہیں کرائی، جو اپیل دائر کرنے کی بنیادی شرط ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ اس لازمی قانونی تقاضے کی عدم تکمیل اپیل کو ازخود ناقص اور ناقابلِ سماعت بنا دیتی ہے۔
مزید برآں نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیل میں مانگی گئی معلومات ایسی نوعیت کی ہیں جن کے افشا پر قانون صراحتاً پابندی عائد کرتا ہے۔ سیکشن 7، شق (g) کے تحت خفیہ اور نجی لین دین یا معاملات سے متعلق دستاویزات استثنیٰ کے زمرے میں آتی ہیں، لہٰذا اپیل گزار کو ایسی معلومات طلب کرنے یا حاصل کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔
نیب نے اپیل کے متن میں دیے گئے دونوں پیراگراف کو غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیکشن 16(f) کا حوالہ بھی اس معاملے میں لاگو نہیں ہوتا کیونکہ مطلوبہ ریکارڈ عوامی نوعیت کا نہیں۔
آخر میں قومی احتساب بیورو نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ اپیل نمبر 5185-12/2025 کو لاگت کے ساتھ مسترد کیا جائے کیونکہ یہ اپیل نہ صرف قانون کے منافی ہے بلکہ ناقص قانونی بنیادوں پر دائر کی گئی ہے۔